قاضی چلا گیا

کالم نگار  |  زاہد حسن چغتائی

وہ بکھرے ہوئے بے ہنگھم لوگوں میں نظم اور ضبط بھر دینے والا شخص تھا۔ پھولوں اور گلابوں جیسا آدمی کہ جس کے افکار اور شخصیت سے خوشبو چھن چھن کر آتی تھی‘ اسے لوگوں کے ٹوٹے ہوئے دلوں میں امید اور رجائیت بھرنے کا ہنر آتا تھا۔ بات کرتا تو سچائی اس کے نطق کا سنگھار بن جاتی تھی۔ اسلام کو جمہوری رویوں کے آئنوں میں دیکھنے والا کوئی دوسرا شخص اس کے مقابل موجود نہ تھا وہ انت مایوسیوں کے دور میں بھی رجائیت کا جادو جگا دیتا تھا۔ مجھے اس کی شخصیت ایک ناﺅکی طرح لگتی تھی‘ جو سطح آب کے ہچکولوں اور طغیانیوں میں بھی کبھی ڈانواں ڈول نہ ہوئی۔ میں اسے دیکھ کر بسا اوقات آغا صدیق حسن ضیاءکا یہ شعر گنگنانے لگتاتھا....
کون سے رنگ میں امید کا منظر کھینچوں
ڈوبنے والے نے ہر موج کو ساحل سمجھا
میں برسوں سے قاضی حسین احمد کا خاموش نیاز مند ٹھہرا ‘ ان کے ساتھ بہت سے صحافتی مکالمے کئے‘ ان سے تعلق خاطر اور نجی محفلوں میں علمی گفتگو کی مٹھاس آج بھی میرے وجدان میں موجود ہے۔ چند برس پہلے میری والدہ محترمہ شدید بیمار ہوئیں‘ انہیں اپنے ذرائع سے خبر ہوئی تو فون پر خیریت دریافت کی اورجماعت کے سیکرٹری اطلاعات محترم شمسی صاحب کو بطور خاص پھولوں کا گلدستہ دے کر بھیجا۔ میں نہال ہو گیا۔ سوچتا ہوں اب ایسی شفقت اور محبت کہاں اور کس سے وصول کروں گا۔ مجھے ان کی شخصیت میں گھنے درخت کا سایہ محسوس ہوتا تھا ۔ کوئی دکھ کی ساعت ایسی نہیں کہ جب انہوں نے بذریعہ فون یا خط میری ڈھارس نہ بندھائی ہو۔ وہ گئے وقتوں کے ہمالہ صفت بزرگوں کی روایات کے امین رہے۔ یہی ان کے مجموعی کردار و عمل کا سب سے خوبصورت پر تو تھا۔
وہ بڑے آدمی‘ بڑے عالم دین اور مقتدر دانش ور تھے۔ مجھے یاد ہے ایک مرتبہ اسلام آباد میں اخبار نوائے وقت کے لئے انٹرویو کرنے کے بعد ان کے ساتھ طویل نشست رہی‘ جس میں موضوع گفتگو اقبالیات تھا۔ انہوں نے ایک نکتہ رس سکالر کی طرح ایسے ایسے نکات بیان کئے اور اقبالؒ کے اشعار ایسے موقع محل سے پڑھے کہ محفل میں شریک ہر شخص سر دھنتا رہا۔ بلا مبالغہ وہ کلام اقبالؒ کے حافظ تھے اور یہی اقبالی دانش ان کے سیاسی پس منظر میں جاویداں نظر آتی تھی۔متذکرہ محفل میں جب انہیں معلوم ہوا کہ میں نے علامہ محمد حسین عرشی کی اقبالیات پر سندی تحقیقی کام کیا ہے تو بہت خوش ہوئے۔ فرمانے لگے کسی دوسری محفل میں آپ سے اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو ہوگی۔ میں نے پوچھا آپ علامہ عرشی امرت سری سے واقف ہیں؟ فرمایا میں نے عرشی اور رازی کی مشترکہ کتاب ”نقوش اقبالؒ“ پڑھ رکھی ہے اور ”اقبال ریویو“ میں شائع شدہ علامہ عرشی کے اقبالؒ سے ملاقاتوں پر مبنی مضامین بھی میری نظر سے گزر چکے ہیں۔ نیز یہ کہہ کر مجھے حیرت زدہ کر دیا کہ علامہ عرشی کی اقبالؒ کے ساتھ ملاقاتوں کا دورانیہ 1938 (وفات اقبالؒ) سے چند سال پہلے کا ہے۔
