دبستان اقبال اور پاکستان کے آبی مسائل

کالم نگار  |  ظفر علی راجا
دبستان اقبال اور پاکستان کے آبی مسائل

علامہ اقبال کی یادوں کو تارہ رکھنے اور اقبال کے پیغام کو عوامی ابلاغیات کا حصہ بنانے کیلئے سرکاری اداروں کے علاوہ اقبال فورم انٹرنیشنل اور دبستان اقبال جس کی روح رواں اقبال کے نواسے اقبال صلاح الدین ہیں نہایت باقاعدگی سے اقبالیات پر لیکچروں کا اہتمام کرتے ہیں۔ جن میں فکر اقبال کو عقل و دانش کے نت نئے پیمانوں پر پرکھا جاتا ہے۔ ماہرین اقبال کے تحقیقی اور تشریحی خطابات سن کر اقبال سے ابدی جدائی کی گھڑیاں نگاہوں میں گھومنے لگتی ہیں اور عاشقان اقبال سوچنے لگتے ہیں۔
5 جولائی کو موبائل پر پیغام موصول ہوا کہ آبیات اور ماحولیات کے ماہر ڈاکٹر سلطان محمود، دبستان اقبال میں لیکچر دیں گے۔ اقبال کے بارے میں ہمیں اتنا تو معلوم تھا کہ وہ پنجاب کی دیہی زندگی کے مسائل سے آگاہی رکھتے تھے اور دیہات میں قانون سازی کے ذریعے سہولیات کی فراہمی انکی جدوجہد میں شامل تھی لیکن پانی کے مسائل اور فکر اقبال کی باہمی کڑی ہماری سوچ سے بالاتر تھی اس لئے ہم بھاگم بھاگ اس محفل میں جا پہنچے۔ ڈاکٹر سلطان محمود نے اپنے لیکچر کا آغاز اقبال کے اس شعر سے کیا۔
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے
اسکے بعد آبی مسائل پر حیرت انگیز معلومات اور چونکا دینے والے انکشافات کے دریا بہا دیئے اور مسائل کی دریائی طغیانی میں ہچکولے کھانے والی قومی کشتی کو پرسکون زرعی اور معاشی وادیوں سے ہمکنار کرنے کا نسخہ کیمیا بھی آشکار کیا۔ ڈاکٹر سلطان محمود آبیات اور ماحولیات سے متعلق حکومتی اداروں میں تحقیقی کام سے منسلک رہے ہیں۔ وہ ایسے راز ہائے درون خانہ سے آگاہی رکھتے ہیں جنہیں سن کر زر پسند افسر شاہی اور اقتدار پسند سیاست دانوں پر تین حرف بھیجنے کو جی چاہتا ہے۔
 ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر کے بلند پہاڑوں پر سینکڑوں میٹر لمبائی اور چوڑائی والے گلیشئر ہیں گرمیوں میں جب یہ پگھلتے ہیں تو ان کا پانی بھارت اور پاکستان کے دریاﺅں میں آتا ہے۔ بھارت کیونکہ رقبے اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان سے کئی گنا زیادہ ہےں جب پاکستان تشکیل پا رہا تھا تو پنڈت نہرو کو کشمیری ہونے کے ناطے، آنیوالے زمانے میں پاکستان کی آبی بالادستی کا ادراک ہو گیا تھا لہذا ایک سازش کے تحت ریڈ کلف کمیشن نے وادی کشمیر کو متنازعہ بنا دیا پھر قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم اور لیاقت علی خان کی رحلت کے بعد نہرو نے 1952ءمیں پاک و بھارت آبی معاہدے کا ڈول ڈالا۔ نہرو پالیسی کے تحت تین مختلف محاذ کھولے تاکہ مستقبل میں پاکستان کوئی بڑا ڈیم نہ بنا سکے۔ پہلا محاذ سندھ میں کھولا گیا۔
جی ایم سید اور دیگر سندھی سیاستدانوں کو کالا باغ ڈیم کیخلاف بھڑکایا گیا۔ خفیہ فنڈ سے سالانہ رقوم مہیا کی گئیں۔ جب ایم کیو ایم وجود میں آئی تو اسے بھی اسی لائن پر لگا دیا گیا۔ دوسرا محاذ صوبہ سرحد میں کھولا گیا۔ اور ڈیم کی مخالفت باچا خان سے کروائی گئی۔ اسکی وفات کے بعد اسکے بیٹے ولی خان کو ہلا شیری دی گئی۔ اس نے کالا باغ ڈیم کو بم سے اڑانے کا اعلان کر دیا۔ ولی خان کی وفات کے بعد اس کا بیٹا اسفند یارولی اس شرط پر پیپلز پارٹی کی زرداری حکومت میں شامل ہوا کہ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ ختم کر دیا جائے۔ زرداری حکومت نے برسر اقتدار آتے ہی یہ منصوبہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ تیسرا محاذ یہ کھولا گیا کہ پاکستانی آبی انجینئروں کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ پاکستان کو تاخیری حربوں میں الجھا کر ڈیموں کی تعمیر کو معرض التواءمیں ڈالے رکھیں تاکہ آبی معاہدے کی ایک خاص شق کا فائدہ اٹھا کر پاکستان کے حصہ میں آئے دریاﺅں کے پانی پر ڈاکہ ڈالا جا سکے۔ بھارت کی چالبازیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کشن گنگا ڈیم خلاف دائر کئے گئے چار مقدمات میں شکست سے دو چار ہو چکا ہے۔ اس شکست کی وجہ نیلم جہلم کی تکمیل میں غیر ضروری سازشی تاخیر ہے۔ نیلم جہلم پراجیکٹ کی تکمیل کیلئے بارہ کھرب روپے چاہیں جبکہ بجلی کے بلوں میں قوم سے اس مقصد کیلئے جو رقم وصول کی جا رہی ہے۔ وہ ایک سال میں صرف دس ارب روپے بنتی ہے ورلڈ بینک یہ کہہ کر سرمایہ کاری سے انکار کر چکا ہے کہ یہ پراجیکٹ متنازعہ علاقہ میں بنایا جا رہا ہے۔ نیلم جہلم میں جتنا پانی چاہیے اس کا ایک بڑا حصہ بھارت غائب کر رہا ہے۔ میں نے تحقیق کے بعد یہ رپورٹ متعلقہ حکام کو دی تو مجھے کہا گیا کہ میں اس رپورٹ کو تبدیل کر دوں افسر شاہی کے آگے جھکنے سے انکار پر مجھے ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ ڈاکٹر سلطان محمود کی بے خوف باتیں سن کر ہمیں یوں لگا جیسے اس ماڈرن شخص کے اندر کوئی درویش یا قلندر دھمال ڈال رہا ہے اور یہ دھمال ہمیں شرم سے پانی پانی کر رہی ہے۔ اچانک اقبال کا یہ شعر دل میں دھمال ڈالنے لگا۔
پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ تن تیرا نہ من