اب ہوش بھی .......قصہ پارینہ!

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی
اب ہوش بھی .......قصہ پارینہ!

ایک زمانہ تھا کہ اپنے ادبی ’’شاہکاروں‘‘کی بدولت شہرہ آفاق شخصیت کی حیثیت رکھنے والے ادیب ‘ دانشوروں کی صفحوں میں بھی انگور کی بیٹی سے عشق کو زیادہ مانع امرتصور نہیں کیاجاتاتھا ۔ سعادت حسن منٹوکے بارے میں ایسی داستانیں آج بھی متعلقہ حلقوں میں احباب کی زبان زد عام پر رہتی ہیں۔ معروف شاعر ساغر صدیقی نے تو یہاں تک کہہ ڈالا تھا’’آئو ایک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں .....لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں‘‘۔اس کے علاوہ بھی بہت سارے نام تاریخ میں انگور کی بیٹی سے عشق کے حوالے سے مشہور ہیں ۔
 قیام پاکستان کے کئی برس گزر جانے کے باوجود شراب عام فروخت ہوتی رہی۔ شراب کو صرف اخلاقی اور ہمارے دین اسلام میں حرام قرار دیئے جانے کے باعث ام الخبائث سمجھا جاتا تھا مگر شراب کے کارخانے اور بعض مقامات پر بڑے سٹورز بھی موجود رہے جہاں سے رئیس زاداے مہ نوشی سے شغف حاصل کرنے کیلئے خرید وفروخت کیاکرتے تھے اسی طرح وقت گزرتا رہا اور پھر زمین اورآسمان گواہ ہے کہ ہمارے ملک کے ایک ایسے وزیر اعظم نے شراب کو حرام قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کردی جس نے ایک جلسہ عام کے دوران خود اعتراف کیا تھا ’’تھوڑی سی پیتا ہوں‘ مگر غریبوں کا خون نہیں پیتا‘‘۔قدرت نے اسی وزیراعظم سے شراب پر پابندی عائد کروائی ۔
گزشتہ روز رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی طرف سے پارلیمنٹ لاجز میں شراب نوشی پر گرماگرم بحث اب بھی جاری ہے پرافسوس اسی بات کا ہے کہ ہر کوئی اس بات کو جھٹلانے میں مصروف ہے۔آخر جمشید دستی نے سپیکر قومی اسمبلی کو کیسے ان کے بقول شواہد فراہم کردیئے ہیںاور آخر کیسے انہوں نے میڈیا کے ہمراہ پارلیمنٹ لاجز سے شراب کی بوتلیں برآمد کروائیں ‘کیسے جمشید دستی کے کمرے کے باہر سے پارلیمنٹ لاجز میں شرارتاً شراب کی بوتلیں پہنچائی گئیں۔یہ سارے سوال جواب طلب ہیں اور سب سے حیران کن ‘تعجب انگیز بات سپیکر قومی اسمبلی یہ ہے کہ ارکان اسمبلی کا بلڈ ٹیسٹ نہیں کروایاجائے گا اور بند کمروں میں جو کوئی بھی جو کچھ کرتاہے اس سے ان کو سروکار نہ ہونا ہے۔
پارلیمنٹ لاجز میں کیاہوتاہے ؟اس کی نشاندہی جمشید دستی کرچکے ہیں ۔البتہ بعض اعلیٰ حکومتی شخصیات اور وزراء ‘ ارکان اسمبلی کی محفلوں میں مہ نوشی کو کوئی زیادہ بڑی بات نہیں سمجھاجاتا۔اس کی تفصیلی وضاحت کروں تو مجھے چند برس قبل اپنا چین کا وہ دورہ بھی یاد آجاتاہے جس وفد میں پاکستان سے صرف صحافی شامل تھے اور وہ صحافی بھی شامل تھے جن کاوفاقی دارالحکومت سے تعلق تھا اور ان کا ایسے اشرافیہ کی محفلوں میں اٹھنابیٹھناان کے پروفیشن کا حصہ تھا۔
18فروری 2008کے عام انتخابات کے بعد ایک رکن قومی اسمبلی منتخب ہوکر جب اسلام آباد میں پہنچنے تو انہوںنے ایک مرتبہ بتایا کہ بعض ارکان اسمبلی اوربعض وزرائ‘ بعض سول اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ حکام کی محفلوں میں شراب کے جام یوں چھلکتے ہیں جیسے وہ انار کا جوس پیتے ہوئے اس میں سے جنت کے ایک دانے کے ذائقے کی تلاش میں ہوں۔
 اس سابق رکن قومی اسمبلی کا میں نام نہیں لیتا‘ایسی خبریں گردش میں ہیں کہ آئندہ سینٹ کے انتخابات کیلئے اس کا انتخاب حکمران جماعت کی طرف سے کیاجاسکتاہے۔اس سابق رکن قومی اسمبلی نے بتایا کہ جب وہ نیا نیا اسلام آباد جانے لگا تو محفلوں میں اسے انگور کی بیٹی کے جام پیش کئے جاتے تھے جس پر وہ انکار کرتا تھا تو اسے ’’پینڈو‘‘ہونے کا نعرہ کسا جاتاتھااور پاس بیٹھے تمام ’’ زاہدان‘‘اس قدر مدہوش ہوتے تھے کہ ان کے نعرے تھمنے کا نام نہیں لیتے تھے۔