فاطمہ جناح اور انسداد تپدق کی تحریک

کالم نگار  |  نذرالاسلام خورشید
فاطمہ جناح اور انسداد تپدق کی تحریک

 قائداعظم محمد علی جناح زندگی کے آخری برسوں میں تپدق جیسی مہلک بیماری میں مبتلا تھے لیکن اس مرض کی شدت سے منسلک حقائق کو بیرونی دنیا سے چھپانے کی ذمہ داری ان کی پیاری ہمشیرہ کامیابی سے نہ نبھاتیں تو برٹش حکومت اور پوری ہندو قیادت شاید ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں بھی کچھ تاخیر برداشت کر لیتی اور بابائے قوم کی خرابی¿ صحت کی صحیح صورتحال بھی ان پر واضح نہ ہو پاتی تاہم مو¿رخین کا کہنا ہے قائداعظم موذی مرض تپدق میں میں مبتلا ہونے کے حقائق کو بیرونی دنیا سے چھپانے کا کریڈٹ محترمہ فاطمہ جناح ہی کو جاتا ہے جنہوں نے اپنے عزیز بھائی کی زندگی کے آخری چند سال ان کی صحت اور علاج کی چوبیس گھنٹے ڈٹ کر دیکھ بھال کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بابائے قوم نے کمزوری کے باوجود نہ صرف اسلامیان ہند کیلئے ایک الگ آزاد وطن کے حصول کی جرا¿ت مندانہ جدوجہد جاری رکھی اور دوسری جانب اپنے مرض سے بھی خاموشی سے لڑتے رہے۔ آج تحریک پاکستان پر ریسرچ کرنے والے مو¿رخین اور محققین کا کہنا ہے کہ اگر محترمہ فاطمہ جناح اس آڑے وقت میں ہندوستان کی سیاست میں سرگرمی کا مظاہرہ نہ کرتیں تو آزاد اسلامی فلاحی مملکت کا ظہور میں آنا بہت مشکل ہوتا۔
مادرِ ملت فاطمہ جناح پیشے کے لحاظ سے ڈینٹسٹ تھیں لیکن جب انہوں نے یہ صورتحال بھانپ لی کہ اگر بابائے قوم کی جدوجہد میں ان کا دن رات ساتھ رہ کر صحت کی دیکھ بھال کا فریضہ ادا نہ کیا جائے تو وطن کی آزادی کی تحریک بھی متاثر ہو گی۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے شعبہ خواتین کو انتہائی فعال اور منظم بنانے کا قومی و ملی فریضہ پوری لگن اور محنت سے انجام دیا اور آج مادر ملت ہی کی شخصیت حقیقی معنوں میں رول ماڈل بن چکی ہے۔ محترمہ کی کوششیں رنگ لائیں اور حقائق نے ثابت کیا کہ تحریک آزادی میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے۔ ان کی پُرزور خواہش تھی کہ جس موذی مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود ان کے بھائی نے تاریخ میں اپنا زبردست مقام حاصل کیا اس بیماری کے خاتمے کو بھی اپنے قومی مشن کا حصہ بنا لیا جائے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب جدوجہد آزادی کی کامیابی کے صرف ایک سال بعد آزاد اسلامی مملکت کے بانی تپدق کے شدید حملے کے بعد انتقال کر گئے تو ہندوستان کے آخری برطانوی وائسرائے لارڈ ماﺅنٹ بیٹن بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ اگر مجھے علم ہوتا کہ ”مسٹر جناح کو ٹی بی کا مرض لاحق ہے تو شاید میں برٹش گورنمنٹ اور ہندو لیڈروں کو بھی ہندوستان کی آزادی میں کم از کم دو سال تاخیر سے تو ضرور قائل کر دیتا کیونکہ مسٹر جناح نہ ہوتے تو الگ مسلم مملکست بھی حاصل نہ ہو سکتی!“ مطلب یہ ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے اپنے بھائی کی مہلک بیماری کو چھپا کر خود بھی تحریک آزادی کے چوٹی کے رہنماﺅں میں اپنا مقام بنا لیا۔
نوآزاد اسلامی مملکت میں تپدق کی روک تھام اور دیگر امراض کے خاتمے کی جدوجہد میں محترمہ نے زبردست کردار ادا کیا جبکہ اکتوبر 1955ءمیں لاہور کی مخیر اور درد دل رکھنے والی 25 شخصیات نے خود اپنے خرچ پر ٹی بی اینڈ چیسٹ کلینک قائم کیا تو اس کے افتتاح کیلئے ان کی نظر انتخاب محترمہ فاطمہ جناح ہی پر پڑی کیونکہ دیگر کئی مراض کے قلع قمع کیلئے رضاکارانہ خدمات کی انجام دہی کیلئے کراچی اور لاہور میں انجمنیں وجود میں آئیں تو رسم افتتاح کیلئے انہی کو مدعو کیا گیا۔ لاہور میں قائداعظم کے معروف معالج ڈاکٹر سید ریاض علی شاہ اور تپدق کے دیگر سپیشلسٹ ڈاکٹر صاحبان نے ٹی بی اینڈ چیسٹ کلینک کے افتتاح کیلئے محترمہ ہی کو دعوت دی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔ افتتاحی تقریب ہی کے دوران محترمہ فاطمہ جناح کی تجویز پر صرف تپدق کی روک تھا اور نادار مریضوں کے مفت علاج اور بعد از صحت یابی روزمرہ زندگی کے کاروبار میں تندرست ہونے والے مریضوں کی بحالی کیلئے ایک ملک گیر تنظیم کی داغ بیل ڈال دی گئی جسے محترمہ نے نہ صرف ”پاکستان اینٹی ٹی بی ایسوسی ایشن“ کا نام دیا بلکہ ابتدائی اخراجات کیلئے اپنی جیب سے ایک معقول رقم مریضوں کے لیبارٹری ٹیسٹ کے سامان کی خریداری کی خاطر بھی فراہم کر دی۔ انہی کی تجویز پر بابائے قوم محمد علی جناح کے آخری معالج ڈاکٹر ریاض علی شاہ ہی کو ایسوسی ایشن کا چیئرمین نامزد کر دیا گیا۔ محترمہ فاطمہ جناح کی سرپرستی میں قائم شدہ یہ تنظیم پاکستان اینٹی ٹی بی ایسوسی ایشن نصف صدی سے ملک بھر میں تپدق کے انسداد اور مریضوں کے مفت علاج میں مصروف ہے اور ادارے کے چیئرمین کے عہدے پر ایک خدا ترس اور نیک شخصیت چودھری محمد نواز فائز ہیں۔ ملک کے چاروں صوبوں میں ایسوسی ایشن کی 100 سے زیادہ ذیلی شاخیں تپدق کے نادار مریضوں کا مفت علاج کر رہی ہیں جبکہ ادارے کے اخراجات محض عطیات اور رضاکارانہ امداد دینے والوں کے تعاون سے چلائے جا رہے ہیں اور ایسوسی ایشن کے عہدیدار بھی بلامعاوضہ کام کر رہے ہیں۔