تحفظ پاکستان بل کے بارے میں تحفظات

کالم نگار  |  ادیب جاودانی
تحفظ پاکستان بل کے بارے میں تحفظات

قومی اسمبلی کے بعد گزشتہ روز پیر کو ایوان بالا نے بھی تحفظ پاکستان بل کی منظوری دے دی ہے اور یہ منظوری متفقہ طور پر دی گئی ہے یعنی سینیٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتیں اس پر متفق ہیں کہ قانون نافذ کرنیوالے ادارے جس کے گھر میں چاہیں بلا اجازت داخل ہو کر جو مرضی آئے کر سکیں گے ۔ گو یہ کام تو کئی برس بلکہ عشروں سے جاری ہے اور پولیس یا دیگر ایجنسیاں گھروں میں گھس کر اتر جاتی ہیں اور پھر کسی قانون کو خاطر میں نہیں لاتے ۔
 مشتبہ شخص ملے یا نہ ملے لیکن ایسی کئی خبریںسامنے آچکی ہیں کہ گھر کا قیمتی سامان غائب ہو جاتا ہے ۔ اب اس لاقانونیت کو قانون کا لبادہ اڑھا دیا گیا ہے اور بلا اجازت گھر میں گھس کر من مانی کرنے کو کسی عدالت میں چیلنج بھی نہیں کیا جا سکے گا۔لیکن جب یہ کام کسی بل کی منظوری کے بغیر جاری تھا تو اسے لاقانونیت کو کہیں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ ایسے کئی مقدمات عدالتوں میں ہیں جن میں مدعیان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں نے سب کے سامنے کسی کو اٹھا لیا اور اب اس کا سراغ نہیں مل رہا لا پتا افراد کے متعدد مقدمات عدالتوں میں پڑے فیصلے کے منتظر ہیں اور اب ایک بل کے ذریعہ فیصلہ ہوگیا کہ کسی کو گھر میں گھس کر اٹھا لینا بھی قانون کے مطابق ہوگا۔ اس سے آگے بڑھ کر تحفظ پاکستان بل میں یہ بھی طے ہو گیا ہے کہ مشتبہ شخص کو گولی مار دینا ریاست کا قانون ہے اس سے قانون نافذ کرنیوالے ان تمام اہلکاروں کو فائدہ پہنچے گا جن پر بے گناہ افراد کو گولی مارنے کے مقدمات قائم ہیں ۔تحریک انصاف کے راہنما شاہ محمود قریشی کے مطابق پاکستان اور دنیا بھر کے قوانین کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ استعاثہ کسی شخص پر لگائے جانیوالے الزامات کو ثابت کر تا ہے لیکن نئے بل میں کہا گیا ہے کہ ملزم خود اپنی بے گناہی ثابت کرے ۔
 امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے خیال میں تحفظ پاکستان بل آئین کی بنیادی روح کیخلاف ہے اور اسکے ذریعے شہریوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی ہے مقتدر طبقہ اس بل کی آڑ میں اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگانے میں آزاد ہو جائیگا۔ تحفظ پاکستان بل ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لا لگانے اور جمہوریت کے چہرے کو مسخ کرنے کے مترادف ہے ۔ ایک اصولی بات پر تمام ماہرین قانون اور شہریوں کا اتفاق ہے کہ ملک میں پہلے سے موجود اور مروجہ قوانین پر عملد رآمد ہو تو نئے قوانین بنانے کی ضرورت نہ پڑے۔حکومتی کمزوریوں اور مصلحتوں کے باعث ملک بھر میں اسکی رٹ نظر نہیں آتی ۔ دہشت گردوں اور قانون شکن عناصر کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ امن اومان کے معاملے میں ہر حکومت کا بیشتر انحصار پولیس پر ہوتا ہے ۔
 اس محکمے میں متعدد اصلاحات اور تنخواہوں کے اسکیل بہتر کرنے کے ملزموں کو بری کرالیتی ہے عدلیہ کے مخالفین پولیس کی اس ناقص کارکردگی کا الزام اعلیٰ عدالتوں پر عائد کرکے عوام کو ان سے بد ظن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تحفظ پاکستان بل 2014 ءکی منظوری خصوصی حالات میں ایک ضرورت ضرور ہے لیکن اسے قدرے تاخیر سے ضرور لایا گیا ہے ۔ بل میں پولیس کو جو لا محدود اختیارات دئےے گئے ہیں اگر ہماری پولیس ذمہ داری کے ساتھ احتیاط کے تقاضوں کے مطابق نیک نیتی اور ایمانداری سے اس کا استعمال کرے تو اصلاح احوال کا عمل قرار پائے گا لیکن پولیس کا جو روایتی کردار ہے یا جس کردار و عمل کا مظاہرہ حال ہی میں ماڈل ٹاﺅن لاہور میں کیا گیا ہے اسکے تناظر میں دیکھا جائے تو پولیس کے موجودہ اختیار ات میں بھی کمی لانے کی ضرورت ہے اوپر سے پولیس ہر جگہ اپنے لئے راستہ نکالنے اور پیٹی بندوں کو تحفظ دینے میں کمال مہارت رکھتی ہے اس تناظر میں تو اسے کسی مزید ایسے اختیارات دئےے جائیں۔
 ایوان نے بھی اس کی منظور ی دے دی سینٹ سے بشرط منظوری اب یہ تقریبا قانون بن چکا ہے اگر اس میں گریڈ پندرہ کی جگہ گریڈ سترہ کے افسر کو گولی مارنے کا حکم دینے کا مجاز بنایا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ کم از کم کسی بھی دستاویز کی تصدیق مجاز افسر جتنا کسی انسان کو گولی مارنے کا حکم دینے کا مجاز بنایا جاتا بلا شبہ دہشت گردی کسی روعایت کے مستحق نہیں اور وقت آنے پر پولیس کے پست درجے کے اہلکاربھی پہلے ہی سے حفظ ما تقدم اور دفاع کےلئے گولی چلانے کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں جو اپنی جگہ اس تناظر میں تو سرے سے کسی اختیار کی ضرورت ہی نہ تھی ۔
بہر حال پولیس حکام کا اب اپنی فورس کو مزید منظم اور پابند قانون بنانے پر توجہ کی ضرورت ہے تاکہ اس مجوزہ قانون کا ممکنہ طور پر غلط استعمال کم سے کم کیا جا سکے اور اب حکومت کو قانون سازی سے زیادہ قانون پر اسکی روح کے مطابق عملد درآمد کو یقینی بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