مادر ملت کا دورہ صوبہ خیبر پی کے

کالم نگار  |  ڈاکٹر ایم اے صوفی
مادر ملت کا دورہ صوبہ خیبر پی کے

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے تعلیم پاکستان کے بعد صوبہ سرحد کا دوسری بار دورہ کیا اور بڑے دور دراز علاقوں میں جاکر محبت، خلوص اور پاکستانیت کا پیغام دیا۔پہلے دورہ میں آپ نے قائداعظم محمد علی جناحؒ گورنر جنرل پاکستان کے ہمراہ پشاور، رسالپور تشریف لے گئیں تھیں۔اس نجی دورہ میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے پشاور کے شہریوں کو 30 اپریل 1949ءکو خطاب کیا۔ ایسی خوبصورت زبان اور خیالات کا اظہار کیا کہ لوگ ہش ہش کر اٹھے اور ان کو اپنے عظیم لیڈر، رہنما حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی یاد آگئی اور بے پناہ جوش و جذبہ کے ساتھ نعروں سے پشاور شہر گونج اٹھا۔
محترمہ نے فرمایا آپ اپنے اندر تبدیلی اور نئی سوچ پیدا کریں کہ آپ سب نے ملکر ایک ٹیم کی حیثیت میں محبت، پیار، خلوص، دیانتدار سے رہنا ہے اور اپنی حکومت کو مضبوط کرنا ہے۔ اگر آپ میں یکجہتی رہی اور آپ ایک رہے تو آپ تمام بین الاقوامی مشکلات پر قابو پاسکیں گے آپ اندرونی طور پر مضبوط اور اکھٹے ایک قوم کی حیثیت سے رہیں۔ آپ کی یکجہتی کا پیغام ایک سبق تھا۔ نصیحت تھی اور اس میں کچھ راز پوشیدہ تھے۔ جن کی طرف مادر ملت نے اشارہ کیا کہ کچھ لوگ بیرونی طاقت کا آلہ کار بنتے جا رہے ہیں اور حکومت پاکستان اور حکومت سرحد کی توجہ اچھے کام کرنے کی بجائے دوسرے راستہ پر لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ نے خان عبدالقیوم خان کی وزارت اور حکومت کی بڑی تعریف کی کہ صوبہ سرحد کی حکومت بہت ساری ریفارمز میں سبقت لے چکی ہے۔یادر رہے قیام پاکستان سے قبل سرحد میں کانگریس کی وزارت تھی۔ صرف ضلع پشاور میں دو کالج تھے۔ اسلامیہ کالج اور ایڈورڈ کالج باقی اضلاع ہزارہ، مردان، بنوں، کوہاٹ، ڈیراسماعیل کسی جگہ ڈگری کالج نہ تھے۔ صرف ہائی سکول تھے اور لڑکیوں کے ہائی سکول بھی سارے صوبہ میں کانگریس وزارت کے دوران نا پید تھے۔پشاور کے شہریوں نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں مادر ملت کو خراج تحسین پیش کیا۔ مادر ملت نے بھی اپنے خطاب میں مسلمانوں کے محبوب لیڈر کی شخصیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اب پاکستان کے عوام کا فریضہ ہے کہ اپنے حسین ملک پاکستان کی حفاظت کریں اور اسے مضبوط سے مضبوط تر بنائیں۔ آپ نے ایک مزید زمینی خزانہ کی طرف اشارہ کیا کہ اللہ نے پاکستان کی دھرتی، پہاڑوں، میدانوں میں خزانے رکھے ہیں۔ انکو تلاش کیا جائے۔ اگر اس طرف قوم کا دھیان ہو گیا اور زمین کے اندر خزانوں کو تلاش کرلیا تو قیمتی پھتر، ہیرے، تیل، گیس،، میسر آئینگے اور پاکستان دنیا کے ممالک میں اقتصادی اعتبار سے اور قدرتی ذرائع کے ذریعہ مضبوط اور خوشحال ہو جائیگا۔ یہ ایک تاریخی نوعیت کا خطبہ تھا۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی آمد کا بڑی شان و شوکت سے استقبال کیا۔ لوگوں میں جوش و خروش تھا۔ لوگ بڑی محبت لیکر جلسہ گاہ میں آئے۔ خان عبدالقیوم خان وزیراعظم صوبہ سرحد نے اپنی تقریر میں مادر ملت کو یقین دلایا کہ صوبہ سرحد کے عوام کے پاکستان کیلئے ہر قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے اور مضبوط پاکستان کیلئے سب کچھ کرینگے۔ پشاور یونیورسٹی ابھی تیاری میں ہے۔ خان عبدالقیوم خان نے جاگیرداری نظام کو ختم کرنے کے فوائد بتائے۔ ایسے اقدام سے سرحد حکومت کو تقریباً 15 سے 20 لاکھ روپیہ حاصل ہوگا اس آمدنی سے 6لاکھ روپیہ تعلیمی پروگرام قائداعظم سے خیبر یونیورسٹی کا قیام علم میں لایا جائیگا۔ خان قیوم نے مزید صاف بات مادرملت کی موجودگی میں عوام کے سامنے کہہ دی کے پٹھانستان کا شوشہ لوگ افغانستان میں بیٹھ کر لگا رہے ہیں۔ خان عبدالقیوم خان نے للکار کر کہا کہ ان کو علم ہونا چاہئے۔ ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان بڑا مضبوط اسلام کا قلعہ ہے۔ افغانستان پاکستان سے ٹکر نہیں لے سکتا۔ ہمارے دشمنوں کو جان لینا چاہئے کہ پاکستان ایک مضبوط ملک ہے اور پاکستان کے جوان، قبائل، لوگ، حفاظت کرنا جانتے ہیں، مادر ملت اپنے اس دورہ سے بڑی مطمئن رہی اور باقی سرحد کے اضلاع کا دورہ کیا۔ اسی طرح پارہ چنار میں آپ کا بڑا استقبال 2 مئی 1949ءکو ہوا۔ تمام راستے درہ کوہاٹ سے لیکر پارہ چنار تک جھنڈیاں اور دروازے رنگیں طرز کے لگائے گئے۔ حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ زندہ باد.... مادرملت زندہ باد کے نعرے ہوا میں گونج رہے تھے۔ 200 میل کے فاصلہ پر پہاڑوں کے موڑوں پر لوگ کھڑے تھے اور جب اتوار کی شام محترمہ پہنچی تو پارہ چنار کے مرد اور خواتین برقعوں میں ملبوس تھیں۔ نعرے مادرملت کی شان میں لگا رہے تھے۔ لوگ بے تحاشہ تھے کہ کسی طرح وہ حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی بہن میں عکس قائداعظم دیکھ سکے۔ مادرملت کیلئے اوپن کار تھی۔ وہ لوگوں کا نہایت گرم جوشی سے جواب دے رہی تھیں۔ قبائل نے کئی گیٹ لگائے۔ انکی خوشی میں روائتی ہوائی فائرنگ کی اور نعروں کی اتنی آواز بلند اور جذبے والی تھی کہ درہ کوہاٹ اور کرم ایجنسی تک جارہی تھی۔ لوگوں میں بے پناہ جذبہ، خلوص اور دلی محبت تھی۔ اس اظہار سے محترمہ بڑی مطمئن اور خوش تھیں۔ دوسرے روز مادر ملت نے باغ جناح پارہ چنار میں چنار کے درخت لگانے کا اعزاز حاصل کرنا تھا۔ کیونکہ یہ ان کا پارہ چنار میں پہلا سفر تھا۔ پارہ چنار جاتے ہوئے راستہ میں کوہاٹ کے ڈپٹی کمشنر ہاو¿س میں تناول فرمایا جب آپ پارہ چنار پہنچ گئیں۔ تو کرم ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ مسٹر یوسف خان اور ان کی اہلیہ نے مادر ملت کا پر جوش استقبال کیا۔ تمام شہر کے لوگ جوان بوڑھے، عورتیں‘ بچے مادر ملت کی شخصیت کا دیدار کرنے ٹوٹ پڑے‘ کیونکہ وہ قائداعظم نجات دہندہ کی چہیتی بہن تھی اور تحریک پاکستان میں عورتوں کی بیداری میں فاطمہ جناح نے بڑا کام کیا۔ نیشنل گارڈ کے سکواڈ نے گارڈ آف آنر پیش کیا اور بینڈ نے سریلی دھن بجائیں۔ مادر ملت نے شہر کا دورہ کیا۔ لوگوں نے پھول برسائے اور عقیدت کا اظہار نعروں سے کیا۔ مادر ملت نے کوئی دو ہفتے پارہ چنار گورنر ہاو¿س میں آرام کیا اور پارہ چنار کے عوام نے ان کو بے حد پیار کیا۔