آپریشن ضرب عضب اور آئی ڈی پیز

کالم نگار  |  عالیہ شبیر
آپریشن ضرب عضب  اور آئی ڈی پیز

شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے بعد سے بے حد بے چینی تھی کہ کاش میں خود جا کر وہاں کے حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکوں اور آپریشن متاثرین کے تاثرات جان سکوں، جب سے میڈیا کو جوائن کیا ہے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ حالات اور واقعات کو گرائونڈ پر جا کر دیکھوں، اور بس پھر گرمی اور روزے میں ٹھان لی کہ اب بنوں جایا جائے گا، کیونکہ زیادہ تر IDPS کو یہاں منتقل کیا گیا ہے، بنوں پشاور کا 24 واں ضلع ہے اس کا ٹوٹل ایریا 1,227 km2 ہے بنوں کی آبادی آٹھ سے نو لاکھ کے قریب تک بتائی جاتی ہے اور اب شمالی وزیرستان آپریشن کے بعد بنوں میں تقریبا پانچ لاکھ کے قریب آئی ڈی پیز نے نقل مکانی کی ہے۔ جب ہم بنوں پہنچے تو میرا خیال تھا کہ بنوں کی ہر گلی کوچے میں آئی ڈی پیز کے کیمپ لگے ہوں گے مگر جب دیکھا تو بنوں کی گلیاں بازار تو عام اور نارمل تھے، ہاں کچھ لوگ قطاروں میں راشن کے لئے کھڑے تھے۔ پھر وہاں کچھ کیمپ نظر آئے، جب مقامی لوگوں سے بات چیت کی تو انہوں نے بتایا کہ یہ قبائلی روایات کے خلاف ہے کہ خواتین کو کیمپوں میں رکھا جائے، زیادہ تر مہاجرین اپنے رشتے داروں کے ہاں منتقل ہو گئے ہیں اور نہ صرف بنوں بلکہ کوہاٹ، لکی مروت،کرک، ٹانک، ڈی آئی خان میں بھی آئی ڈی پیز رہائش پذیر ہیںاس کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی آئی ڈی پیز منتقل ہوئے ہیں، متاثرین سے ان کے حالات معلوم کئے، تو متاثرین کا نقل مکانی کی مشکلات بیان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب ان کو اچانک اپنے گھروں سے نکلنا پڑا، اس وقت ان کے پاس نہ ٹرانسپورٹ تھی اور نہ پانی کا کو ئی انتظام تھا۔کئی گھنٹوں پیدل سفر طے کر کے وہ یہاں تک پہنچے تھے۔اس سفر کے دوران کئی بچے پیاس سے مرگئے تھے۔ایک اور متاثرہ شخص نے بتایا کہ رجسٹریشن کے وقت پانچ سے چھ کلو میٹر لمبی قطاروں میں سارا سارا دن شدید گرمی میں خواتین بچوں سمیت لائنوں میں کھڑی رہیں اس دوران دو شیرخواربچے دم توڑ گئے۔ مہاجرین نے شکایت کی کہ مشکل کی گھڑی میں جب ہمارے سر سے چھت چلی گئی تو کسی نے آگے بڑھ کر انکی مدد نہیں کی، شروع میں صرف الخدمت فائونڈیشن کے رضا کار پہنچے تھے جو اب بھی مہاجرین کے ساتھ ان کی داد رسی میں مصروف ہیں خاص کر انکے رہنے کا بندوبست کر رہے ہیں الخدمت جماعت اسلامی کی فلاحی تنظیم ہے ۔اور اس بیلٹ کو جماعت اسلامی سے زیادہ اور کوئی بہتر طور پر نہیں سمجھ سکتا اسی لئے شاید پروفیسر ابراھیم نے آپریشن کے پہلے دن سے ہی بنوں میں ڈیرے ڈال لئے تھے اور مہاجرین کی مدد کررہے ہیں اور پھر بعد میں جو بھی آتا ہے وہ صرف ایک کیمپ میں فوٹوسیشن کر کے چلاجاتا ہے۔ مہاجرین میں سے ایک خاتون جس کا نام نادیہ تھا ایک سکول میں پناہ گزین تھی نے آپریشن کے حوالے سے بتایا کہ جیٹ طیاروں کی بمباری نے ان کے بھائی کی دکان کو تباہ کر دیا اور اس کے بھا ئی کا بازوں بھی کٹ گیا، وہاں کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ ایک خاندان کے تقریبا پندرہ افراد جیٹ طیاروں کی بمباری سے مارے گئے اور ایک خاتون جو زندہ بچی اس کے دھڑ کا نچلا حصہ کٹ چکاتھا اور وہ خاتون حاملہ بھی ہے اور اس وقت پمز اسپتال میں زیر علاج ہے ،شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں نے بتایا کہ ادیک کے لوگوں نے نقل مکانی نہیں کی ہے، کیونکہ وہ علاقہ پرامن تھا وہاں پر حالات نارمل تھے وہاں کے داڑو قبیلے کے لوگوں نے فورسز کے ساتھ معاہدہ کیا کہ انہیں یہاں سے نہ نکالاجائے۔ وہاں کی روایات کے مطابق ادیک کی حدود پر پتھر رکھا گیا تاکہ اس معاہدہ کی خلاف ورزی نہ کرے۔ ادیک کے لوگوں کو معاہدے کے تحت اپنے علاقوں سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی اس لئے پاک فوج ان کو خوراک بھی پہنچا رہی تھی۔ مگر اس کا فائدہ کچھ دہشت گردوں نے اٹھایا ہے اور اب ادیک میں ازبک داخل ہو گئے ہیں۔ اب ہو سکتا ہے آرمی اس علاقے میں بھی آپریشن کرے۔ مقامی لوگوں کا طالبان کے حوالے سے کہنا تھا کہ زیادہ تر طالبان وہاں سے نقل مکانی کرچکے ہیں، ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ طالبان افغانستان میں نقل مکانی کرچکے ہیں اور افغانستان کی حکومت طالبان کو بطور آئی ڈی پیز رجسٹر کر چکی ہے اور شمالی وزیرستان آپریشن سے پہلے بھی ایسا کیا جارہا تھا اور شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان فورسز کو اس آپریشن کے دوران کسی بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں ہے۔ ا لبتہ طالبان کے ٹھکانوں کو تباہ کیا جارہا ہے۔اسکے علاوہ غیر ملکی دہشت گردوں جن میں ازبک اور دوسرے غیر ملکی شامل ہے ان کو کا فی حد تک نشانہ بنایا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فورسز جلد اس علاقے کو کلیئر کر لیں گی۔ مگر اس سب میں زیادہ نقصان مقامی لوگوں کا ہوا ہے، اور اس آپریشن اور اسکے دوران ان تمام مہاجرین کو ان کی عز ت نفس کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق اس حکومت کی ذمہ داری ہے، اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو یہ پشتون ہماری طاقت نہیں کمزوری بن جائیں گے۔