مقدر میں مزید تباہی دیکھنا لکھا ہے!

کالم نگار  |  نازیہ مصطفی

دوسری جنگ عظیم جاری تھی کہ امریکہ نے اگست 1945میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گراکر جنگ کو منطقی انجام کی طرف دھکیل دیا، جس کے بعد اگلے ماہ ستمبر میں جاپان نے ہتھیار ڈال دیے، یوں جاپانی عملداری میں سارے علاقے بھی اتحادیوں کے زیر تسلط چلے گئے، بہت سے علاقوں کا تو بٹوارہ ہوگیا اورانہی علاقوں میں ایک کوریا تھا، جس کے جنوبی حصے پر امریکہ جبکہ شمالی حصے پر سوویت یونین نے اپنا حق جتادیا۔ امریکہ اورسوویت یونین نے اپنے اپنے زیر نگیں علاقوں میں اپنے اپنے (سرمایہ دارانہ اور اشتراکی) نظریات اور نظام مسلط کرناشروع کردیے، جس کے ساتھ ہی کوریا میں سیاسی خلیج بڑھنے لگی۔ آنے والے پانچ برسوں میںمتحدہ کوریا کا خواب خیال بن کر رہ گیا اور کوریا کے دونوں حصے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے۔ معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچے تو 1950ء کے وسط میں شمالی اور جنوبی کوریا میں خونریز لڑائی چھڑ گئی۔اِس لڑائی میں ایک جانب جنوبی کوریا تھا،جس کی پشت پر امریکہ سمیت اٹھائیس ’’اتحادیوں‘‘ کی صورت میں اقوام متحدہ کھڑا تھا جبکہ دوسری جانب شمالی کوریا تھا، جسے سوویت یونین اور چین سمیت آٹھ اشتراکی اور سوشلسٹ ممالک کی حمایت حاصل تھی۔تین سال تک مسلسل لڑی جانیوالی یہ جنگ کوریا کیلئے انتہائی مہلک ثابت ہوئی۔ اس جنگ میں دونوں اطراف سے دو سو اٹھانوے اقسام کا خوفناک اسلحہ استعمال کیا گیا۔اس جنگ میں جنوبی کوریا اور اتحادیوں کی جانب سے 178,426 فوجی اور شہری ہلاک، 32,925 افراد لاپتہ اور 566,434 فوجی اور شہری زخمی ہوئے۔یہ جنگ شمالی کوریا اور اس کے اتحادیوں کیلئے زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوئی، اشتراکی بلاک کی ہلاکتوں کا اندازہ ساڑھے تین لاکھ سے ساڑھے سات لاکھ کے درمیان لگایا گیا، جبکہ زخمیوں کی تعداد سات سے آٹھ لاکھ کے درمیان رہی۔اس جنگ میںدونوں اطراف بڑے پیمانے پر جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے۔شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا گیا، ہسپتال تباہ کیے گئے، تعلیمی اداروں کوبرباد کرکے رکھ دیا گیا، فیکٹریوں کو بموں سے اُڑادیا گیا۔ لڑائی گلیوں اور بازاروں تک پھیلی تو سیول جیسا خوبصورت شہر بھی کھنڈر میں تبدیل ہوگیا۔اِس تین سالہ افسوسناک جنگ میںایک ’’دلچسپ‘‘ موڑ ایک سال بعد اُس وقت آیا جب امن مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا۔جی ہاں! خون کے دریا بہائے جاچکے تو دس جولائی 1951ء کو دونوں متحارب قوتوں کے درمیان امن مذاکرات شروع ہوگئے۔ یہ مذاکرات کوریا کے دونوں حصوں کے درمیان واقع صوبہ ’’کنکھی‘‘ کے ایک بے آباد گاؤں ’’پین منجوم‘‘ میں منعقد ہوئے۔یہ امن مذاکرات ’’دلچسپ‘‘ اس لیے تھے کہ یہ جنگ بندی کے بغیر عین حالتِ جنگ میں شروع ہوئے اور جنگ کے دوران ہی جاری رہے۔ یوں یہ جنگ مسلسل جاری رہی اور مذاکرات بھی متواتر ہوتے رہے۔ جیسے ہی جنگ زور پکڑتی تو مذاکرات کار بھی پہلے سے زیادہ فعال ہوجاتے۔مذاکرات کار ایک دوسرے کے خدشات اور تحفظات کو ختم کرنے کی راہیں نکالتے اور ایک دوسرے کی مجبوریوں اور مطالبات کو سمجھنے کی کوشش کرتے۔ یوں امن معاہدہ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ہٹانے اور مسائل کا عقلی حل تلاش کرنے کیلئے دونوں اطراف سے سمجھدار لوگ اپنے دماغ لڑانے میں مصروف رہے۔حیرت کی بات ہے کہ یہ مذاکرات مسلسل دو سال تک جاری رہے اوراس طرح یہ تاریخ کے سب سے طویل ترین امن مذاکرات کہلاتے ہیں۔ان مذاکرات کے دوران بہت سے اتار چڑھاؤ بھی آئے لیکن بالآخر یہ مذاکرات کامیاب رہے اور ستائیس جولائی 1953ء کو اطراف میں امن معاہدہ طے پاگیا ۔ اکسٹھ برس گزرنے کے بعد جنگ بندی اور قیام امن کا یہ معاہدہ آج بھی قائم ہے۔
