اس ملک پہ مولا کا کرم ہو کے رہے گا

کالم نگار  |  نذیر احمد غازی
اس ملک پہ مولا کا کرم ہو کے رہے گا

نسلوں کو سنوارنے کیلئے بھی کئی نسلیں درکار ہوتی ہیں اور اس کارخیر میں معاشرے کے ہر فرد کو اپنی خدمات انجام دینا ہوتی ہیں اور اگر اخلاص نیت شامل نہ ہو تو نسلوں کو ایسی دیمک لگ جاتی ہے کہ ہر خوش فہمی اپنے نتائج کے برعکس ہی ہوتی ہے۔ یہی کچھ آج ہمارے پاکستانی معاشرے کو درپیش ہے کہ ہر شخص بزعم خود اصلاح اور نیکی کا فریضہ ادا کر رہا ہے لیکن اپنی نیت میں صفائی نہ ہونے کی وجہ سے وہ ایسے بے برکت اور بے نتیجہ کام کر رہا ہے جو قوم کیلئے قطعاً غیر مفید ہے۔ ہماری درس گاہیں اور تربیت گاہیں ریاکاری، فساد اور بے مقصدیت کے ایسے ادارے بن چکے ہیں جو حسین مستقبل کا سہانا سپنا دکھاتے ہوئے ماضی سے یکسر انقطاع پیدا کر دیتے ہیں اور ہمارا حال بدحالی میں بدل جاتا ہے اسلئے کہ ماضی وہم ہوتا ہے اور مستقل خواب ہی رہ جاتا ہے۔ تب حال دم بریدہ ہو کر ہمیں بھی بے بسی کے سمندروں میں غوطہ زن رہنے پر آمادہ رکھتا ہے۔ اسکا سبب محض خودشناسی اور احوال شناسی سے بے خبری ہے۔ درس گاہیں بھی اسی وطن مایوسی کی شدید ترین زد میں ہیں۔ خودشناسی اور احوال شناسی کیلئے کتاب سے رشتہ مستحکم کرنا بہت ہی اہم ہوتا ہے۔ کتاب شعور زندگی کیلئے آب بقا ہے۔ کتاب احوال حیات کا زندہ تبصرہ ہوتی ہے۔ کتاب میں ماضی کی داستان کو اپنے سینے میں محفوظ رکھتی ہے اور کتاب ہی احوال کائنات کو اپنے صفحات کی رونق بناتی ہے اور کتاب میں افکار پوشیدہ کی روشنی سماج کو عطا کرتی ہے۔ کتاب ہی ام الحیات ہے۔ روشنی کی امین ہے اور حیات تازہ کی امین ہے اس لئے اہل نظر مربیان قوم اور معلمان ملت کبھی بھی کتاب سے ناطہ نہیں توڑتے اور کتاب زندگی کو روشن تر رکھنے کیلئے قلم و قرطاس کی دنیا کو آباد رکھتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے پنجاب یونیورسٹی کے جواں فکر بزرگ دانش وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کی دعوت پر یونیورسٹی منعقدہ کتاب میلے میں حرکت کا موقعہ نصیب ہوا۔ کتابوں کی کائنات میں مسحور ماحول اپنی ذات کو بھلا دیتا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کا یہ عدیم النظر کتاب میلہ ہمتوں کو جوان کرتا ہے، مایوسیوں کو قلب و نظر سے دور کرتا ہے۔ کسی دور میں پنجاب یونیورسٹی کے علمی ماحول میں گدلا پن آ گیا تھا۔ انجانے ہاتھوں نے اپنی نفسانی خواہشوں کی خاطر معصوم بچوں کے ہاتھ میں اسلحہ تھما دیا تھا اور استاد کا ادب بھی عنقا ہو گیا تھا۔ طالب علم کم اور بے ادب سیاسی کارندوں کے ریوڑ زیادہ نظر آتے تھے لیکن زیرک، دلیر اور باشعور مجاہد کامران نے نہایت حوصلے اور تدبر سے ماحول کو بدلنے کی بھرپور کوشش کی۔ وی سی آفس کے آرام دہ ماحول سے نکل کر براہ راست طلبا کی ذہنی اور ملی تربیت کا سلسلہ شروع کیا۔ ڈاکٹر مجاہد کامران ہر شعبے کی تقریبات میں خود شریک ہوتے ہیں اور مختلف دیگر تقاریب میں شریک موجود رہتے ہیں پھر علم پروری اور کتاب دوستی پر انکی برملا پرمغز گفتگو ہمیشہ ہی طالب علموں کو علمی و ادبی دنیا کی جانب جذباتی روح کے ساتھ لوٹاتی ہے۔ وطن سے محبت اور عالم پر فاتحانہ جذبات کو عام کرنا ان کا وطیرہ اخلاق ہے اسی لئے کسی بھی بڑے اہم ملی فریضہ میں معاشرے کے ہر فرد کو بیدار رکھنا اپنا فرض ملی سمجھتے ہیں۔ کتاب میلے میں وطن عزیز کی قدآور شخصیات کو مدعو کیا تھا۔ چودھری ذوالفقار چیمہ سابق آئی جی، نامور شاعر خالد شریف اور سابق گورنر پنجاب شاہد حامد بھی اسی شوق علم کی مجلس میں شریک تھے۔ قارئین گزشتہ ہفتہ ذوق کی آمادگی اور شوق کی فراوانی کا حصہ حیات نظر آتا ہے۔ قوم کے عظیم سپوت میجر طفیل شہید کے گائوں طفیل آباد واقع بورے والا میں ایک خیرشناسا مجلس میں حاضری کا موقع میسر آیا۔ جہاں پر ہمارے دوست چودھری منظور صاحب نے اپنے والدین کی یاد اور ایصال ثواب کے لئے ایک بہت بڑا آنکھوں کا فلاحی ہسپتال بنایا ہے۔ ہسپتال کیا ہے ایک جاذب النظر اور دل کش تفریحی مقام نظر آتا ہے۔ ہسپتال کے نام کے ساتھ ہی بیماری، لاغری اور ضعف کا تصور خواہ مخواہ چلا آتا ہے اور بجھے دل کے ساتھ اس جانب قدم اٹھتے ہیں لیکن چودھری منظور نے اس تصویر کو خوش دلی، ذوق تازہ اور آسان زندگی میں بدل دیا ہے۔ ان کا نظریہ ہے کہ مریضوں کی زندگی کو معمول کی زندگی کا تصور دینا انسانیت کا اہم تقاضہ ہے اسی لئے خوبصورت ماحول اور زندہ دلی کو فروغ دینا چاہئے۔ پھولوں کے چمن اور ہسپتال کی جاذب نظر عمارت مریضوں کو ایک خوش کن ماحول میں لے جاتی ہے۔ ہسپتال کی ایک تقریب میں راقم کو بطور خاص مدعو کیا گیا تھا۔ سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اکرم چودھری کو بھی اس تقریب میں بطور مہمان بلایا گیا تھا۔ درگاہ حضرت بہأالحق ملتان کے سجادہ نشین شاہ محمود قریشی اس تقریب کے صدر تھے۔ تقریب میں بہت گہما گہمی تھی کہ ایک پسماندہ علاقے میں کمزور اور بے سہارا عوام کی مفت خدمت کیلئے رشک فرنگ اہتمام کیا گیا تھا۔ ہسپتال میں آنکھوں کے معالجے کیلئے جدید ترین مشین درآمد کی گئی ہے۔ بہت سی مشینیں ایسی ہیں جن کی نظیر لاہور اور کراچی کے بڑے ہسپتالوں میں بھی میسر نہیں ہے۔ نہایت چابک دست اور محنتی معالجین کی ایک مخلص جماعت اپنے فن و ہنر سے اس پس ماندہ علاقے کے بے سہولت غربا کو نہایت بلند درجہ سہولت مہیا کر رہی ہے۔ آپریشن اور قیام و طعام تیز تمام تر ادویہ جات کے اخراجات جنت عزیز ہسپتال کی مخیر انتظامیہ ہی برداشت کرتی ہے اور آپریشن کے بعد چشمہ جات کی فراہمی بھی اس خیراتی ہسپتال کے کارخیر میں شامل ہے۔ مریضوں کے لواحقین اور اعزہ کیلئے قیام گاہ اور آرام گاہ کے اہتمامات بھی اس ادارے کا ایک نیک کام ہے۔ راقم کے خیال میں ایسے ادارے ملت کے افراد کو اعتماد کی توانائی عطا کرنے کیلئے ایک مضبوط کردار ادا کرنے میں بہت ہی معاون ہوتے ہیں۔
اس ملک پہ مولا کا کرم ہو کے رہے گا
یہ دیس کسی روز حرم ہو کے رہے گا