’’مشرق وسطیٰ کے موجودہ منظرنامہ میں پاکستان کا کردار‘‘

’’مشرق وسطیٰ کے موجودہ منظرنامہ میں پاکستان کا کردار‘‘

یمن Kingdom of Saudia Arabia کا ایک ہمسایہ ملک ہے۔ یہ ہمسائیگی کی صدیوں پر محیط ایک تاریخی حقیقت ہے۔ موجودہ سعودی عر ب خاندان ِسعود کے مملکت کا کنٹرول اور نظم و نسق سنبھالنے سے پہلے سر ز مین حجا ز کے تاریخی نام سے مو سو م تھی جہاں مختلف قبائل اپنے محدود علا قو ں میں قبائلی کلچر اور رسم و رواج کے تحت زندگی گزارتے تھے یہی حال ملکِ یمن میں بسنے والے قبائل کا بھی تھا۔ صدیاں گزرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی تبدیوں میں کئی انقلابات آئے جو مشرق وسطیٰ کے پورے خطہ پر اثرانداز ہوئے ہر بدلتے دور کے ساتھ ایک نئی تہذیب اور ایک نیا نظا م حکومت وجود میں آیا چنانچہ بیسویں صدی میں پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد شہنشاہوں اور بادشاہوں کا دور ماضی کا حصہ بن گیا اور عالمِ اسلام کے کئی ممالک میں مغربی طرز جمہوریت نے جنم لیا۔ تازہ ترین تبدیلی میںArab Spring یعنی عرب سرزمینوں میں جمہوریت کی بادِ بہاری نے قدم رکھے اور شمالی افریقہ میں مراکش، الجیریا، لیبیا، مصر اور یمن کے علا وہ کئی دیگرمسلم مما لک بھی اس نئی جمہوری آندھی کی زد میں آئے۔ پُرانا نظام ’’عرب بہار‘‘ کے طوفان نے تہہ وبالا کر ڈالا لیکن عوام کو جمہوریت کی جس سحر کی امید تھی وہ مندرجہ بالا تمام ممالک میں آج تک نمودار نہیں ہوئی۔
 یمن میں دو سابقہ صدر ’’باغیوں‘‘ کے دباؤ کے تحت دارالخلافہ صنعا میں اپنے محلات سے بھاگ کر ملک سے باہر پناہ لے چکے ہیں اس لیے قدرتی طور پر وہ ان حاکموںکیخلاف جدوجہد کرنیوالوں کو باغی قبائل کہتے ہیں ان باغیوں نے صنعا کے علاوہ کئی دوسرے شہروں پر بھی قبضہ کر رکھا ہے اور اب وہ یمن کی سب سے بڑی بندرگاہ عدن کی طرف بڑھتے ہوئے اس انتہائی سٹرٹیجک شہر کے کچھ حصوں پر قبضہ بھی کر چکے ہیں۔ دیرینہ حکمران علی عبداللہ صالح جس نے ایک لمبا عرصہ یمن پر حکومت کی تھی وہاں سے فرار ہوئے تقریباً تین سال ہو چکے ہیں۔ اُسکے فرار کے بعد سعودی حکومت کی معاونت سے نئے حکمران صدر عبدالرب منصور ہادی نے صنعا کا اقتدار سنبھال لیا تھا لیکن یمن کے بعض قبائل نے گزشتہ ماہ منصور ہادی کی حکومت کا بھی تختہ الٹ دیا اور اس کو بھی صنعا سے بھاگ کر سعودی عرب میں پناہ لینی پڑی۔ جہاں پر بیٹھ کر وہ صنعا پر اپنے حامیوں کی مدد سے دوبارہ قبضہ کرنا چاہتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ اس وقت یمن کے قبائل دونوں فرار ہونیوالے صدور کی حمایت میں تقسیم ہو کر اصول اقتدار کیلئے خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ دو ہفتے پہلے جب سعودی عرب کی اتحادی فوج نے سابق حکمران علی عبداللہ صالح کے ہمدرد قبائلی دستوں پر فضائی بمباری کی تو خانہ جنگی میں اچانک شدت پیدا ہوئی۔ علی عبداللہ صالح کے ہمدرد فوجی دستوں اور بعض قبائل نے عقیدہ کے لحاظ سے شیعہ ہونے کے باعث اور عبدالرب منصور ہادی کے ہمدردوں کی بڑی اکثریت اہل سنت عقیدہ سے وابستہ ہونے کے باعث بعض لوکل اور غیر ملکی طاقتوں نے جن میں ایران اور سعودی عرب کا میڈیا بھی شامل ہے اس خانہ جنگی کو فرقہ پرستی اور عقائد کے اختلافات کا رنگ دے کر شیعہ سنی جذبات کو بھڑکانے کی ناکام کوشش کی ہے حالانکہ حقیقت بالکل اسکے برعکس ہے لیکن سعودی عرب اور ایران کے درمیان یمن کی خانہ جنگی کے بارے میں اختلافات اور مختلف موقف اختیار کرنے کی اصل وجہ یمن میں اپنا Sphere of Influence  قائم کرنا ہے ۔ عر ب لیگ کے اپنے مقا صد ہیں اور اس خانہ جنگی میں طالبان، القائدہ اور داعش یا اسلامک سٹیٹ کے عناصر بھی شامل ہو کر اپنا حلقۂ اثر پیدا کرنا چاہتے ہیں جس پر امریکہ اور مغربی طا قتوں کو قدرتی طور پر تشویش ہے ۔ اس حقیقت سے بھی آنکھیں بند نہیں کی جا سکتی کہ اگر جغرافیائی لحاظ سے دنیا کے نقشہ پر یمن کی انتہائی حساس اور بین الاقوامی سٹرٹیجک لوکیشن پر ہلکی سی نظر بھی ڈالی جائے تو ایک عام انسان پر بھی اسکی اہمیت کا نہ صرف امریکہ اور پورے یورپ بلکہ مشرق وسطیٰ، روس، چین اور جاپان کے سٹرٹیجک مفادات، یمن کی بندرگاہوں اور خاص طور پر عدن سے کس قدر گہرے انداز میں جڑے ہوئے ہیں واضح ہو جاتا ہے۔ Gulf of Aden بحرہ عرب میں داخل ہونے کا دروازہ ہے اور اسکے مشرق میں مسقط کے بالمقابل پاکستان کی بندرگاہ گوادر واقع ہے ۔ اس کیساتھ ہی Gulf of Hurmuzجڑا ہوا ہے جہاں سے پوری دنیا کا آدھے سے زیادہ تیل اور دیگر گیس و غیرہ کے ذخائر کی شاہراہ واقع ہے چنانچہ ایسی سٹرٹیجک جگہ پر کسی مخالف قوت کا قبضہ کوئی کم بخت عقل کا اندھا ہی خوشی سے قبول کر یگا۔ قدرتی طور پر سعودی عرب کی بھی عدن کی بندرگاہ اور پورے یمن پر نظر ہے اور سعودی عرب کے پیچھے اُنکا سرپرست امریکہ دل وجان سے عدن اور یمن کو کسی غیر کے کنٹرول میں نہیں دیکھنا چاہیں گئے اس لیے کسی مخالف قوت کا جن میں سعودی عر ب اور امریکہ و مغربی طاقتیں ایران کو بھی شامل کرتی ہیں اُن کا یمن میں عمل دخل بھلا کیسے گوارہ ہو سکتا ہے چنانچہ مستقبل میں یمن پر سعودی عرب اور امریکہ کے مخالف قبائل کا قبضہ اور کنٹرول جن کو ایران کی حمایت بھی حاصل ہو۔ مستقبل کیلئے ابھی سے پیشگی، حفاظتی، دفاعی اقدامات کا تقاضاکرتی ہے چنانچہ یمن پر مخالف قوتوں کا قبضہ سعودی عرب کے مفاد کیخلاف سٹرٹیجک خطرہ بن سکتا ہے ورنہ دفاعی نقطہ نظر سے یمن میں بیٹھے ہوئے کوئی بھی قبائلی حکمران شمال میں ہزار کلومیٹر سے زیادہ ریگستان پر محیط علاقہ سے گزر کر زمینی فوج کے ذریعے سعودی عرب کے مقدس مقامات کیلئے خطرہ پیدا کر نے کے امکانات صفر کے برابر ہیں۔بحرحال اس وقت جب کہ راقم یہ سطریں تحریر میں لا رہا ہے پارلیمنٹ کا جوائنٹ سیشن حالات کا جائزہ لے رہا ہے اور تازہ ترین صورتحال سب کے سامنے ہے کہ فوجی قیادت نے وزیراعظم نواز شریف اور وفاقی حکومت کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان کے بہترین مفاد میں وزیراعظم فوج کو جو ذمہ داری سونپیںگے پاکستان آرمی اُس پر عملدرآمد کریگی۔ اس لیے گلوبل اور علاقائی سکیورٹی کے منظرنامہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے مناسب ہو گا کہ پاکستان خادم ِ حرمین شریف کو پاکستان کی طرف سے مکمل حمایت کا یقین دلائیں لیکن اسکے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ یمن کے قبائل کے مابین طاقت اور اقتدار کے حصول کی خانہ جنگی کی کشمکش میں پاکستان کسی قسم کی مداخلت سے گریز کرے لیکن اس معاملہ میں اقوام متحدہ یا او آئی سی یا عر ب لیگ یا دیگر عرب مسلم ممالک یعنی ترکی، ایران، ملائیشیا اور انڈونیشیا باہمی طور پر جو بھی فیصلہ کریں اُ س میں پاکستان بھرپور معاونت کر تے ہوئے اپنا کردار ادا کریگا۔