یہ سابق رکن قومی اسمبلی کچھ عرصہ ایسی صورتحال کا سامنا کرتا رہا اور پھر اس نے ان مدہوشوں سے اپنے ہوش کو محفوظ رکھنے کیلئے ایک کہانی گڑ ھ لی اور یوں کہنا شروع کردیا کہ جناب میں پہلے خوب پیا کرتا تھا اور پی پی کر مدہوش ہوجایاکرتا تھا مگر اب میرا جگر خراب ہوچکا ہے‘ ڈاکٹرز نے مہ نوشی سے مکمل طورپر منع کردیاہے لہٰذا میں ’’پینڈو‘‘ نہیں ہوں البتہ وہ مدہوش ہوں جس پر اب مزید مدہوشی غالب نہیں آسکتی۔وہ سابق رکن قومی اسمبلی بلاشبہ کبھی بھی مدہوش نہیں تھا ‘ جمشیددستی نے جس بارے میں آوازاٹھائی ہے ‘ اس پر وہ مدہوشی تو کبھی نہیں آئی لیکن وہ پھر بھی مدہوش ہی تھا کیونکہ اس نے مدہوشوں کو بے نقاب نہ کیا یقیناہماری پارلیمنٹ میں موجود تمام پارسا بھی ان اشراف زادوں کی طرح مدہوش ہیں جو ان کی مدہوشی کو توڑنے کیلئے ہوش مند ہونے کا ثبوت فراہم نہیں کرتے۔سپیکر قومی اسمبلی ہمیشہ غیر جانبدار ہوا کرتا ہے مگر ہماری قومی اسمبلی کے سپیکر شواہد سے پہلے ہی سب جھوٹ ہونے کاتاثر دے رہے تھے اور انہوں نے جمشید دستی پر بھی الزام عائد کردیا کہ وہ متنازعہ بیانات دے کر سستی شہرت کے دلددارہ ہوچکے ہیں ۔ عابد شیر علی جمشید دستی کے الزام کی تردید کرکے ایک معصوم بچے جیسا کردار کیوں ادا کررہے ہیں اگر انہیں جمشید دستی کے ایسے الزام پر کوئی اعترا ض ہے تو پھر اپنے گریبان میں جھانکے اور بتائیں کہ بجلی چوروں کیخلاف بڑھکیں لگا کر اپنا سیاسی قد کاٹھ بڑھانے کے علاوہ وہ اب تک کیا کارکردگی ظاہر کرسکے ہیں۔ صوبائی وزیر قانون راناثناء اللہ خان بھی اس بارے میں کس منہ سے بات کررہے ہیں۔ عابدشیر علی اور رانا ثناء اللہ دونوں میں جتنی مرضی سیاسی جنگ سہی !ان دونوں کا حلقہ انتخاب ایک ہی ہے۔ این اے84عابد شیر علی اور پی پی 70میں راناثناء اللہ خان ہیں ۔میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اپنی کمین گاہوں سے باہر نکلیں یاپھر اس چیلنج کو قبول کریں تو ان کے حلقہ انتخاب سے یہ جتنی مقدار میں کہیں شراب ‘ چرس ‘ ہیروئن اور انہی کے حلقوں میں جس میڈیکل سٹور سے کہیں نشہ آور ادویات لا کر دے دیتا ہوں۔ایسے منشیات فروشوں کو پکڑوانے کی بات اس لئے نہیں کررہا کہ وہ انہی کے چمچے کھڑچے ہیںجو انکی فیصل آباد آمد پر ان کے دائیں بائیں نظر آتے ہیں اور قانون کا سر شرم سے جھک جاتاہے۔
 کیا ایسے معاشرے میں جہاں ارکان اسمبلی جرائم پیشہ افرا دکو اور بالخصوص منشیات فروشوں کو تحفظ کرتے ہیں وہاں پارلیمنٹ لاجز کے اندر شراب نوشی کی بات کرنا کونسا ایسا بڑا جرم ہے جس پر تمام’’ شرفا ‘‘کو اپنی عزت یاد آنے لگی ہے۔کاش انہیں اس عزت کا خیال اس وقت آتا جب ملک کا ایک وزیراعظم شراب نوشی کا اعتراف کرنے کے باوجود شراب کو حرام قرار دے کر اس پر پابندی عائد کرگیا مگر ا سکے بعد آج تک اینٹی بھٹو ووٹ حاصل کرنیوالی کوئی بھی سیاسی اور مذہبی سیاسی جماعت قومی اسمبلی یا سینٹ میں ملک کے اندر شراب کے کارخانوں کو پرمٹ ہولڈرز کیلئے بھی بند کروانے کے ضمن میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکا۔ مولانا فضل الرحمن اور جماعت اسلامی کے حیات و مرحوم کوئی بھی ارکان اسمبلی ایسا نہیں کرسکا ۔
 البتہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ جمشید دستی نے پارلیمنٹ لاجز کے بارے میں ایسی بات کرکے ان لاجز میں رہنے والی خواتین ارکان اسمبلی اور بیشتر ارکان اسمبلی کی فیمیلیز کی بے توقیری کا سبب بنے ہیں تو اس کا سیدھا ساداجواب ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں اگر ایسی حرکات و سکنات ہورہی ہیں تو اس کی روک تھام سے ان کی توقیری نہیں بلکہ توقیر ہوگی ۔صدحیف کہ ہمارے ملک میں برائی بولنے والے کو برا کہا جانے لگا ہے اور جو گندگی میں اٹے پڑے ہیں ان پر ’’ زاہدان شہر‘‘کا ٹھپہ لگا ہوا ہے ۔جس کی سیاہی مٹانے کی کسی میں جرات نہیں ہے۔شاید وزیراعظم میں بھی نہیں۔