دہشت گردی کے خلاف ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے جاری جنگ کے نتیجے میں پاکستان میں بھی بہت خون بہہ چکا ہے۔ ایک جانب پاکستانی سپاہ بھی بہت لاشیں اٹھاچکی اور عام شہریوں کی شہادتیں بھی لاتعداد اور بے شمار ہیں۔ دوسرا فریق بھی یہی دعویٰ کرتا ہے کہ آپریشنوں میں مارے جانے والے عسکریت پسند ہوں یا ڈرون حملوں کا رزق بننے والے عام قبائلی ہوں، لاشوں اور قبروںکا شمار مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ لیکن کیا ہلاکت خیزی کا یہ سلسلہ ہمیشہ یونہی چلتا رہے گا؟ کیا لاشیں اٹھانے والے کاندھیں ہمیشہ یونہی لاشیں ڈھوتے رہیں گے؟ اس کا یہی جواب ہے کہ ’’نہیں، ہرگز نہیں‘‘۔ ہر جھگڑے ، ہر لڑائی اور ہر جنگ کو ایک روز ختم اور امن قائم ہونا ہوتا ہے۔ یوں امن کیلئے مذاکرات کی اہمیت سے بھلا کیسے انکار کیا جاسکتا ہے؟وزیراعظم نواز شریف نے بھی پاکستان میں امن کو ایک اور موقع دینے کیلئے جن مذاکرات کی ابتدا کی ہے، انہیں بہرصورت کامیاب ہونا چاہیے، لیکن نہایت افسوس کی بات تو یہ ہے کہ امن مذاکرات ابھی ٹھیک طرح سے شروع بھی نہیں ہوئے کہ ان مذاکرات کی ناکامی کا ڈھنڈورا پیٹا جانے لگا ہے۔ مذاکراتی ٹیم کے ارکان کی ایک ایک جنبش اور ایک ایک سانس پر نظر رکھی جارہی ہے اور یوں ہر آتی جاتی سانس کو ’’جنگ پسند‘‘ عناصر منفی مفاہیم پہنانے کی کوشش میں مبتلا ہیں۔ابھی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان باقاعدہ کچھ طے بھی نہیں پایا لیکن ’’ذرائع‘‘ کے نام پر اطراف سے ایسے ایسے مطالبات، تحفظات اور خدشات سامنے لائے جارہے ہیں جو مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے سوا کوئی ’’خدمت‘‘ سرانجام نہیں دے سکتے۔
قارئین محترم!شمالی اور جنوبی کوریا کے امن مذاکرات میں شمالی کوریا کے امن مذاکرات کاروں کی سربراہی پہلے چینی وزیراعظم چواین لائی کے سیکرٹ ایجنٹ ’’لی کینان‘‘ نے کی تھی۔ یہی لی کینان بعد میںچینی لبریشن آرمی کا ڈپٹی چیف آف اسٹاف بھی بنا۔ ’’پین منجوم‘‘ میں متحارب فریق کے امن مذاکرات کاروںکی پہلی ملاقات ہوئی تو’’لی کینان‘‘ نے زور دیا کہ’’ کچھ بھی ہو یہ مذاکرات ناکام نہیں ہونے چاہئیں۔ میدان جنگ میں فوجیوں کا کام لڑنا ہے، وہ لڑتے رہیں لیکن یہاں مذاکرات کی میز پر ہمارا کام امن کی راہیں تلاش کرنا ہے، لہٰذا ہمیں اپنا کام کرتے رہنا چاہیے۔ اگر ہم بھی جنگ کی طرف چلے گئے توپھرمقدرمیں تباہی کے سوا کچھ نہ رہے گا، لیکن اگر ہم میدان جنگ میں لڑنے والوں کو اپنی جانب لے آئے تو پھر امن کا قیام بھی کوئی نہ روک سکے گا‘‘۔حکومتی مذاکراتی ٹیم اور طالبان کی مصالحتی کمیٹی نے بھی اگر ’’لی کینان‘‘ کی طرح پہلی ملاقات میں یہ اصول طے کرلیا ہے کہ وہ ہر صورت امن معاہدہ کرکے رہیں گے تو پھرسمجھیں کہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پورے خطے میں امن کا قیام نوشتہ دیوار بن چکا  اور دونوں فریقوں کے درمیان امن معاہدہ ہوکر رہے گا، چاہے اس میں دو سال ہی کیوں ناں لگیں! اور اگر مذاکرات کاروں نے لی کینان کا یہ اصول طے نہیں کیا تو پھر امن معاہدہ کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی اور سمجھیں کہ خطے کے مقدر میں ابھی مزید تباہی دیکھنا لکھا ہے۔