وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کا عالمی یوم سرطان کے موقع پر خطاب

جناب خواجہ سلمان رفیق مشیر حکومت پنجاب‘ جناب ڈاکٹر رمیش کمار رکن قومی اسمبلی‘ جناب شہاب رضوی کنٹری ڈائریکٹر نوارٹس پاکستان‘جناب بابر حیات تارڑ‘ سپیشل سیکرٹری محکمہ صحت ‘ قابل احترام وائس چانسلر ز‘ پرنسپلز‘ فزیشنز‘ اساتذہء کرام‘ سپیشلسٹ صاحبان اور خواتین و حضرات!
السلام و علیکم!
جب میں اس تقریب کیلئے آرہا تھا تو مجھے یہاں پڑھنے کیلئے ایک لکھی ہوئی تقریر دی گئی مگر میں سمجھتا ہوں کہ آپ جیسے پڑھے لکھے حضرات سے مخاطب ہوتے ہوئے اور کینسر کے بارے میں گفت گو کرتے ہوئے مجھے زبانی بات کرنی چاہئے۔کینسر کس قدر موذی اور ہولناک بیماری ہے‘ اس کے بارے میں وہی جان سکتے ہیںجو اس کا شکار ہوئے یا پھر اُن کا خاندان‘ جس نے مریض کی اذیت کے ساتھ ساتھ مالی اور ذہنی پریشانی کا سامنا کیا۔ یہ ’’جس تن لاگے سو تن جانے‘‘ والی بات ہے۔ میں خود 2003ء میں اس بیماری کا شکار رہ چکا ہوں لیکن اللہ کی رحمت ساتھ تھی چنانچہ میں اُن خوش نصیب مریضوں میں سے ہوں جو کینسر سے صحت یاب ہوئے۔ یہاں بیٹھے ہوئے ماہرین بہتر جان سکتے ہیں کہ میں جس کینسر کا شکار ہوا اُس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ میرے اپینڈکس کے ساتھ ایک غدود تھی جس کا علاج جدہ کے ایک ہسپتال میں ہوا۔ وہ ایک مصری ڈاکٹر تھا اُس نے کہا کہ کچھ زیادہ خطرے والی بات نہیں‘ آپ کے اپینڈکس پر ایک غدود بن گئی ہے جس کو ’’کیو ہول سرجری‘‘ کے ذریعے ہٹایا جائے گا۔ آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے اور شام تک اپنے گھر جا سکیں گے۔ یہ سن کر مجھے اپنی خوش قسمتی پر رشک آنے لگا۔ ڈاکٹر نے آپریشن کیا اورغدود کی سرجری کی پھر اُس نے ماسک ہٹاتے ہوئے مجھے کہا ’’آپ کل تک گھر جا سکتے ہیں‘‘۔ تاہم جب آپریشن ہو چکا تو میں نے محسوس کیا کہ میں ٹھیک نہیں ہوں۔ میں نے بہت سے ڈاکٹروں کو آپس میں بات چیت کرتے ہوئے دیکھا تو اُن کے چہرے پڑھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ صورت حال ایسی اچھی نہیں جیسے مجھے آپریشن سے پہلے بتائی گئی تھی۔ خیر! میں سو گیا۔ مجھے یاد ہے کہ پانچ‘ چھ روز کے بعد مجھے جدہ میں گھر لے جایا گیا اور یہ بھی بتایا گیا کہ یہ خطرناک رسولی تھی۔ پھر میں نیو یارک چلا گیا‘ وہاں ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ بغیر تشخیص (بائیو آپسی) کے آپریشن کروا کر آپ نے بدترین غلطی کی ہے اور ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ کینسر والی غدود پوری طرح سے ہٹائی بھی گئی ہے کہ نہیں۔ ممکن ہے کہ کچھ خطرناک مواد باقی رہ گیا ہو اور اس کا کوئی چھوٹا موٹا ذرہ خون میں داخل ہو کر رگوں میں دوڑتا پھرتا ہو۔ مجھے ایک مرتبہ پھر تشخیص کے طویل عمل سے گزرنا پڑا جن میں نیو کلیئر ٹیسٹ بھی شامل تھا اور اللہ ہی جانتا ہے کہ مجھے کِن کِن مراحل سے گزارا گیا۔ ایک بار پھر آپریشن ہوا۔ میرے امریکی معالج ڈاکٹر بران‘ وقت کے بے حد پابند تھے۔ وہ روزانہ صبح سات بجے مجھے دیکھنے کے لئے کمرے میں آیا کرتے۔ آپریشن کا تیسرا چوتھا روز تھا جب ڈاکٹر بران نے مجھ سے کہا ’’مسٹر شریف! مجھے آپ سے کچھ بات کرنا ہے‘‘ تب تک میری آنت کام نہیں کر رہی تھی اور مجھے نالیوں کے ذریعے خوراک دی جاتی تھی۔ میری بیوی اور بیٹی بھی پاس موجود تھیں۔ میں نے ڈاکٹر سے پوچھا ’’جی بتائیے کیا کہنا چاہتے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر نے‘ جیساکہ امریکیوں کا مزاج ہے‘ مزاح میں لپٹی کچھ گول مول سی بات کی۔ تب میری بیٹی نے کہا ’’کیا آپ وضاحت سے بات کر سکتے ہیں؟‘‘ ڈاکٹر نے مُسکراتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کے والد شاید ٹھیک ہو جائیں گے‘‘
خواتین و حضرات! یہ ایک طویل کہانی ہے۔ تاہم میں کینسر جیسی موذی بیماری کے پنجوں سے بچ نکلا اور مجھے یاد ہے کہ تب میرے علاج پر پاکستانی روپوں میں 40،50 لاکھ روپے کا خرچ آیا۔ تب ڈالر بھی سستا تھا آج کے حساب سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ تقریباً ایک کروڑ روپے کے لگ بھگ۔ اس مرحلے سے گزرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ بیماری کس طرح مریض کی جان لینے کے ساتھ ساتھ پورے خاندان کو تباہ و برباد کر سکتی ہے۔ کوئی ایسا شخص جو اپنے خاندان کا واحد کفیل ہو‘ اگر اس بیماری کا شکار ہو جائے تو اس کے چلے جانے سے اُس خاندان پر مرتب ہونے والے اثرات کا کیا آپ اندازہ کر سکتے ہیں؟ اور پھر اُس کے علاج کی صورت میں اُٹھنے والے اخراجات جو عموماً مکان‘ جائیداد بیچ کر یا پھر اُدھار کی رقم سے پورے کئے گئے ہوتے ہیں اُس خاندان کو عمر بھر کے لئے مقروض اور بدحال بنا دیتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ اس سارے معاملے میں ریاست کہا ںہے ۔ ریاست کا وہ کردار کدھر گیا جو عوام کی خیر خواہی اور دیکھ بھال کیلئے مختص ہوا کرتا ہے۔ منتخب لوگوں کی وہ ذمہ داری کیا ہوئی جن کا وعدہ کرکے وہ ووٹ لیا کرتے ہیں۔ یہ ہیں وہ سوالات جن پر میں اُس وقت سے غور و خوض کر رہا ہوں جب سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس موذی مرض سے میری جان چھڑائی۔پھر جب 2010ء میں جنوبی پنجاب میں سیلاب آیا۔ خواتین و حضرات! پچھلے 100 برس کے دوران یہ بدترین سیلاب تھا۔ اس کے دوران میں رحیم یار خان‘ راجن پور‘ مظفر گڑھ کے اضلاع میں جب روزانہ دورے کرتا کبھی ہیلی کاپٹر‘ کبھی کار‘ کبھی موٹر سائیکل پر اور کبھی پیدل تو مجھے پانی میں ڈوبے ہوئے لاکھوں لوگوں کو دیکھ کر یہ خیال آیا کہ شاید انہی کی خدمت کے لئے اللہ نے مجھے نئی زندگی بخشی ہے۔ وہ لوگ جن کے گھر پانی میں بہہ گئے‘ جن کی فصلیں اور جانور پانی کے ظالم ریلے بہا کر لے گئے اور جن کے درجنوں پیارے ان سے ہمیشہ کیلئے بچھڑ گئے۔پھر 2011ء میں پنجاب اور بطور خاص لاہور ڈینگی کا نشانہ بنا۔ اور آپ جانتے ہیں کہ یہ ڈینگی کا ہولناک ترین حملہ تھا۔ لاہور اس قدر بڑے پیمانے پر کبھی کسی وباء کا شکار نہیں ہوا۔ اللہ معاف کرے‘ سری لنکن و دیگر ماہرین کہتے تھے کہ کم از کم 25 ہزار لوگ ڈینگی کا شکار ہوں گے لیکن میں آپ کو‘ اپنے ڈاکٹرز کو‘ نرسوں کو‘ ماہرین کو‘ سیاست دانوں کو‘ بیورو کریٹس کو سبھی کو مبارک باد دینا چاہتا ہوں کہ ہم نے مل کر اس حملے کا مقابلہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی رحمتوں سے ہم کو نوازا۔ ڈینگی کے اس بدترین حملے میں 250 جانیں گئیں۔ ہمارے پاس ڈینگی سے نمٹنے کا تجربہ نہیں تھا‘ معلومات اور اطلاعات بھی ناکافی تھیں مگر پوری کی پوری حکومتی مشینری نے ایک ٹیم کی صورت میں یک جان ہو کر دفاع کیا اور اللہ کے فضل سے ہزاروں جانیں بچ گئیں۔ یہ عصرِ حاضر کی دنیا میں ایک ریکارڈ ہے۔روزانہ صبح سات بجے ایک میز کے گرد بیٹھ کر دن بھر کی حکمت عملی طے ہوتی اور پھر ساری حکومتی مشینری اپنے اپنے محاذوں پر نکل کھڑی ہوتی۔ یہ انہی محنتوں ‘ قربانیوں اور عزمِ صمیم کا ثمر اور اللہ کا کرم ہے کہ ہم نے ہزاروں جانیں بچائیں۔ اس مرحلے کے بعد مجھے پھر شدت سے احساس ہوا کہ شاید اللہ نے آپ کے ساتھ مل کر انسانیت کی خدمت کے لئے ہی مجھے پھر سے زندگی عطا کی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہ معاف فرمائے اور ہمیں بخش دے‘ میں سمجھتا ہوں کہ شاید اسی لئے اللہ نے میری زندگی رکھی۔
خواتین و حضرات! میں ’’نوارٹس‘‘ کاخصوصی طور پر شکر گزار اور احسان مند ہوں کہ انہوں نے 17۔ ارب روپے اس عظیم کارِ خیر کے لئے مختص کئے۔ ’’نوارٹس‘‘ بلاشبہ ایک بڑی کمپنی ہے اور ہمارے ملک میں بھی کام کر رہی ہے لیکن وہ پاکستان کی کمپنی نہیں۔ یہ ان کی پاکستان کے لوگوں کیلئے جذبہ اور محبت ہے کہ انہوں نے 17 ارب روپے عوامی خدمت کے لئے دئیے ہیں۔ ان کو اگر آپ ڈالرز میں منتقل کریں تو 117 ملین ڈالر بنتے ہیں۔ یہ کوئی چھوٹی رقم نہیں جو وہ اگلے پانچ سال میں خرچ کریں گے۔ میں نوارٹس سوئٹرز لینڈ اور نوارٹس پاکستان کا شکر گزار ہوں کہ ان کی یہ رقم زندگی سے تقریباً مایوس ہو چکے لوگوں کیلئے ایک تحفہ ہے جو ان میں جینے کی امنگ پیدا کرے گی۔ یاد رکھیے کہ زندگی وہی ہوتی ہے جہاں امید ہوتی ہے۔میں امید رکھتا ہوں کہ ریسرچ‘ نت نئی ایجادات اور محنت کے ذریعے یہ کمپنی انسانیت کی خدمت جاری رکھے گی ۔ایک صحت مند قوم ہی ترقی اور خوش حالی کی ضمانت ہوتی ہے۔ خواتین و حضرات! میں آپ پر یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ نوارٹس پہلے ہی پنجاب میں 16 سو مریضوں کی دیکھ بھال کا ذمہ اُٹھائے ہوئے ہے۔ یہ 17 ارب روپے اس کے علاوہ ہیں۔ میں ان کا  تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔کئی برس پہلے کی بات ہے‘ مجھے کہا جاتا تھا کہ آپ پنجاب میں کینسر کے علاج کا ہسپتال نہ بنائیں کیوں کہ اس کو چلانا بے حد مشکل ہو گا‘ دوائیاں بہت مہنگی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایک غیر ملکی کمپنی پنجاب کے مریضوں کو ادویات فراہم کرنے کے لئے 17 ارب روپے خرچ کر سکتی ہے تو ہمارے ملک کے صاحبِ حیثیت لوگ اور کارپوریٹ سیکٹر کیوں نہیں؟ یہ لمحہ فکریہ ہے۔ جو لوگ پہلے ہی خدا کی راہ میں خرچ کر رہے ہیں اور بڑے بڑے ادارے بناکر خدمت کر رہے ہیں‘ وہ تو دنیا میں ہی جنت کما رہے ہیں۔ لیکن ایسے لوگ جو اربوں روپے کماتے ہیں‘ بڑے بڑے محلات میں رہتے ہیں اور لیموزین میں سفر کرتے ہیں، ان کو نوارٹس کی مثال سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ جب ایک غیر ملکی کمپنی کینسر جیسی موذی بیماری کے علاج کے لئے 17 ارب روپے عطیہ کر رہی ہے تو کیا ہمارا یہ فرض نہیں بنتا کہ کینسر کے علاج کے لئے اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔ جیساکہ میں نے آپ کو بتایا کہ 2003ء میں میرے علاج پر 40 سے 50 لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے‘ شرح تبادلہ بڑھ جانے پر آج شاید ایک کروڑ روپیہ خرچ ہوتا ہو۔ ایسے میں کیا ایک عام آدمی کیلئے ممکن ہے کہ اگر وہ خود یا اس کے گھر کا کوئی فرد خدانخواستہ کینسر میں مبتلا ہو جائے تو اس قدر مہنگا علاج کروا سکے؟ اپنے پیاروں کو بچانے کیلئے وہ گھر بار فروخت کرنے ، قرض اُٹھانے سے گریز نہیں کریں گے اور پھر باقی ساری عمر قرض اتارتے رہیں گے۔ دوسری طرف اشرافیہ ہے، سیاست دان ہیں، وزیراعظم ہے، جج، بیورو کریٹ، پولیس افسر، فوجی افسروغیرہ ہیں ، ان کا علاج سرکاری خرچ پر ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس ملک کا عام آدمی جو کہ اکثریت میں ہے ، وہ کہاں جائے؟ وہ سوچتا ہے کہ سرکاری عہدیداران و افسران یا بڑے کاروباری حضرات تو پاکستان کے اندر یا شمالی امریکہ اور جنوبی فرانس میں جا کر اپنے کینسر کا مہنگا علاج کروا سکتے ہیں مگر مجھے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ یہ ہے وہ سوال جو اس ملک کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے ۔ جو اس ہال میں موجود ہیں اور جو ان کیمروں کے ذریعے میری ٹوٹی پھوٹی معروضات سن رہے ہیں ، ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ ہر عام آدمی آج یہ سوچ رہا ہے کہ کیا یہ ملک صرف اشرافیہ کا ہے ؟ وہ سوچتا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے بھی پاکستان کے لئے قربانیاں دیں ،ہم بھی محنت کرتے ہیں اور اس ملک کے لئے خون پسینہ بہاتے ہیں ‘ اس کے باوجود ہم پر زندگی تنگ ہے اور کسی بیماری کی صورت میں علاج کنگال کر دیتا ہے ۔ وہ یقینا یہ کہتے ہوں گے کہ ایسے نظام کو آگ لگے جہاں اس قدر بے انصافی ہے ۔ یہاں ماہرین بیٹھے ہیں، ٹیکنوکریٹ، بیورو کریٹ، سیاست دان سب موجود ہیں اور یہ سوال ہم سب کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے ۔میں آپ سب ماہرین سے سوال کرتا ہوں ۔ زمین اسی شہر لاہور میں موجود ہے‘ عمارت اور مشینری پر پیسہ حکومت پنجاب لگائے گی ‘ آپ مہربانی فرما کر مجھے بتائیے کہ کس طرح ہم ایک عام آدمی کے لئے مستقل نوعیت کی خدمات فراہم کرنے والا کینسر ہسپتال بنا سکتے ہیں۔ ایک ایسا ہسپتال جو ایسے فرد کو جو اس موذی مرض میں مبتلا ہے ، امید کی کرن دکھا سکے۔ اُسے بتا سکے کہ نہیں تم بے سہارا نہیں ہو، تم مایوس نہ ہو، تمہاری زندگی اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے بچائی جا سکتی ہے ۔میں آپ سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں ۔یہ قطعاً خود نمائی یا پوائنٹ سکورنگ نہیں ۔ گزشتہ پانچ سال کی حکومت میں میرے پاس سرکاری عمال کے بڑے ایسے کیس آئے جن میں جگر ٹرانسپلانٹ ‘ خون کے سرطان یا بون میرو کے لئے وہ سرکاری خرچ پر ہندوستان یا چین جانا چاہتے تھے اور چالیس پچاس لاکھ کا خرچ تھا مگر میں اپنے رب تعالیٰ کا بے پناہ شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے توفیق بخشی اور میں نے ان کو منظور نہیں کیا۔میں اپنی کابینہ کے اجلاسوں میں بھی ہمیشہ دال روٹی رکھتا ہوں‘ کبھی چائے پیش نہیں کی گئی ۔ ایک دفعہ گیلانی صاحب بطور وزیر اعظم یہاں لاہور آئے تو ان کو بھی سنگل ڈش پیش کی گئی۔ میرے وزراء غیر ملکی دوروں پر جاتے ہیں تو ٹکٹ اپنے خرچ پر خریدتے ہیں۔ دیکھئے! جب ہم رکن اسمبلی نہیں ہوتے‘ وزیر ‘ مشیر نہیں ہوتے تو اپنا اور اپنے گھر بار کا سارا خرچ خود اٹھاتے ہیں مگر جب ہم گورنر بن جاتے ہیں ‘ وزیر بن جاتے ہیں‘ ایم این اے‘ ایم پی اے بن جاتے ہیں یا دوسرے عہدے لے لیتے ہیں تو پھر ہم چاہتے ہیں کہ جناب ہمارا علاج بھی سرکار کرائے۔ یہ کیسا نظام ہے‘ یہ کتنی بڑی مکاری اور بددیانتی ہے۔ عام آدمی جب یہ دیکھتا ہو گا تو کس قدر کُڑھتا ہو گا کہ اس کے لئے اس ملک میں کچھ نہیں۔ نہ علاج نہ دوائی اُس کے مقدر میں صرف دھکے ہیں۔یہ ہیں نظام کی وہ خرابیاں جو رفتہ رفتہ ہمیں ناکامی کی طرف لے کر جا رہی ہیں ہمیں ان کو روکنا ہو گا ‘ اسی جذبے کے ساتھ جس سے ہم نے یہ ملک بنایا تھا۔ ہمیں عام آدمی کو یہ احساس دلانا ہو گا کہ یہ ملک ہم سب کا سانجھا اور مشترکہ ہے جہاں سب کو ایک سی سہولیات دستیاب ہیں تاکہ وہ خود کو اس ملک میں برابر کا شہری سمجھے۔ہمارے پاس زمین موجود ہے یہیں لاہور کے قریب ۔ مجھے یہ نہیں کہنا چاہیے مگر بتانا ضروری ہے کہ یہ ایک نام ور خاندان کے قبضہ میں تھی جو میں نے حکومت کے پہلے ہی سال واگذار کروا لی۔ پہلے ہم نے سوچا تھا کہ اسے گنگا رام ہسپتال کے ساتھ منسلک کریں مگر اب میرا خیال ہے کہ اس پر کینسر کا الگ ہسپتال بننا چاہیے کیونکہ یہ ایک موذی بیماری ہے جو مریض اور لواحقین دونوں کو ہلاکت میں ڈال دیتی ہے۔ وہ زمین جس کا میں نے ذکر کیا ‘ لاہور سے زیادہ دور نہیں۔ وہاں عمارت بنا دیتے ہیں اور مشینری بھی مہیا کر دیتے ہیں لیکن اسے مستقل بنیادوں پر چلانے اور رواں رکھنے کے بارے میں آپ کو سوچنا ہو گا۔آئیے !کینسر کے اس عالمی دن پر ہم سب مل کر یہ عہد کریںکہ پاکستانیوں کو کینسر کے موت رنگ جبڑوں میں جانے سے بچائیں گے اور ان کو ایسی سہولیات و علاج مہیا کریں گے جو باوسیلہ لوگوں کو بیرون ملک میسر ہیں۔
آخر میں میں بار دیگر نوارٹس کا شکر گذار ہوں۔میں اپنی طرف سے ‘ اپنی کابینہ کی طرف سے ‘ اپنی حکومتی ٹیم اور پنجاب کے عوام کی طرف سے شکریہ ادا کرتے ہوئے اس بات پرگفت گو ختم کرتا ہوں کہ نوارٹس اپنی طرف سے مہیا کی جانے والی دوائیوں میں ’’تھرڈ پارٹی آڈٹ نظام‘‘ متعارف کروایا جائے گاتاکہ یہ امر یقینی بنایا جا سکے کہ ادویات شفاف طریقے سے مستحق لوگوں تک تسلی بخش انداز میں پہنچ رہی ہیں۔ لوگ مطمئن ہیں اور ان کو دوائیاں مل رہی ہیں ۔میں اُن ڈاکٹرز کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس پروگرام میں معاونت کی ۔ خواتین و حضرات! آپ سب کا بے حد شکریہ ‘ پاکستان زندہ باد۔