مولانا طاہرالقادری کی خدمت میں چند سوال!

کالم نگار  |  اسرا ر بخاری

اہلسنت والجماعت کے متفقہ امام حضرت امام ابوحنیفہؒ کی زندگی پر اگر نظر ڈالی جائے تو اس میں فقر کی شان، درویشی کا بانکپن اور عاجزی کا پیکر نظر آئے گا۔ اقتدار تو درکنار حکومتی عہدوں سے بھی اس درجہ گریز کہ بہیمانہ تشدد کو قابل ترجیح جانا جو شخص خواب میں ہی سہی امام ابوحنیفہؒ جیسی صاحب عظمت شخصیت سے پندرہ سال کی طویل مدت میں درس لینے کا دعویدار ہو اس میں روحانی یا خوابی استاد کی خوبیوں کی جھلک نظر نہ آئے تو اس کا قصوروار کون ہے استاد یا شاگرد، یہ فیصلہ پڑھنے والے خود کر لیں۔ مولانا طاہرالقادری نے اپنی شخصیت کے ابھار کے لئے خوابوں کو ذریعہ بنایا ہے اور خود ہی ان خوابوں کی تشہیر کی ہے۔
 اس لئے ان خوابوں کا تذکرہ چھوڑتے ہیں اور اس حقیقت کی طرف آتے ہیں کہ انہوں نے اپنے لانگ مارچ کے لئے بطور چندہ اپنے اہل خانہ کے زیورات کی جو پوٹلی جمع کرائی ہے یہ کروڑوں کے زیورات کہاں سے آئے ہیں۔ چند سال پیشتر بے حد قابل احترام ان کی اہلیہ فرحت طاہرالقادری کا انٹرویو شائع ہوا جس میں محترمہ نے فرمایا کہ ”ہمارے حالات اتنے تنگ ہیں کہ گھر کا خرچہ چلانے کے لئے ڈاکٹر صاحب کو ہر ماہ قرض لینا پڑتا ہے سوال پیدا ہوتا ہے ان چند سال میں حضرت مولانا نے وہ کون سا کاروبار کیا ہے کہ اہل خانہ کروڑوں کے زیورات کے مالک بن گئے کیا یہ مختلف یورپی ممالک میں لیکچرز دینے کا معاوضہ ہے مگر یہ لیکچرز کو تبلیغ دین کے لئے تھے کیا تبلیغ دین منفعت کا ذریعہ بن سکتی ہے اور اگر یہ زیورات عقیدت مندوں کے عطیات سے بنے ہیں تو کیا ان کے خوابی استاد امام ابوحنیفہؒ نے اپنے پیروکاروں اور عقیدت مندوں سے عطیات لے کر اپنے اہل خانہ کے زیورات بنوائے تھے۔
مولانا طاہرالقادری خود کو ”شیخ الاسلام“ لکھتے ہیں۔ عالم اسلام کی اس عظیم شخصیت ابن تیمیہؒ کو شیخ الاسلام کہا جاتا ہے۔ ان کی پوری زندگی میں ایک مثال نہیں ہے کہ انہوں نے خود کو شیخ الاسلام لکھا ہو جبکہ مولانا طاہرالقادری نے اپنی کتابوں پر خود ہی خود کو ”شیخ الاسلام“ قرار دے دیا پھر وہ خود ہی فرماتے ہیں کہ ”جب کسی اسلامی ملک نے انہیں شہریت نہیں دی، تو مجبوراً کینیڈا کی شہریت لینی پڑی“ یہ تو حیرت کو بھی پسینہ آنے والی بات ہے کہ ایک شخصیت جو شیخ الاسلام ہو اور کوئی اسلامی ملک شہریت دینے پر آمادہ نہ ہو کیا شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ آج زندہ ہوتے تو کیا کوئی اسلامی ملک انہیں شہریت دینے سے انکار کرتا۔ مولانا طاہرالقادری نے کینیڈا کی شہریت کے حوالے سے دوسرا جواز یہ پیش کیا ہے کہ انہوں نے ریسرچ کی خاطر کینیڈا کی شہریت حاصل کی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کینیڈا کیا ماضی کا بغداد و بخارا ہے کہ دنیا بھر سے تشنگان علم پیاس بجھانے یہاں کا رخ کیا کرتے تھے۔
 کیا کینیڈا میں کوئی ایسی لائبریری ہے جہاں اسلامی علوم و تحقیق پر مشتمل کتابیں اور مخطوطات موجود ہیں بلکہ ایسا علمی سرمایہ تو انہیں پاکستان میں کہیں زیادہ میسر آ سکتا ہے جہاں تک پرسکون ماحول کا تعلق ہے تو ان کی ذاتی ”قلمرو“ میں پرندہ پر نہیں مار سکتا۔ ان کے سیکرٹریٹ اور گھر میں سیکورٹی کا جو اعلیٰ ترین انتظام ہے اس کا پہلا تجربہ، مشاہدہ 1990ءمیں تب ہوا جب میں روزنامہ مشرق کے لئے ان کا انٹرویو کرنے گیا تھا تب پاکستان دہشت گردی کا شکار بھی نہیں ہوا تھا بعدازاں جب بھی ان کی پریس کانفرنسوں میں جانے کا اتفاق ہوا سیکورٹی کے نظام کو پہلے سے زیادہ سخت پایا اس لئے پرسکون ماحول کے لئے کینیڈا کی شہریت حاصل کرنے کا جواز ناقابل فہم ہے۔ مولانا جس مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اس کے برصغیر میں امام اعلیٰ حضرت احمد رضا بریلوی کے مسلکی مخالفین نے بھی ان کے علمی تبحر اور عالمانہ شان سے انکار نہیں کیا بلکہ انہیں برصغیر کا ابوحنیفہ کہا گیا مگر شیخ الاسلام تو انہوں نے اپنے نام کا حصہ نہیں بنایا تھا۔ اسی طرح اور بہت سی علمی شخصیات ہیں کیا وہ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ پہلے ذہن بدلے گئے پھر ریاست مدینہ قائم ہوئی پھر نظام نافذ ہوا اس لئے بہتر ہے وہ شیخ الاسلام بننے کی بجائے خادم اسلام بن کر اذہان بدلنے کی جدوجہد کریں نظام خود بخود بدلا جائے گا۔ آخری سوال یہ ہے کہ ان کا لانگ مارچ مغربی جمہوریت کی بجائے نفاذ اسلام کے لئے کیوں نہیں ہے۔