طاقت

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
طاقت

جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں مشرف غداری کیس کی شروعات ہوئیں تو مشرف مخالف حلقہ چند روز میں فیصلے کی امید لگائے بیٹھا تھا۔ مشرف کے حامیوں کو بھی خدشہ تھا کہ اس کیس کی پشت پر چونکہ ہیوی مینڈیٹ والی حکومت ہے‘ جج بھی مشرف کے زخم خوردہ ہیں اس لئے عدالتی کارروائی رسم پوری کرنے کیلئے ہو گی اور ایسا فیصلہ سامنے آئے گا جس طرح جنرل ضیاالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ججوں پر کام کر کے حاصل کیا تھا۔ مخالفوں کی توقعات اور حامیوں کے خدشات معلق ہو کر رہ گئے ہیں۔ کیس نے اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کیلئے اگر سوگام کا فاصلہ طے کرنا ہے تو دو تین ماہ میں دو چار گام چلے ہوں گے کہ کارروائی جام ہو کر رہی گئی ہے۔ جنرل مشرف کے وکلا نے عدالت کو الجھانے کی پوری کوشش کی جس میں وہ کامیاب نظر آتے ہیں۔ کیس میں پیشرفت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ملزم پر فردِ جرم ہے اس کیلئے 11 مارچ کو عدالت نے مشرف کو طلب کر رکھا ہے۔ مشرف ایسی فردِ جرم سے بچنا چاہتے ہیں جس میں اُن کو غدار قرار دیا جائیگا۔ وہ اسی لئے فوجی ہسپتال میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ کسی کے گھر ڈکیتی کیلئے تو گھسا جا سکتا ہے، جبری پناہ نہیں لی جا سکتی۔ کیا فوج کے مستقر میں جنرل پرویز مشرف جبری یابمرضی سے بیٹھے ہیں؟ کہا جارہا ہے کہ پناہ دینے والے اپنے سابق سربراہ پر غداری کی تہمت لگتے دیکھنا نہیں چاہتے۔ 18 فروری کی طرح ہو سکتا ہے مشرف عدالت چلے جائیں لیکن وہ اپنے اوپر غداری کی فردِ جرم لگوانے نہیں جائیں گے۔
جنرل مشرف حکمرانوں اور طالبان کے غیظ کے نشانے پر ہیں۔ حکمرانوں نے خصوصی عدالت بنا کر اپنا کام کر دیا۔ طالبان موقع کی تاک میں ہیں۔ اسلام آباد کچہری حملے میں بھی لال مسجد کیس کا حوالہ گونج رہا ہے جس میں مقتول جج رفاقت اعوان نے مشرف کی ضمانت لی تھی۔ خصوصی عدالت میں مشرف کے وکلا نے بتایا کہ ان کو طالبان نے مشرف کیس سے الگ ہونے کی تنبیہ کی ہے۔ رانا اعجاز حلفاً کہتے ہیں کہ خصوصی عدالت کے تینوں ججوں فیصل عرب، یاور علی،طاہرہ صفدر، پراسیکیوٹر اکرم شیخ اور دو وکلا کو قتل کر کے ملبہ مشرف پر ڈال دیا جائے گا۔ یہ کارروائی کون کر سکتا ہے؟ کہیں وہ طاقتور نہ کر دیں جو مشرف کے گھر کے ارد گرد اورعدالت جانے کے راستے میں بم اور بارود رکھ دیتے تھے۔ سب سے زیادہ خطرہ ججوں کی زندگی کو ہے۔ مشرف کیس آگے بڑھتا ہے تو توپ بردار خطرہ میں، مشرف کو ریلیف دیتے ہیں تو حکمران اور طالبان غضب ڈھا سکتے ہیں۔
فوج ایک طاقت ہی نہیں، سب سے بڑی طاقت ہے۔ہاں! اکثر پاکستانی یہی سمجھتے ہیں۔ فوج کئی بارکُھل کر سامنے آئی اور پس پردہ رہ کر اپنی بات ہمیشہ منواتی رہی ہے۔ آج حکمرانوں کو شاید طالبان زیادہ طاقتور نظر آتے ہیں کیونکہ فوج کے مقابلے میں ان کا جھکائو طالبان کی طرف نظر آتا ہے۔
وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان طالبان کو محب وطن کہتے ہیں جن کی حب الوطنی بموں اور بارود سے انسانوں کا خون بہا رہی اور جسموں کے چیتھڑے اُڑا رہی ہے۔ پانچ ہزار فوجی بھی اسی حب الوطنی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ حالیہ دنوں 23 فوجیوں کے گلے بھی اسی جذبے کے تحت کاٹے گئے۔ 3 مارچ کو اسلام آباد کچہری میں خونریزی کی ذمہ داری احرار الہند نے قبول کی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بڑا گرما گرم بیان دیا کہ طالبان نے سیز فائر توڑا تو مارچ میں شمالی وزیرستان میں اپریشن ہو گا۔ اسلام آباد کچہری، وزیرستان میں حملوں سے کیا سیز فائر نہیں ٹوٹا؟ خود وزیر دفاع نے کہا کہ احرار الہند کا تعلق پنجابی طالبان سے ہے۔
حکومت نے فوج کو کارروائیوں سے روک دیا۔ دوسری طرف شدت پسندوں کی کارروائیاں جاری ہیں۔ دانشورانِ قوم فوج کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے کمیٹی میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک احمقانہ اعلان وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ممبئی میں دہشت گردوں کے حملوں کے بعد ڈی جی، آئی ایس آئی کو بھارت بھجوانے کا کیا تھا۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ فوج کو بھی مذاکراتی کمیٹی میں شامل کیا جائے تو اس پر وزیراعظم نے باسی کمیٹی تحلیل کر کے تازہ دم بنانے کا اعلان کر دیا۔ کل کی کور کمانڈر کانفرنس کے دوران نہ صرف مذاکرات میں فوج کو شامل کرنے سے انکار کیا گیا ہے بلکہ فوج کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں روکنے کو بھی پسند نہیں کیا گیا جبکہ دہشت گردی جاری ہے۔ فوجی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ وہ مجرموں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھ سکتے ۔فوج جن کو مجرم قرار دیتی ہے‘ اسے حکومت محرم کہے گی تو بات کہاں تک پہنچے گی؟ خدا جانے حکمرانوں کی مت ماری گئی ہے یا کسی خوف کا شکار ہیں ۔ فوج کو اپنا غلام اور دہشت گردوں کو آقا سمجھ رہے ہیں۔ فوج کے ہاتھ باندھ کر دہشت گردوں کے آگے پھینکنے پر جنرل راحیل کو مجبور کیا جاتا رہا تو شاید وہ جنرل کیانی کی طرح فرمانبردار ثابت نہ ہوں۔ فوج کسی بھی ادارے کی طرح ریاست کی ملازم اور ریاست کے تحفظ کی امین ہے۔ حکمرانوں کے پاس جتنا بھی بھاری مینڈیٹ ہو‘ کیا وہ فوج کے طاقتور ہونے کے زمینی حقیقت کو بدل سکتے ہیں؟ ایسا کرنے کی 12 اکتوبر 99ء کو کوشش کی گئی تھی۔ بلاشبہ جمہوریت میں پوری طاقت حکومت کے پاس ہوتی ہے لیکن کس جمہوریت میں؟ اُس جمہوریت میں نہیں جس میں فوج ’’حکمران سازی‘‘ کر کے مینڈیٹ کا اعلان کراتی ہے۔ مشرف کیس اور طالبان کے ساتھ مذاکرات میں فوج اور حکمرانوں نے دو سِروں پر رسہ تھاما ہُوا ہے۔ یہ کس طرف جا سکتا ہے؟اس کا تعین کرنے کیلئے بہت بڑا دانشور ہونا ضروری ہے۔