’’مجھے کیوں ماررہے ہو‘‘

کالم نگار  |  سید روح الامین
’’مجھے کیوں ماررہے ہو‘‘

مجھے کیوں مار رہے ہو میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، جب سفاک قاتل امجد صابری کو گولیاں مار رہے تھے تو وہ ان سے یہ پوچھ رہے تھے۔ امجد صابری جوکہ اللہ کی وحدانیت خاتم النبین ؐ کی شان بیان کرنے والا اور اہل بیت کا عاشق انسان تھا۔ اس کو کس نے شہید کرایا، کیوں کرایا، اور قاتل کون تھے اور کرانے والے کون ہیں ان سوالوں کے جواب بھی مل جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ ریاست جوکہ ہرشخص کے جان و مال کے تحفظ کی ضامن ہے وہ کہاں ہے؟ اس سے قبل چیف جسٹس کے بیٹے کا اغوا ہوا جوکہ ابھی تک معمہ ہے۔ ایک 83 سالہ بابا جو وزیراعلیٰ ہے کیا وہ ان دونوں سانحات کا ذمہ دار نہیں ہے؟ آج کل تو یہ عالم ہے کہ قاتل مقتول کے جنازے میں سب سے آگے کھڑا ہوتا ہے جس طرح محترمہ بے نظیربھٹو کے قتل کے بارے انگلیاں اٹھیں تو زرداری نے اقوام متحدہ کی ٹیم کو بھاری معاوضہ دے کر ان سے تحقیقات کرانے میں عافیت جانی اور ان کی طرف سے یہ سند حاصل کر لی کہ زرداری اور اس کے خاندان کا بے نظیر کے قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے اسی طرح اب ایم کیوایم کی طرف انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ ایم کیو ایم کا ریکارڈ مکمل گندہ ہے صولت مرزا جب بتا گیا ہے عمران فاروق کے قاتل بول رہے ہیں چندروز قبل ٹی وی پر حکیم سعید کے قتل کا اعتراف بھی ’’بھائی پارٹی‘‘ کے ایک رکن نے کیا ہے۔ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آگ لگانے کا کارنامہ بھی انہی کا ہے جس میں 259افراد جل گئے تھے۔ امجد صابری کے قتل کے دن فاروق ستار کا بیان چل رہا تھا کہ تین سال سے رینجرز جو آپریشن کراچی میں کر رہی ہے یہ اس کا نتیجہ ہے۔ اب غورکریں تورینجرز کا آپریشن تو90فیصد ایم کیوایم کے خلاف ہی ہے۔ فاروق ستار وسیم اختر سمیت کسی کو بھی افسردہ نہیں دیکھا گیا۔ یہ سب جنازے میں شامل تھے۔ بلکہ ان کے لڑکوں نے ایمبولینس سے میت لے کر اپنی ایمبولینس میں ڈالنے کی کوشش کی اپنی وفاداری جتانے کے لئے۔ بہرحال خواجہ اظہار کی آنکھوں میں ہمیں جب آنسو نظر آئے تو ضرب المثل یاد آگئی ’’دکھ یاراں دے تے ناں لے لے روندی بھراواں دے‘‘ آنسو، الطاف حسین بھی لے آیا تھا جب عمران فاروق قتل ہوا۔ مگر ان کی بولتی بند ہے ورنہ امجد صابری کے قتل پر بھی بھائی کچھ نہ کچھ ضرورکرتے۔ بہرحال نبیل گبول نے کہا ہے کہ لیاقت آباد ایم کیوایم کا علاقہ ہے ان کی مرضی کے بغیر یہاں چڑیا پر نہیں مارسکتی۔ مصطفے کمال کا کہنا ہے کہ امجد صابری کے قتل میں ’’را‘‘ ملوث ہو سکتی ہے۔ اب ایم کیو ایم کے را سے تعلقات اور فنڈنگ ثابت ہوچکی ہے مگر وزیرداخلہ نثار نے آنکھیں اور کان بندکئے ہوئے ہیں۔ کراچی کے حالات کب ٹھیک ہوں گے ؟ کون کرے گا؟ ایم کیوایم والے کیا چاہتے ہیں؟ کیا وہ مسلمان اور انسان نہیں ہیں؟ اگرآپریشن ہی کراچی کا واحد حل ہے توکراچی کو تین سال کے لئے مکمل طور پر فوج کے حوالے کر دیا جائے جوکرپٹ سیاست دانوں اور انسانی جان کے دشمنوں کے خلاف کھل کر کام کرے پھرنہ ہی ڈاکٹرعاصم اور عزیر بلوچ جیسے بدنما لوگ پیدا ہونے پائیں اور نہ ہی ایم کیوایم کی بدمعاشی چل سکے۔ انسانی جان سے قیمتی کچھ بھی نہیں، جب تک ایک انسان بھی اگرقتل ہوجاتا ہے تو یہ کہنا غلط ہوگا کہ اب حالات بہتر ہو چکے ہیں جب کوئی سانحہ ہوتا ہے تو چینلز پر مذمتی بیانات چلنا شروع ہوجاتے ہیں ہرکوئی مذمت کرکے سبقت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ لمحہ فکریہ توتب بنتا ہے جب صدر، وزیراعظم، وزیر اعلیٰ و دیگر سرکاری عہدیدار بھی مذمت کرنا شروع کردیتے ہیں۔ بھئی آپ کا کام تو ظلم کو ختم کرنا، مظلوم کو انصاف فراہم کرنا اور مجرم کو بے نقاب کرکے کیفرکردار تک پہنچانا ہے۔ آپ کا کام صرف مذمت کرنا ہی نہیں ہے عوام کی پریشانی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے کہ وزیراعظم صاحب یہاں سے بائی پاس آپریشن کرانے لندن جائیں، اور ادھر لندن کے مہنگے ترین شاپنگ مالز میں عیدکی خریداری کرتے نظر آئیں وزیراعظم نے آغاز میں فرمایا تھا کہ میں اقربا پروری بھی نہیں کروں گا مگر جب نوجوانوں کی قرضہ سکیم کے لئے سو ارب کا انچارج اپنی بیٹی کو بنایا بعد میں ہائی کورٹ کے حکم سے بیٹی کو پیچھے کرنا پڑا تھا۔ اب بھی وزیراعظم کی عدم موجودگی میں مریم نواز ہی وزیراعظم ہاؤس میں امور مملکت چلا رہی ہیں، یہ امورخانہ داری تو نہیں ہیں جنہیں ایک خاتون چلاسکے گی مگر شاید یہ اقربا پروری نہیں بلکہ بیٹی پروری ہے قتل وغارت کا سلسلہ آخرکب تک چلتا رہے گا جب تک امجد صابری جیسے معصوم لوگ بے گناہ مارے جاتے رہیں گے ؟ حکمرانوں کا کام صرف ملک کو لوٹنا ہی ہے حالات ٹھیک کرنا نہیں ہے اگریہ حالات ٹھیک نہیں کرسکتے قتل وغارت ختم نہیں کراسکتے تو یہ حکمران کیوں بنتے ہیں۔ حکومت چیف جسٹس کے بیٹے کے اغوا کار پکڑنے میں ناکام ہے۔ بہرحال امجدصابری کے یتیم چھوٹے بچوں کو کون دلاسا دے گا کون ان کی فریاد سنے گا؟ کون ان کے دکھوں کا مداوا کرے گا ؟ یہ توآنے والا وقت ہی بتائے گا امجدصابری کوحقیقت میں شہادت نصیب ہوئی ہے کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں جماعت اسلامی کے سید منورحسن نے توحکیم اللہ محسود کو بھی شہید قرار دے دیا تھا جوکہ ہزاروں مسلمانوں کا قاتل تھا۔ امجد صابری تو عاشق خاتم النبین اہل بیت ؓ اور سچا کھرا اور بے ضررمسلمان تھا۔ ہماری نظرمیں توپاکستان کے ہرشہری کو وفات کے بعد شہیدکہنا چاہیے، جوکہ غربت بے روزگاری بھوک لاقانونیت جیسی موذی بیماریوں کا مقابلہ کرتے وفات پا جاتے ہیں دیگر الفاظ میں ہرشہری سیاست دانوں کے ظلم کا نشانہ بنتا ہے جو خود تو اربوں بنا لیتا ہے مگرایک عام آدمی روٹی کے لئے ترستا ہوا جان دے دیتا ہے۔