بجلی کا بحران، رشوت اور ملاوٹ

بجلی کا بحران، رشوت اور ملاوٹ

گرمیوں کا آغاز ہوتے ہی بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں بھی قابل ذکر اضافہ ہو گیا ہے۔ یعنی پانچ سے بڑھ کر دس گھنٹے، آٹھ سے بڑھ کر سولہ گھنٹے اور بعض مقامات پر یہ دورانیہ بیس گھنٹوں پر بھی محیط ہے۔ یعنی چوبیس گھنٹوں میں صرف چار گھنٹے بجلی میسر ہے۔ اور اس غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا کوئی شیڈول کوئی ٹائم نہیں، یہ موت کی طرح آتی ہے اور جان کی طرح چلی جاتی ہے۔ اس وقت ہمارے ملک و قوم کو دو شدید اور گھمبیر مسائل کا سامنا ہے، ان میں سرفہرست دہشتگردی ہے، جس پر قابو پانے کیلئے فوجی اور سیاسی قیادت ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو چکی ہے اور اس عفریت پر فتح کیلئے (شاید) خلوص دل سے کوشاں بھی ہیں۔ دوسرا اہم ترین مسئلہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے باعث کاروبار زندگی ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث ہماری صنعت اور معیشت پر ناقابل تلافی مضر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ فیکٹریاں، ملیں اور کارخانے بند ہوتے جا رہے ہیں جس کا نتیجہ بیروزگاری کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ بیروزگاری سے غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور غریب کے خودکشیوں اور بچوں کو موت کے حوالے کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے گزشتہ انتخابات میں اپنی ’’کمپین‘‘ کا عنوان ہی ’’بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ‘‘ رکھا تھا اور اس سلسلے میں بہت بلندو بانگ دعوے بھی کئے گئے لیکن مقام افسوس ہے کہ تین سال حکومت کرنے کے بعد حکومت بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنا تو دورکنار، اس بحران میں ایک فیصد کمی بھی کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائی بلکہ گزشتہ تین سال سے اس بحران میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ بجلی کا یہ بحران گزشتہ (تقریباً) پندرہ برس سے ہمارے لئے وبال جان بنا ہوا ہے۔ لیکن کسی حکومت نے اس بحران کو ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ ورنہ یہ کوئی ایسا بحران نہیں جس پر قابو نہ پایا جاسکے، نیک نیت اور محب و طن حکمران تو دریائوں کے رخ موڑ دیا کرتے ہیں اور پہاڑوں کو بھی اپنی جگہ سے ہلنے پر مجبور کردیا کرتے ہیں۔ بجلی کا بحران تو کوئی چیز ہی نہیں ہم میں شاید خلوص نیت اور حب الوطنی کی کچھ کسر باقی ہے جو ہم چاہتے ہوئے بھی بجلی کے بحران پر قابو نہیں پاسکے۔ یا شاید اقتدار کا نشہ ہی حکمرانوں کے دل و دماغ سے عوام کے دکھ درد کا احساس تک مٹا دیتا ہے۔جب ہم اپنے ازلی و ابدی دشمن بھارت کی طرف دیکھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ وہ لوگ اپنے ملک اور عوام سے بے حد مخلص ہیں۔ انہوں نے تقسیم ہند کے بعد سے اب تک لگ بھگ پچاس سے ساٹھ بڑے اور سینکڑوں چھوٹے چھوٹے ڈیم بنا کر اپنا بجلی، زراعت اور معیشت کا مسئلہ حل کرلیا ہے۔ لیکن ہمارے حکمران آج تک کالاباغ ڈیم بنانے پر متفق ہی نہیں ہو رہے اور نہ ہی کوئی دوسرا ڈیم بنانے کی طرف کوئی توجہ دے رہے ہیں۔ بھارت میں غیر ملکی کمپنیاں اور فرمیں اپنا کارو بار چلا رہی ہیں لیکن ہر فرم کو حکومت کی طرف سے ایک ’’پرائس لسٹ‘‘ فراہم کی جاتی ہے کہ فرم اپنی پراڈکٹ حکومت کی مقرر کردہ قیمت سے زیادہ پر فروخت نہیں کرسکتی لیکن ہمارے حکمران ہر غیر ملکی فرم سے اپنا ’’بھتہ‘‘ وصول کرتے ہیں اور ہر غیر ملکی فرم کو شتر بے مہار کی طرح آزادی ہے کہ وہ اپنی پراڈکٹ کی جو چاہئے قیمت، عوام سے وصول کرے، ان فرموں میں میڈیسن، فوڈز، الیکٹرانکس، ڈرنکس وغیر ایسی بہت سی مختلف النوع اشیائے ضروریہ شامل ہیں۔تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم جو خود کو مسلمان کہتے ہیں اور اللہ، رسولؐ کا ماننے والا کہتے ہیں ہم بے ایمان لوگ ہیں؟ اور ہندو جسے ہم کافر اور مرقد کہتے ہیں وہ ایماندر ہے؟  شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ: حضرت موسیؑ کا گدھا خانہ کعبہ جاکر بھی گدھا ہی رہتا ہے۔ گویا ہماری مثال اس گدھے جیسی ہے کہ ہم خانہ کعبہ کا طواف بھی کر آئیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
ہمیں اپنے کردار پر نظر ثانی کرنا پڑے گی۔ ہم عملی طور پر اور اخلاقی طور پر بہت گرے ہوئے لوگ ہیں۔ صرف اپنے آپ کو مسلمان کہنے سے کچھ نہیں ہوگا، مسلمان بن کر دکھانا ہوگا۔ اور اس کا تعلق عمل سے ہے، قول سے نہیں، رسالت مآبؐ نے بڑے واضح الفاظ میں فرما دیا ہے کہ ’’رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ دوسری جگہ آپؐ نے فرمایا: ملاوٹ کرنیوالا ہم میں سے نہیں‘‘۔ گویا ان دو باتوں کا تو فیصلہ ہو گیا کہ رشوت لینے والا، رشوت دینے والا اور ملاوٹ کرنیوالا، یہ تینوں مسلمان ہی نہیں، لہٰذا یہ لاکھ کلمہ پڑھتے رہیں۔ نمازیں پڑھتے رہیں، روزے رکھتے رہیں یا حج کرتے رہیں، یہ لوگ رسول پاکؐ کی امت میں شامل ہی نہیں۔ ان کا ٹھکانہ صرف اور صرف جہنم ہے۔انہی افراد نے ہمارے ملک میں میرٹ اور ایمان کی دھجیاں اڑادی ہیں۔ جب تک رشوت اور ملاوٹ کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کے حقدار نہیں ہیں۔