لیجئے ہمارا فرض ہوا پُورا۔

کالم نگار  |  مسرت قیوم

4  فروری کو رات کے وقت باہر نکلے تو کچھ چوکوں پر کام ہوتا نظر آیا۔ استفسار پر معلوم ہواکہ ’’کشمیر ڈے‘‘ کی مناسبت سے ہور ڈنگر لگائی جا رہی ہیں۔ یوں حسب روایت ’’کشمیر ڈے‘‘ منایا گیا سارا دن میڈیا پر ’’کشمیر ڈے‘‘ ہوتا رہا۔ دانشوری کی دیگیں چڑھائی گئیں چلو پہاڑوں کے اُس پار لاکھوں نیم زندہ ۔لاکھوں بے گناہ شہداء کی قربانیوں کو ہم نے ایک دن وقف کر کے یاد  تو کیا۔۔نہ پہلے اور نہ اب ہماری حالت اتنی کمزور تھی کہ ہم ’’کشمیر‘‘ حاصل نہ کر سکیں۔ ہم ’’کشمیر‘‘ واپس لینا ہی نہیں چاہتے۔۔نہ ہماری تیاری میں کوئی کمی ہے اور نہ قوم کے حوصلوں میں۔کمی صرف ہمارے ارادے۔عزم کی دیوار میں پڑنے والی بے حسی کی دراڑکی۔پشاور میں ہوٹل پر خود کش حملہ ۔10 افراد ہلاک۔ ۔اس سے دو روز قبل پشاور میں ہی ’’سینما‘‘ میں دو بم دھماکوں میں 5 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ کراچی میں دھماکے سے ٹرین اُلٹ گئی۔ جیسا کہ خدشہ تھا امن کوششوں کو پٹڑی سے اتارنے کی سازشیں ہو سکتی ہیں۔ ان دھماکوں کو بس اِس تناظر میں دیکھا جائے کہ کچھ ’’بیرونی قوتیں‘‘مذاکرات کی حامی نہیں۔ کچھ مذاکرات کے لیے تشکیل دی گئی ہر دو اطراف کی کمیٹیوں کی فی الوقت ’’میڈیا نمائی‘‘ کے علاوہ ابتدائی پیشرفت بھی دھند میں لپٹی ہوئی ہے۔ مختلف مسائل کے حوالے سے ملک ابھی تک کچھ عجیب حوالے سے پے در پے ملاقاتوں کے بخار میں مبتلا ہے۔ کچھ عرصہ کے لیے حکومتی نامزد کردہ کمیٹی کا ’’میڈیا رونمائی‘‘ سے گریز کرنا بہتر ہوگا۔ قومی مفاد کو پیش نظر رکھتے قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو تبھی تقویت ملے گی جب ہر دو اطراف سے نیک نیتی کو بالادستی حاصل رہے گی۔۔تما م فیصلے ’’پاکستانی‘‘ کی شناخت سے کریں گے تو بارود کی  جنگ تھم جائے گی۔دونوں فریقوں کو دبائو اور ناکامی کے خوف سے باہر نکل آنا چاہیے۔ امن کی بحالی کے لیے غیر ضروری اشتعال پیدا کرتے بلاوجہ بولنے کی عادت کو بھی فریقین ترک کر دیں بالخصوص حکومتی ٹیم اور وزراء کرام۔ بلاشبہ اس وقت دونوں جانب امن قائم کرنے کے عزم میں سنجیدگی دکھائی دینے لگی ہے مگر ہماری ہر مخلص کوشش پر شکوک کی چادر ہمیشہ سے ہی پھیلتی رہی ہے۔ اس لئے گومگو کا عالم کچھ زیادہ ہی نمایاں ہو گیا ہے۔ ہمارے متعلق مشہور ہے کہ کام نہ کرنا ہو تو کمیٹی بنا دی جاتی ہے اس طرح پچھلے کچھ برسوں سے کچھ نئی اور ایک آدھ پرانی روایت بھی چلی آ رہی ہیں۔  پہلے کسی بڑے روڈ ایکسیڈنٹ میں لواحقین میں امدادی چیک تقسیم ہوتے تھے پھر یہ روایت ’’انسانی درندگی‘‘ کے کینسر میں بڑھ گئی۔ جب دہشت گردی کے عفریت نے سر اُٹھایا تو حکومت اور عوام بُری طرح سہم گئے۔۔کچھ برس تو دھماکے ’’سانحے‘‘ کی طرح محسوس ہوتے رہے پھر یہ بھی معمول کی کاروائی ہونے  لگے۔ اِسی بدلی کیفیت میں واردات میں ایک بڑی تعداد کے ہلاک ہونے کی صورت میں فوراً سے پہلے مذمت۔ تحقیقات کا اعلان امدادی چیکس کی فراہمی اور شکست نہ کھانے کا عزم جبکہ کسی بڑے آدمی کی ہلاکت کے نتیجہ میں بڑا جنازہ۔ پھولوں کی چادریں گارڈ آف آنر  ’’ لیجئیے ہمارا فرض ہوا پُورا‘‘۔حالیہ واقعایات میں کراچی میں ’’چودھری اسلم‘‘  ہنگو میں طالب علم اعتزاز حسین مثالیں ہیں۔  فرض کا آغٖاز مذمتی بیان سے ہوا۔ پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے عزم کی دہرائی بلکہ’’دھلائی‘‘۔شہداء کے گھروں پر جوق در جوق وی آئی پی قافلوں کی آمد ۔اِس کے بعد خاموش۔ ایک طویل گمشدگی والی کیفیت۔ یہ ہے بہادروں کی خدمات کا صلہ ۔ اب اگر طویل نقصانات کے بعد فریقین مزاکرات کی میز پر بیٹھ رہے ہیں تو صبر سے خاموشی کے ساتھ متذکرہ بالا روایتوں کے ٹوٹنے کی اُمید رکھنی چاہیے۔