”مسائل کی کھچڑی“

کالم نگار  |  مسرت قیوم
”مسائل کی کھچڑی“

پاکستان میں کبھی گیس اورکبھی بجلی کا سنگین ترین بحران پیدا ہو جاتا ہے تو کبھی امن و امان کے حالات بگڑ کر سب کچھ” تہہ و بالا“ کر دیتے ہیں ۔گزشتہ روزبھی جھل مگسی درگاہ میں 20افراد کو خون میں نہلا دیا گیا ،سبھی سیاست دانوں اس واقعہ پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے ،آخر وہ بھی انسان ہیں ان کے خاندان بھی اپنے عزیز کی قیمتی جان کے اثاثے سے محروم ہوئے ہیں ،ان کی بھی مالی امداد ہونی چاہیے ،سیاسی چپقلش تو اب روز مرہ کا معمول بن چکی ہے۔سوال یہ ہے کہ اٹھارہ کروڑ آبادی والے پاکستان میں ایسے مسائل کیوں پیدا ہوتے ہیں ؟ہمارے ہمسائے میں چین اور بھارت جن کی آبادی ایک ارب سے بھی زیادہ ہے وہ ایسے مسائل سے محفوظ ہیں۔کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ممالک واقعی ترقی کرنے کے” خواہش مند“ ہیں اور اپنے ملک کو سنگین مسائل سے محفوظ رکھنے کیلئے نت نئے راستے تلاش کرتے رہتے ہیں۔ وسائل کی فراوانی کے حوالے سے پاکستان دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے کم نہیں۔ پاکستان سونے اور چاندی کے ذخائر رکھنے والا پانچوں، کوئلے کے ذخائر کے حساب سے تیسرا اور کپاس پید ا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں کوئلے کے ذخائر کی مالیت سعودی عرب، کویت اور ایران میں تیل کے مجموعی ذخائر سے زیادہ ہے۔ ماہرین کی رائے کے مطابق اگر ان ذخائر کا صرف 2 فی صد کوئلہ بھی استعمال میں لایا جائے تو تقریباً 50 سال تک 20 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اتنی نعمتوں کے باوجود ہماری معاشی حالت انتہائی” دگرگوں“ ہے۔ ملک توانائی کے بدترین بحران کا شکار ہے اور ساٹھ ارب ڈالر کے قرضوں کے بھاری بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اس وقت بھی ملک میں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ بلاشبہ ملک کے موجودہ حالات پتھر کے دور کی عکاسی کرتے نظر آتے ہیں۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ وہ ممالک ان مسائل سے کبھی کا چھٹکارا پا چکے ہیں جنہوں نے پاکستان کو کبھی رول ماڈل کے طور پر اپنے سامنے رکھا تھا۔ ملک میں چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہو چکی ہے کیونکہ کوئلے اور پانی سے بجلی پیدا ہونے کی صورت میں پاکستان کا گیس اور مہنگے تھرمل ذرائع سے بجلی کی پیداوار پر انحصار ختم ہو جائے گا۔

پاکستان کے پاس جتنے قدرتی و سائل ہیں وہ بہت کم ممالک کے پاس ہیں۔انڈو نیشیائ، اسرائیل، ساﺅتھ کوریا، تقریباً ایک ہی وقت میں دنیا کے نقشے پر وجود میں آئے۔ مگر ا±نکی اچھی اور اہل لیڈر شپ کی وجہ سے وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور ہم کد ھر ہیں۔ پاکستان کا کل رقبہ تقریباً 8 لاکھ مر بع کلومیٹر ہے مگر اسکے باوجود فی کس آمدنی 3500 ڈالرہے، جبکہ سنگا پور کا کل رقبہ 696 مربع کلومیٹر ہے مگر وہاں پر فی کس آمدنی 85 ہزار ڈالر ہے۔ اسرائیل کا کل رقبہ 20 ہزار مر بع کلومیٹر مگر فی کس آمدنی 36 ہزار ڈالر ہے۔پاکستان بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرضوں پر قرضے لئے جارہے ہیں اور اس غریب ملک کے غریبوں کو مزید قرض دار کر رہے ہیں۔ 2008 میں پاکستان کا فی کس قرضہ 35 ہزار رو پے اور 2015 میں فی کس قرضہ ایک لاکھ اور 20 ہزار روپے تک پہنچ گیا اور لوگوں کی حالت ایسے کے ویسے ہے۔پاکستان کا کل خارجہ قرضہ 80 ارب ڈالر اور ملکی مالیاتی اداروں سے جو قرضہ لیا گیا ہے وہ 16 ہزار ارب روپے ہے جو ملک کے کل آمدن کا 34 فی صد ہے۔ بھارت کا قرضہ ملک کے مجموعی آمدن کا 20 فی صد، بنگلہ دیش کا 19 فی صد اور ایران کا قرضہ ملک کے کل آمدن کا 4 فیصد ہے۔ ا±نہوں نے قرضے لیکر ا±س پر ترقی کے کام کئے اور ہمارے حکمرانوں نے جو قرضہ لیا وہ انکے بیرون ممالک اکاونٹس میں چلے گئے۔ اگر ہماری خا رجہ پالیسی اچھی ہو تو نوجوانوں کو بیرون ممالک بھیج کر اربوں روپوں کا زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے مگر بد قسمتی سے ہماری ناکام خارجہ پا لیسی کی وجہ سے ہم اس مقصد حا صل کرنے میں ناکام ہیں۔حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ دار اور جا گیر دار اپنے اثاثے بیچ کر دوبئی سعودی عرب یا ملائیشیاءمنتقل کر رہے ہیں۔معاشی زمینی حقائق ملاحظہ فرمائیں سٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی طور پر پاکستان کے بیرونی قرضے اور واجبات 9 ارب 7 کروڑ ڈالر کے اضافے سے 82 ارب 98 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے جو گزشتہ سال کی برآمدات کے 382.6 فیصد ہیں بیرونی قرضے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے 386 فیصد اور جی ڈی پی کا 27.3 فیصد ہیں۔ ماہرین کے اعداد و شمار کے مطابق آج ہر پاکستانی ایک لاکھ روپے سے زائد کے قرض کا بوجھ لئے پھرتا ہے۔صورت حال یہ ہے کہ قرض اتارنے کےلئے قرض لینا بھی روایت بن گئی ہے۔ قرض کی مے سے فاقہ مستی سے نجات ممکن نہیں۔ حکومت جتنی کوشش قرضوں کے حصول اور شیڈول کےلئے کرتی ہے اتنی ہی اکانومی کی صورتحال بہتر بنانے کےلئے کرے تو مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں ، حکمران جماعت پانامہ جے آئی ٹی کے معاملے پر ہر روز نیا پتہ پھینک رہی ہے لیکن ہر چال اور تدبیر ان کے اپنے گلے پڑ رہی ہے۔ وفاقی وزراءایک منصوبے کے تحت آنکھوں پر پٹی باندھ کر جے آئی ٹی کیخلاف بیانات داغ رہے ہیں جس سے ان کا اصل چہر ہ قوم کے سامنے بے نقاب ہو رہا ہے۔حقیقت میں پانامہ لیکس حکمرانوں کے گلے کا طوق بن چکا ہے اور یہ کسی صورت بھی اس سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ بد قسمتی سے وفاقی وزراءنے ریاست کا حلف اٹھایا ہے لیکن سار ے وزراءاپنی قیادت کی کرپشن بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اور انھیں عوام کی کوئی فکر ہی نہیں ۔