اسلامی دیوتا !

کالم نگار  |  روبینہ فیصل
اسلامی دیوتا !

پاکستان ایک اسلامی ملک ہے ،یعنی ریاست کو آپ نے کلمہ پڑھا دیا ۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ وہاں کے تمام مسلمانوں کو آپ کلمہ نہیں پڑھا سکے ۔اس بات پر لوگوں کے چہرے تمتما اٹھیں گے اور پورا کالم پڑھے بغیر ہی گالیوں کا طوفان اٹھا دیا جائیگا۔مگر میں اپنی بات پر قائم رہوں گی ۔ کلمہ طیبہ کا پہلا حصہ کیا ہے ؟ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ۔ مگر ہو کیا رہا ہے اللہ کو ہم نے کبھی جائے نماز میں لپیٹ کر اور کبھی قران ِ پاک کی صورت غلاف میں لپیٹ کر تقدیس کیساتھ الماری کے سب سے اونچے خانے میں سجا دیا ہے ۔ وہاں رکھ کر اسے بھول گئے ہیں اور اسکے علاوہ ہر ایک کو اپنی زندگی میں شریک کر لیا ہے ۔ آج اللہ کے شریک کون کون سے ہیں؟ دولت کا بت ، حرص کا بت ، خوف کا بت اور دہشت کا بُت ۔ ہم ان بتوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں پوجتے ہیں ۔ محنت ، ایمانداری ، سچ اور بے خوفی، جن اوصاف میں خدا کا وجود نظر آتا تھا ، انہیں ہم نے زندگیوں سے بے دخل کر دیا ہے ۔ اور پھر بھی لاالہ الااللہ کہتے ہیں ؟
کعبہ کس منہ سے جائو گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی
ہر انسان نے اپنے حالات کے مطابق اپنا ایک خدا بنا رکھا ہے ۔ آج اگر صرف سیاسی لیڈران کی بات کریں تو اندازہ ہوگا کہ وہ لیڈر نہیں بلکہ شریک ِ خدا بنے بیٹھے ہیں ۔
مگر افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے کچھ لیڈروں کو سیاسی پارٹیوں کی سرداری کا اور لوگوں پر راج کرنے کا نا گزیر حصہ سمجھ لیا ہے ، برصغیر کی سیاست کا تاریک پہلو جسے کم از کم اسلامی مملکت پاکستان میں نافذ نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ جمہوریت کا راگ الاپنے والے سارے لیڈر اپنی پارٹیوں کے دیوتا ہیں ، زندہ مورتیاں ہیں جنہیں پوجا جاتا ہے اور پھر ڈھٹائی سے واحدہُ لا شریک کا کلمہ بھی پڑھا جاتا ہے۔ دولت اور خوف کی علامت کے دیوتا ان سب کو ہم نے اسلامی ملک میں رائج کر کے مسلمان کر لیا ہے ۔ پیپلز پارٹی پہلی جمہوری پارٹی تھی اور اسکا چلن آپ دیکھیں ۔ ذوالفقار بھٹو ایک دیوتا کا روپ دھار چکا ہے ۔ اسکے چاہنے والے اسکی قبر کے مجاور بھی ہیں اور اسکی بے حرمتی کرنیوالوں کی قبر بنانے کو ہمہ وقت تیار بھی ہیں ۔ غریب کا بھٹو ایک روٹی کپڑا مکان دینے والی دیوی کا روپ دھارے دلوں میں راج کر رہا ہے اور لوگ ہیں کہ عقیدت کے مارے آنکھیں بند کئے اسی کی کسی اولاد میں اپنا نجات دہندہ ڈھونڈ رہے ہیں ۔ پارٹی کو ہیڈ کرنے کیلئے ایک بھٹو کا نام ضروری ہے ۔ وہ ہیڈ باہر بیٹھا آپکے مسائل سے نا آشنا ، سوئس بنکوں میں اضافہ کرتا جائے ، کرپشن اور اقربا ء پروری کے سارے ریکارڈ توڑ دے ،پھر بھی عقیدت مندوں کی بند آنکھیں نہیں کھلیں گی۔ایک اور بڑی سیاسی پارٹی مسلم لیگ نون، شریف خاندان کی مرہون ِ منت ہے۔ انکا درجہ بھی کسی دیوتا سے کم نہیں۔ جمہوری پارٹی میں جمہوریت نام کی نہیں۔ آمریت بھی نہیں بس عقیدت مندوں کا ہجوم اور خوشحالی اور دولت کا کبیرا kubera)) دیوتا۔ جس سے دولت بنانے کے منتر پوچھنے کیلئے پجاریوں کا ہجوم رہتا ہے۔ اسکے کرشمے کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔  عمران خان ایک اور انسان جو سچ اور ایمانداری کی آواز بن کر ابھرا مگر دیکھتے ہی دیکھتے اسے بھی دیوتا بنا دیا گیا۔ اسکے ماننے والوں نے سوچ لیا کہ اسکے اندر کوئی خامی نہیں اور اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ اسی لئے پارٹی میں عمران خان اپنی replacementتیار کرتے نظر نہیں آتے کیونکہ باقی سب کی طرح اس لیڈر کا بھی یہی ماننا لگتا ہے کہ:
