کفیل‘ بہو ‘ ساس

کالم نگار  |  مسرت قیوم
کفیل‘  بہو ‘ ساس

فجر کے بعد کا وقت کھڑکی کے پردے سرکائے تو منظر ہی کچھ اور تھا۔ صبح نور میں ’’بیجنگ‘‘ کی سڑکوں پر گویا ’’سائیکلوں‘‘ کا سیلاب آگیا تھا پورا ’’چین‘‘ صرف سائیکل استعمال کرتا ہے۔ لوگ دفتر اور سکولز جا رہے تھے۔ ’’میاں صاحب‘‘ بتا رہے تھے کہ ’’چین‘‘ میں آلودگی کم ہونے کی وجہ گاڑیوں کا کم استعمال ہے۔ دوسرے سائیکل کی سواری سے وہ لوگ چست، مستعد رہتے ہیں اس لئے تو ترقی کر گئے اگر افیمی رہتے تو آج ’’چائنا‘‘ نام کا ملک بھی نقشے پر نہ ہوتا جبکہ ہم آفیون بھی نہیں کھاتے اسکے باوجود ہم ’’24 گھنٹے‘‘ مدہوش، سست رہتے ہیں۔ ’’پنجاب اور اسلام آباد میں دکانیں رات ’’8 بجے‘‘ بند کرنے کا فیصلہ ۔ حسب معمول ’’تاجر برادری‘‘ نے مسترد کر دیا۔ فیصلہ تو انرجی بحران کے تناظر میں کیا گیا مگر اس کے دیگر فوائد ہم نظر انداز کر دیتے ہیں ’’اسلامی طریقہ احکام‘‘ یہی ہیں کہ ’’فجر‘‘ کے بعد اپنے معمولات میں مشغول ہو جائو اور ’’مغرب کے بعد کھانا کھائو جبکہ ’’عشائ‘‘ پڑھ کر سو جانے کی ہدایت ہے۔ آغاز صبح میں کاروبار حیات کا آغاز اپنے اندر بے شمار برکات سمیٹے ہوئے ہے۔ جلدی سونے اور جلدی اٹھنے میں بہت ساری طبی وجوہات اور اچھی صحت کی بھی باتیں، راز پوشیدہ ہیں۔ مگر شاید ہم اپنی ذات کے خود ہی دشمن کا کردار نبھا رہے ہیں۔ ہر اچھی بات کو نظر انداز کرنا اور ہر اچھے فیصلے کو مسترد کرنا ہماری عادت بن چکا ہے۔ ’’یورپ اور چین‘‘ اسلامی طرز حیات کو اپنا کر کہاں سے کہاں نکل گئے اور ہم ایک دوسرے کو سوتنوں کی طرح طعنے دینے میں مگن ہیں۔ انہوں نے چاند، ستارے بھی تسخیر کر ڈالے اور ہم پانی سے بجلی بنائیں یا کوئلہ کے پاور پلانٹ لگائیں جیسے موضوعات میں اپنی حکومت کی مدت پوری کرنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ ’’کراچی‘‘ آثار ہیں کہ پی ٹی آئی ضمنی الیکشن جیت جائے گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یقینی ہار کو دیکھتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کوئی بہانہ تراش کر بائیکاٹ کر دے ایک طرف ہنگامہ آرائی اور دوسری طرف بھائی، بھائی تک کا سفر بھی ساس، بہو کے رشتہ مانند ہے۔ ’’عمران خان‘‘ آج کراچی میں ہیں۔ یقیناً ’’متحدہ‘‘ جگہ جگہ رکاوٹیں ڈالے گی مگر کسی بڑے ہنگامے، شورش کی خبر نہیں بنے گی۔ ہمارا مشورہ ہے کہ ہر ’’دو جماعتیں‘‘ ضمنی الیکشن کو اس موڑ پر مت لیجائیں کہ زندگی، موت کا مسئلہ بن جائے یا سیاسی ساکھ کا روپ دھار جائے۔ با عزت واپسی کے لئے راستہ کھلا رہنا چاہیے۔ بساً اوقات لفاظی جنگ بلامقصد اتنے زخم کر دیتی ہے کہ پھر پوری سیاست ہی ’’نو گو ایریا‘‘ بن جاتی ہے اور دس، بارہ سال انہی ناکوں کے ساتھ گزارنا پڑ جاتے ہیں۔ دوسری طرف حکومت اور پی ٹی آئی کا ’’جوڈیشل کمیشن‘‘ پر اتفاق کو بھی سیاسی بیانات اور اخباری خبروں کی زینت بننے سے محفوظ رکھیں گے تو حالات سدھار کی طرف جائیں گے۔ ’’عمران خان‘‘ کو ہمارا مشورہ ہے کہ ان کی پارٹی جتنے دن پارلیمنٹ سے غیر حاضر رہی ان کے مطابق تنخواہیں مراعات کی وصولی مت کرے کیونکہ عوام میں یہ پیغام بہت منفی جذبات ابھار سکتا ہے عوام پہلے ہی ’’خان صاحب‘‘ کے بہت سارے معاملات سے مایوس، بدظن ہو رہے ہیں اس لئے ’’خان صاحب‘‘ سیاسی فراست، تحمل سے کام لیتے ہوئے پارٹی لیڈرز سے مشاورت کو ترجیح دیں علاوہ ازیں ’’پارٹی میں بڑھتی ہوئی گروہ بندی، اختلافات بلدیاتی الیکشن میں شکست کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس پہلو کو بھی نظر میں رکھیں۔
’’وہ صاحب‘‘ مسلسل بول رہے تھے۔ لگ بھگ دو گھنٹوں پر محیط گفتگو کا زیادہ حصہ اپنی توصیف پر مبنی تھا۔ کہہ رہے تھے کہ ہم نے ’’اپنی بہو‘‘ کو بالکل سگی بیٹی کی طرح رکھا ہوا ہے۔ بے حد سگھڑ بچی ہے مگر ہمیں پروا نہیں ہوتی جب دن کے دو بجے سو کر اٹھتی ہے ہم کشادہ دلی سے ایک ہی میز پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں اور یہ دیکھ کر بھی ہم لوگوں کو قطعاً فکر، دکھ نہیں ہوتا کہ وہ طلب سے زیادہ تناول کر جاتی ہے۔ ہم نے ایک دن بھی اپنی بہو کو نہیں ڈانٹا۔ بہت پیاری بچی ہے اس لئے تو ہم نے پروا نہیں کی اور بیاہ کر لے آئے حالانکہ وہ ’’ماں باپ‘‘ کے گھر سے بھاگ گئی تھی 3دن بعد واپس آگئی تھی مگر اس کے باوجود ہم نے شادی سے انکار نہیں کیا۔ بچی کے والدین اچھی فطرت کے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے ’’ہمارے بیٹے‘‘ پر قبضہ جما لیا ہے۔ آئے روز اس کو گھر بلواتے، شاپنگ کرتے اور تفریحی مقامات پر جاتے رہتے ہیں اس کے باوجود ہم ناراض نہیں ہاں ضروری ہے کہ ’’وہ اور بہو‘‘ اپنے طور، طریقے شریفانہ انداز میں ڈھالیں۔ گھرداری میں حصہ لے ہماری عزت کریں لیکن چلئے چھوڑ دیجئیے۔ ہم زیادہ توقعات نہیں باندھنا چاہتے ہمیں یہ بھی پرواہ نہیں کہ ہماری خوش دامن بھی نوجوانی میں گھر سے بھاگ گئی تھی یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے۔ ہم کون ہوتے ہیں مداخلت کرنے والے ہم تو ان کے خیر خواہ ہمدرد ہیں۔ کیا ہوا جو ’’بہو رانی‘‘ کا باپ جوا کھیلتا ہے۔ نشہ کرتا ہے کئی دفعہ اس کو چھڑوا کر لائے۔ باتیں ’’ان صاحب کی‘‘ سن رہی تھی اور دماغ میں منظر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا گھوم رہا تھا۔ ’’پیپلز پارٹی‘‘ بھی حکومت کے ساتھ بیک وقت کفیل اور بہو، ساس والا کھیل سجائے ہوئے نظر آتی ہے۔ ایک ہی تقریر میں تعاون کے ساتھ طنز، طعنے، بدمعاملگی، آوارہ چلنی کے پچھلے واقعات دہرا کر آئندہ طور طریقے درست کرنے کے مشوروں سے بھی لاد دیا۔ ’’حکومت پی پی پی‘‘ اتفاق رائے کا منظر نامہ ہی کچھ ایسا بنا دیا گیا ہے کہ دکھائو کچھ پیش کچھ اور کرو اور اصل ایجنڈہ سب سے چھپ کر حل کر لو، رہے عوام تو تصویر اس صاحب کی کہانی کے مطابق ہے جوتے بھی مار دیئے بدکرداری سنا کر اور پیار بھی جتا دیا۔