انسانی زندگی کی ’’تجاوزات‘‘

کالم نگار  |  مسرت قیوم
انسانی زندگی کی ’’تجاوزات‘‘

ایک دن مارکیٹ میں تھی کہ ایک دم شور مچ گیا ۔۔۔ ریڑھی بان سے لیکر خوانچہ فروش تک بھاگ اُٹھے۔ اک افراتفری کا عالم تھا۔ ان آوازوں کے علاوہ کچھ سمجھ نہ آیا کہ بھاگو ۔۔۔ ’’کارپوریشن والے‘‘ آ گئے۔ ایک گھنٹہ کے بعد پھر وہی مناظر تھے۔ ایک ردی سا پیلا ٹرک شاید اپنا حصہ وصول کر کے کہیں (حکومتی رٹ کی طرح) غائب ہو چکا تھا۔ میں سوچ میں پڑ گئی کہ ہم مزاحمت کب کرتے ہیں اور مزاحمت کی کِس حد تک جا سکتے ہیں؟ سوچ کی ایک اور لہر نے سوال اُبھارا کہ یہ تو روٹی روزگار کے مسائل ہیں، خاندان کی کفالت کا ذریعہ ہے مگر حکومت اور ہم اُن تجاوزات کی طرف توجہ کیوں نہیں دیتے جو انسانی معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔
جھوٹ، کرپشن، عدم برداشت، بدمعاملگی، فریب، مکر، غصہ، نفرت، حسد، کینہ، بُغض، چڑ چڑاپن انسانی زندگی کی تجاوزات ہیں۔ اِن تجاوزات کی بھی کئی اقسام ہیں۔ ہم اپنے دماغ ’’پتھارے والوں‘‘ کی طرح دوسروں کو سونپ کر بے حسی، لا علمی اور حقائق سے گریز کی روش پر عمل پیرا ہیں۔ نہ کچھ خود سے اچھا سو چنے، اچھا کام کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور نہ ہی ایسی کسی مثبت سر گرمی کی نصیحت سُننا گوراہ کرتے ہیں۔ ہم ایک منشتر سوچ کے حامل مائوف الدماغ وجود کی سی حیثیت میں ڈھل کر خود اپنے لئے ایک بڑا بوجھ بن گئے ہیں۔ ہم نے اپنے دلوں کی ’’پارکنگ‘‘ میں خود غرضی۔ ہر قیمت پر صرف اپنی ذات کا مفاد، فائدہ کی گاڑیاں پارک کر رکھی ہیں۔ آنکھوں پر ’’سُنہری تار‘‘ کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ اس چمک دمک کے سامنے ہمارے تمام آفاقی اصول، معاشرتی ضابطے، اخلاقی قواعد و ضوابط، مہذب روایات، سماجی بندھن کے تقاضے دم توڑ چکے ہیں۔ لمحہ موجود کا انسان ایک ایسی زندگی بسر کر رہا ہے کہ جہاں ’’جنگل اور پیسے کا قانون‘‘ ہمرکاب ہے۔ ذات انسانی سے وابستہ انہی خصائص کی وجہ سے معاشرے کی تباہی و بربادی کا ایک مکروہ کھیل جاری و ساری ہے۔ اس کھیل میں ہماری صدیوں پُرانی عظمت رفتہ، انسانی قدریں گمشدہ ہو چکی ہیں۔ اگرچہ ہم سوچتے مثبت ہیں مگر کام منفی کرتے ہیں۔ دوسروں سے پارسائی کی توقع باندھتے مگر خود کے افعال اُلٹ ہوتے ہیں۔ ہمارا دین، دھرم، وعظ، نصیحت صرف دوسروں سے راست بازی، نیکی کی توقع کرتا ہے مگر خود کی ذات متذکرہ بالا تجاوزات کی اسیر ہے۔ اِس لئے آدھے سے زیادہ شہر رات کو ’’ڈاکٹرز کلینک‘‘ پر بے بس، بیماریوں کی لسٹ گنوا رہا ہوتا ہے۔ کبھی کبھار ہماری زندگی میں بھی مارکیٹ میں ’’کارپوریشن کے ٹرک‘‘ کو دیکھ کر بپا ہونے والا شور مچ اُٹھتا ہے۔
جب ہمارا کوئی عضو بیمار ہو کر دُکھنے لگے تب خوانچہ فروشوں کی طرح کا مُک مکا یعنی توبہ تائب کرتے ہیں مگر ازاں بعد علاج --- ہم پھر پُرانی روش پر لوٹ جاتے ہیں۔ ہماری دِلی بے سکونی، ایک اطمینان بخش نیند نہ آنے کی عام شکایات، گھریلو جھگڑے، اولاد کی بے وفائی و بدتمیزی کے واقعات، والدین کی عدم شفقت، عدم توجگی، چھوٹے بچوں کی نافرمانی، بڑوں کے درشت رویے، دن بدن بڑھتی ہو ئی ذہنی بماریاں ان سب کا سبب بڑی وجہ یہی ’’تجاوزات‘‘ ہیں جو ایک انسان نے اپنے وجود کے ارد گرد تعمیر کر رکھی ہیں۔ ہوس نے ’’انسانی عمارت کا جغرافیہ‘‘ بدل کر رکھ دیا ہے۔ بے پناہ کی طمع کے ہاتھوں ہماری صلاحیتیں گروی ہو چکی ہیں انسان کو ’’اﷲ تعالیٰ‘‘ نے ایک Great Work پروڈیوس کرنے کیلئے پیدا کیا تھا مگر تخلیق کسی اور ہی راستے پر جا نکلی۔۔ اپنی پیدائش کی منتہا کے برخلاف انسان کیا کچھ نہیں کر بیٹھا۔ ’’خالق‘‘ کا مسودہ کیا تھا اور تخلیق، سکرپٹ سے میلوں دور، تباہی کی لازوال داستانیں رقم کرنے میں مشغول ہو گئی۔ اپنے قرب و جوار میں پھیلی انسانی درندگی، ظلم و بربریت کو دیکھیں یا پڑھیں کچھ فرق نہیں پڑتا جب تک اُسے روکنے کی اہلیت نہ ہو۔ صرف ایک مضبوط کردار، نیک زبان اور پاکباز دل ہی ان مصائب اور اعصاب کو چٹخاتی کہانیوں سے چھٹکارہ دلا سکتا ہے۔ دل و دماغ کی وسعت، کشادگی اور اعمال کی درستگی، نیک نیتی کی نمو کی خاطر ہم کو ’’جہاد‘‘ مانند تیاری کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اِن تجاوزات کو اپنی زندگیوں سے خارج کر سکیں۔ اِن تجاوزات کے خاتمہ کیلئے نہ تو عام مستعمل ’’مؤثر و مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے اور نہ ہی جامع آپریشن کی ضرورت ہے تو صرف ارادہ و خلوص کے ساتھ نیت کی تجاوزات چاہے دوکان کے آگے ہوں یا پوری مارکیٹ کے گرد و نواح میں یہ دوکان اور مارکیٹ کے ظاہری حُسن و بناوٹ کو بدنما کر دیتی ہیں جو چیز بھی اپنی حد سے تجاوز کرے۔ وہ ظاہر کو دھندلا دیتی ہے اس طرح انسانی وجود کے اطراف پھیلی ہوئی تجاوزات بھی شرف انسانیت کے عظیم آدرش کو دھندلا کئے جا رہی ہیں۔ سو آئیے ان کو ختم کرنے کا عہد کریں۔