 نہ تھا کچھ تو پارٹی لیڈر تھا کچھ نہ ہوتا تو پارٹی لیڈر ہوتا
ایم کیو ایم، پسے ہوئے انسانوں کی آواز بن کر ابھرنے والی جماعت ، 1984 میں جب باقاعدہ طور پر ایک سٹوڈنٹ جماعت سے سیاسی پارٹی بنی تو پڑھے لکھے لوگوں نے جو شرک نہیں کرنا چاہتے تھے، جو پجاریوں کی فہرست میں شامل نہیں تھے، اس جماعت سے انصاف اور برابری کی امیدیں لگائیں۔ مگر نتیجہ؟ آج یہ جماعت جس وڈیرا شاہی، چوہدریوں، نوابوں، سرداروں اور جاگیر داروں کو للکارتی ہوئی پچھاڑنے آئی تھی، اسکی سب سے بڑی مثال بنی پاکستان کے دیوتائوں میں خوف اور دہشت کی علامت یعنی کالی ماتا کا روپ دھارے اپنی ان گنت زبانوں سے لوگوں کو ڈرا رہی ہے ۔ لوگ ایک دفعہ پھر سے ایک مختلف دیوتا کا شکار ہوچکے ہیں اور پجاریوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس پر قتل، منی لانڈرنگ یا بھتہ خوری کے الزمات ہیں۔ انکے پاس بھی الطاف حسین کا نعم البدل بھی کوئی نہیں۔
اسلامی ملک کیلئے غیر اسلامی ملک کی مثال شائد کچھ ایسی مناسب نہ سمجھی جائے مگر اسی غیر اسلامی ملک نے مجھ میں اسلامی وصف، برابری اور بے خوفی بھر دی ہے اس لئے بتانے دیجئے کہ جب ہم کینڈا آئے تو جان کرائچن وزیر ِ اعظم تھے اور بڑی سیاسی پارٹی لبرل کے چیف بھی۔ 2003 میں دس سال تک حکومت کرنے والے لیڈر نے استعفیٰ دے دیا، جیسے ہی ان کی ذات تنازعات کا شکار ہوئی۔ لبرل پارٹی نے انہیں ناگزیر نہیں سمجھا۔ پال مارٹن جو پارٹی کے اندر ہی کرائچن کے حریف تھے، جیت کر پارٹی کو لیڈ کرنے کی پوزیشن سنبھالی۔ الیکشن میں پارٹی فاتح ہوئی اور پال مارٹن وزیراعظم بنے لیکن جب دوبارہ الیکشن میں لبرل ہار گئی تو پال مارٹن نے پارٹی کے عہدے سے بھی اپنے آپ کو ہٹا لیا اور پارٹی الیکشن کے بعد سٹیفن ڈیون کو عہدہ دے کر ریٹائرڈ ہوگئے۔ جان کرائچن اور پال مارٹن ملک کیلئے اور پارٹی کیلئے ہزاروں اچھے کام کرنے کے باوجود، نہ ملک کیلئے اور نہ پارٹی کیلئے نا گزیر ہوئے۔ آئے اپنا کام کیا ، نہ کر سکے تو عہدے چھوڑ دیے اور سکون سے گمنامی کی زندگی میں چلے گئے۔ نہ ملک رکا نہ پارٹی رکی۔ اسکے بر عکس ہم پاکستان میں کیا دیکھتے ہیں۔ حکومت میں آنیوالی کوئی بھی پارٹی ملک یا لوگوں کیلئے کچھ کر کے دکھانے کی بجائے بھٹو کا نام زندہ رکھنے، شریف خاندان سے عقیدت ابھارنے اور الطاف حسین کو ناگزیر سمجھے جانے پر زور دیتی ہے۔ ہر پارٹی میں اچھے لوگ بھی ہیں انہیں بھی پارٹی کی لیڈر شپ کیلئے تیار کرنا چاہیے۔ کوئی صحیفہ نہیں اترا کہ پارٹی بنانے والا چاہے کرپٹ، بے ایمان اور قاتل بھی ہوں پھر بھی بادشاہت کا ہما اسکے سر پر ہی بیٹھا رہے گا۔ اسلامی ملک میں لاشریک اور نا گزیر صرف خدا ہونا چاہیے انسان نہیں۔ آپریشن کرنے والوں کو سب کے گریبان میں بے خوف ہو کر ہاتھ ڈالنا چاہیے صرف ایک جماعت تک بات نہیں رکنی چاہیے۔