جوڈیشل کمیشن

کالم نگار  |  رابعہ رحمن
جوڈیشل کمیشن

صدرِ مملکت نے وزیرِ اعظم کی ایڈوائس پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کا صدارتی آرڈیننس جاری کر دیا ہے۔ اس آرڈیننس کے تحت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک تین رُکنی جوڈیشل کمیشن بھی تشکیل دیا گیا ہے جو مئی 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات کی مکمل چھان بین کرے گا۔ جوڈیشل کمیشن کے دائرہ کار کو بھی تفصیل کیساتھ واضح کر دیا گیا ہے جس کے تحت یہ جوڈیشل کمیشن 45 روز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کریگا۔ مئی 2013 کے انتخابات میں ریکارڈ رائے دہندگان نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور عوام کی واضح اکثریت نے مسلم لیگ (ن) کو حقِ حکمرانی سے نوازا۔ بین الاقوامی مبصرین اور تنظیموں کی ایک بڑی تعداد نے بھی ان انتخابات کی نگرانی کی اور بیشتر نے اپنی رپورٹس میں انہیں منصفانہ قرار دیا۔ میڈیا نے بھی بھرپور کوریج کرتے ہوئے نہ صرف لمحہ بہ لمحہ صورتحال سے عوام کو آگاہ رکھا بلکہ انتخابات کے انعقاد پر کڑی نظر بھی رکھی۔ملکی مبصرین کی اکثریت کی رائے کیمطابق بھی یہ انتخابات ہر ممکن حد تک شفاف تھے۔ رائے عامہ کے تمام جائزے بھی جن نتائج کی پیشن گوئی کر رہے تھے کم و بیش وہی نتائج سب کے سامنے آئے۔ ملک بھر میں نگران حکومتیں قائم تھیں جو کہ حکومت اور اپوزیشن کے اتفاق سے معرضِ وجود میں آئیں۔ الیکشن کمیشن نے ہر ممکن حد تک کوشش کی کہ یہ انتخابات غیر جانبدارانہ اور منصفانہ ہوں۔ چیف الیکشن کمشنر کا انتخاب بھی سب کی رائے سے عمل میں آیا اور تمام سیاسی جماعتوں نے اُنکی ذات پر بھرپور اعتماد کا اظہار بھی کیا۔ انتخابی نتائج کو مجموعی طور پر تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے تحفظات کے باوجود تسلیم کیابشمول پاکستان تحریکِ انصاف کے، مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا تحریکِ انصاف کا نقطہ نظر بدلتا گیا۔ دراصل سوشل اور الیکٹرونک میڈیا نے نسبتاً نئی سیاسی قوت پاکستان تحریکِ انصاف کو اتنی زیادہ کوریج اور اہمیت دی کہ اُسکی لیڈرشپ کو اپنی فتح کا یقین ہو گیا اور وہ ذہنی طور پر یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ اُسے وہ کامیابی نہیں مل سکی جسکا وہ گمان کر رہے تھے۔ زمینی حقائق اس سے بالکل مختلف تھے اور عملی سیاست کے تقاضے بھی ان مفروضوں سے قطعاً مختلف ہوئے ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے شور مچانا شروع کر دیا کہ انتخابات میں اُسکے ساتھ زبردست دھاندلی کی گئی ہے جس میں نگران حکومتیں، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کا مرکزی کردار تھا۔ بقول اُنکے ان انتخابات میں ایک منصوبہ بندی کے تحت مسلم لیگ (ن) کو جتوایا گیا ہے۔ یہ وہ بیانیہ تھا جس کو بُنیاد بنا کر ایک منصوبے کے تحت گذشتہ سال 14 اگست کو تحریکِ انصاف نے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا ۔ آغاز میں PTI نے قومی اسمبلی کے چار حلقوں کی جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا جو بڑھتا ہوا پورے انتخابات تک جا پہنچا۔ گذشتہ سال 13 اگست کو وزیرِ اعظم نے قوم سے اپنے خطاب کے دوران ایک جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کیا جو بوجوہ بن نہ سکا۔ بعدازاں ایک احتجاجی سلسلہ شروع ہوا جس نے کئی ماہ تک ملک کو بد ترین بحران سے دوچار رکھا۔ اس دوران پارلیمنٹ نے مثالی اتحاد اور یکجا موقف سے تمام سازشیں ناکام بنا دیں اور یہ بحران بالآخر اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے مطالبے کو تو شروع میں ہی تسلیم کر لیا تھا مگر اسکے دائرہ اختیار اور طریقہ کار (TOR) پر اتفاق نہ ہو سکا جس کی وجہ سے یہ کمیشن نہ بن سکا۔ اس دوران مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا اور آخر کار حکومت اور تحریکِ انصاف کے مابین ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت یہ کمیشن بنانے کا فیصلہ ہوا۔ پاکستان میں نہ انتخابات کی تاریخ باعثِ فخر ہے اور نہ کمیشن بنانے کی۔ ماضی کے تقریباً تمام انتخابات میں ہارنے والے نے دھاندلی کا الزام لگایا جس کی بڑی وجہ انتخابی نظام میں پائی جانیوالی خامیاںہیں۔ سیاستدانوں کے مجموعی رویے نے بھی جمہوریت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے اور نتیجتاً فوجی مداخلتیں ہوتی رہی ہیں۔ پاکستان ایک بڑا ملک ہے جہاں انتخابات کا انعقاد ایک بھرپور ایکسر سائز ہوتی ہے۔ اتنے بڑے کام میں بے قاعدگیوں کا ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں۔ انہی بے ضابطگیوں اور بے قاعدگیوں کا ازالہ کرنے کیلئے الیکشن ٹربیونلز بنائے جاتے ہیں جو انصاف بھی فراہم کرتے ہیں مگر ظاہر ہے انصاف کے دوسرے نظام کیطرح یہاں بھی سست روی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بحرحال اب جبکہ ایک با اختیار جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کیا جا چُکا ہے تو اُمید کرنی چاہیے کہ ملک میں سیاسی استحکام آئیگا اور احتجاجی سیاست ختم ہو جائیگی۔اب تمام فریقین پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کمیشن کے مرتب کردہ نتائج بھی تسلیم کریں بصورتِ دیگر بحران مزید سنگین ہو جائیگا۔ اگر انتخابی نتائج مرضی کیخلاف ہونے پر تسلیم نہ کرنے کی روش جاری رہی تو ظاہر ہے کمیشن کی رپورٹ بھی مسترد کر دی جائیگی۔ آخر کار ہمیں کسی ادارے،شخص یا نظام پر تو اعتماد کرنا ہی پڑیگا ورنہ یہ نظام نہیں چل سکے گا۔ اس سلسلے میں سب سے بھاری ذمہ داری پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ حقیقت پسندانہ رویہ اپناتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو من و عن تسلیم کریں اور اگر یہ رپورٹ اُنکی مرضی اور منشا کیخلاف ہو تو بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتخابات کو دل سے منصفانہ قرار دیں بصورتِ دیگر وہ اپنی سیاسی ساکھ کو سخت نقصان پہنچائیں گے۔ عمران خان انتخابات میں دھاندلی کے جو الزام تواتر سے لگاتے رہے ہیں اور بقول اُنکے اس بارے میں ٹھوس ثبوت بھی موجود ہیں تو اب اُنکی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ ثبوت کمیشن کے سامنے پیش کریں تا کہ اُنکے موقف میں وزن ہو۔ عدالتیں اور عدالتی کمیشن مفروضوں اور الزامات کی بُنیاد پر فیصلے نہیں کرتے بلکہ اُنہیں ٹھوس شواہد اور ثبوت چاہیے ہوتے ہیں۔۔ سیاست کا مرکز و محور اقتدار نہیں بلکہ عوام کی بھلائی ہونا چاہیے اور یہ تب ہو گا جب ہم اقدار کا پاس کرینگے اور مخالفت برائے مخالفت کی سیاست نہیں کرینگے۔ تنگ نظری مفاد پر ستی،منافقت اور نفرت کی سیاست نے نہ ماضی میں ہمیں کچھ دیا ہے اور نہ آئندہ کچھ دے سکتی ہے۔ مجموعی،مثبت اور قومی سوچ ہی ہمیں ایک شاندار مستقبل کی نوید سُنا سکتی ہے۔