علم بڑی دولت ہے

علم بڑی دولت ہے

تعلیم کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہ اندھیرے میں روشنی کی مانند ہے۔ تاریخ گواہ ہے جہالت میں پلنے والی قومیں آخرکار تباہی اور بربادی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ تعلیم کے حوالے سے ملکِ عزیز انتہا درجے کی پسماندگی کا شکار ہے۔ اس کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ دنیا کے 193 ممالک جو کہ یو این کے ممبر ہیں میں تعلیم سے محروم بچوں کے حوالے سے ہمارا ملک 192ویں نمبر پر ہے اور صرف نائیجریا ہم سے پیچھے ہے۔ اس ملک عزیز میں 25 ملین بچے سکول نہیں جاتے نیز تعلیمی میدان میں بچیوں کے معاملے میں امتیازی رویہ رکھا جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں تعلیم کے حوالے سے لڑکوں اور لڑکیوں کا تناسب 10:4 ہے اسی طرح سے علاقائی سطح پر بھی تعلیم کے حصول کے ضمن میں بہت زیادہ تضاد موجود ہے مثلاً فاٹا میں لڑکوں کی خواندگی کا معیار 29 فیصد جبکہ لڑکیوں کے حوالے سے یہ صرف 3 فیصد کے قریب ہے۔ اس علاقے میں فنی اور تکنیکی تعلیم کے حوالے سے حالات بہت ہی دگرگوں ہیں اور یہ وہاں نہ ہونے کے برابر ہے۔ تعلیم کے حوالے سے حالات کی زبوں حالی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں موجود کل سکولوں میں سے 40 فیصد یعنی 55,000 پرائمری اداروں میں پینے کا پانی میسر نہیں۔ مزید برآں 55,000 سکولوں میں ٹائلٹ یعنی بیت الخلا موجود نہیں۔ نیز کل پرائمری اداروں میں سے 60 فیصد میں بجلی کی سہولت نایاب ہے اور سکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری بھی پریشان کن ہے اور متعدد ٹیچرز کا سرے سے کوئی وجود نہیں وہ صرف کاغذات میں ہیں اور ہر ماہ ان کے واجبات کی ادائیگی باقاعدگی سے کی جاتی اور یہ پیسہ ذمہ دار افسران کی جیبوں میں جاتا ہے۔ اس ضمن میں ایک سروے کے مطابق خیبر پی کے میں 10 فیصد اور پنجاب میں 25 فیصد اساتذہ صرف کاغذات میں موجود ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر 10 بچوں میں ایک بچہ جو سکول نہیں جاتا پاکستان میں پایا جاتا ہے۔ مزید برآں دنیا میں 26 ایسے ممالک ہیں جو کہ معاشی طور پر پاکستان سے کم تر حیثیت کے مالک ہیں مگر ان ممالک میں پاکستان کے مقابلے میں زیادہ بچے سکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ تعلیم کے حوالے سے ایک اور پریشان کن بات یہ ہے کہ پاکستان کے عالمی سطح پر ’’ملینیم ڈویلپمنٹ گولز‘‘ یعنی ’’ہزار سال تعلیمی ترقی کے ہدف‘‘ کو حاصل کرنے کا قطعی کوئی امکان نہیں جبکہ بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش اس کے حصول کے قریب تر ہیں۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے پنجاب 2041، سندھ 2049، خیبر پی کے 2046 اور بلوچستان 2100 تک مقررہ ہدف حاصل کرنے کے قابل ہوں گے جبکہ ہم نے اس ہدف کو حاصل کرنے کیلئے 2015ء مقرر کیا ہے۔
جہاں تک تعلیمی معیار کا تعلق ہے تو وہ بھی بہت ہی غیر تسلی بخش ہے جس کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ کلاس پنجم کے 47 فیصد بچے دوسری جماعت کے معیار کی آسان اردو میں لکھی ہوئی عبارت نہیں پڑھ سکتے۔ اسی طرح جماعت پنجم کے صرف 37 فیصد طلبہ 3 حرفی تقسیم کا سوال حل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح کلاس سوم کے 73 فیصد بچے اور کلاس پنجم کے 39 فیصد بچے تیسری جماعت کے معیار کی انگریزی کی تحریر پڑھنے کے قابل ہیں۔ اس میں دو آرا نہیں ہو سکتیں کہ تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی میں ایکی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ آزادی کے حصول کے بعد ایک لمبا عرصہ گزر جانے کے باوجود ہم تعلیمی میدان میں قطعی کوئی ترقی نہیں کر سکے۔ اس سلسلے میں اب تک قائم ہونے والی حکومتوں نے اپنا کردار ادا نہیں کیا۔ اس سلسلے میں اصلاح احوال کیلئے کسی فلسفے یا فارمولے کی ضرورت نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی شعبے میں موجودہ سیاسی مداخلت کو یکسر ختم کیا جائے۔ اس کی ایک بہت ہی واضح مثال ہائر ایجوکیشن کمشن کی بیخ کنی ہے جو کہ پچھلی پی پی پی دور میں روا رکھی گئی کیونکہ اس ادارے نے متعدد سیاسی عمائدین کی جعلی ڈگریوں کا پول کھول دیا تھا جنہوں نے انتقامی کارروائی کے طور پر اس ادارے کے فنڈز تقریباً بند کر دئیے جس سے متعدد پاکستانی جو کہ وظیفہ پر بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے تھے ان کو اپنی تعلیم چھوڑ کر وطن واپس آنا پڑا۔
 اس ضمن میں سپریم کورٹ کے احکامات کو بھی ہمارے سیاسی لیڈرز نے پست پشت ڈال دیا۔ اس ’’علم دشمنی‘‘ سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا جس کا طعی کوئی جواز نہیں تھا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ تعلیم کا فروغ ملک کی بقا اور ترقی کیلئے ناگزیر ہے ہم کو اسے زندگی اور موت کا قبلہ بنا کر بھرپور طریقے سے اس کے فروغ کیلئے دن رات کوشاں رہنا پڑے گا۔ اس سلسلے میں مزید کوئی کوتاہی بہت ہی مہنگی پڑے گی کیونکہ دنیا میں ترقی کی رفتار بے انتہا تیز ہے اور اگر ہم نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں تو ہم بہت پیچھے رہ جائیں گے اور پھر آئندہ آنے والی نسلیں ہمیں کبھی بھی معاف نہیں کریں گی۔