قاضی حسین احمد کا یہی وہ علمی قد کاٹھ تھا۔ جس سے ان کے ہم عصر تمام علمائ‘ فضلاءاور اہل علم و بصیرت آگاہ تھے۔ اسی لئے سیاسیات سے لے کر فکر و دانش کے ہر موضوع پر ان کی رائے صائب اور حتمی سمجھی جاتی تھی۔اس حوالے سے تمام علمی و فکری حلقے ان کی عزت و احترام میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے ایک مرتبہ اسلام آباد کی ایک تنظیم نے عصر حاضر کی سب سے بڑی نظریاتی شخصیت جناب مجید نظامی کو ان کی صحافتی و نظریاتی خدمات پر گولڈ میڈل دینے کا اعلان کیا تو نظامی صاحب نے کہا کہ میں یہ گولڈ میڈل قاضی حسین احمد کے ہاتھوں سے وصول کروں گا۔ چنانچہ منتظمین نے ایسا ہی کیا اور تقریب قاضی حسین احمد کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ جناب مجید نظامی کی طرف سے قاضی صاحب کی زندگی میں ہی یہ بہت بڑا خراج تحسین تھا۔
قاضی حسین احمد نے صرف جماعت اسلامی ہی نہیں ہر سیاسی جماعت کے سنجیدہ طبقے کی طرف سے دی گئی عزت وتوقیر اور پذیرائی سمیٹی۔ وہ الجھے ہوئے معاملات کو سلجھانے کا خاص سلیقہ اور ظرف رکھتے تھے۔ سیاست میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کے قائل رہے‘ اس خاطر انہوں نے بہت مصیبتیں جھیلیں‘ بن باس بھی کاٹے لیکن کہنا ان کا یہی تھا کہ اتحاد و یگانگت ہی سیاست میں کامیابی کی کنجی ہے۔ وہ اسلام‘ جمہوریت اور انصاف کی علمبردار سیاسی جماعتوں کو اکھٹا دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کے ذہنی و فکری کینوس پر مستقبل میں ایم ایم اے سے بھی کہیں بڑا اسلامی اتحاد کروٹیں لیتا رہا‘ لیکن اقتدار کی چمک پر موسمی پروانوں کے ”دیوانہ وار“ گرنے کے عمل نے ان کے خوابوں کو تعبیر نہ ہونے دیا۔
رومیؒ نے والہانہ انداز میں مومن کی شان بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اﷲ کا بندہ دنیا میں اس مرغابی کی طرح ہوتا ہے جو سطح آب پر تیرتی ہوئی جب فضا میں پرواز کے لئے بلند ہوتی ہے تو اس کے پروں پر پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ہوتا۔ موجودہ پرفتن اور ابتلا کے دور میں قاضی حسین احمد کا کردار اسی مرغابی کی طرح رہا‘ ان کی بے داغ زندگی کے کسی فعل و عمل پر پورے ملک سے کوئی ایک انگلی بھی نہ اٹھی۔ بعد از مرگ بھی اقبالؒ کے اس مرد مومن کا چہرہ اس بات کی گواہی دے رہا تھا۔ ابدی سکون و اطمینان ان کے بشرے سے عیاں و بیاں تھا....
نشان مرد مومن باتو گویم
چہ مرگ آید تبسم برلب است
قاضی حسین احمد کو زندگی میں ہی جو پذیرائی نصیب ہوئی‘ وہ کسی اور سیاستدان کو کم کم ہی نصیب ہوئی ہے۔ وہ 1987 ء میں امیر جماعت اسلامی منتخب ہوئے۔ ان کا سیاسی خمیر جمعیت طلبائے اسلام سے اٹھا تھا‘ لہذاٰ ان کے دور امارت میں جمعیت اور جماعت کا نوجوان طبقہ بالخصوص ان کا گردیدہ رہا۔ وہ جمعیت طلباءکے جلسوں میں شرکت کرتے تو نوجوان یہ فلک شگاف نعرہ پورے جوش جذبے کے ساتھ لگاتے ‘ ہم بیٹے کس کے‘ قاضی کے۔ اور قاضی صاحب بھی انہیں ہر گام میرے بیٹو کہہ کر پکارتے۔ اس دور میں میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کالج روڈ راولپنڈی میں جمعیت کے جلسہ میں شرکت کے لئے جب قاضی حسین احمد کی گاڑی دور سے آتی دکھائی دی تو نوجوان طلبہ لپک کر آگے بڑھے اور قاضی صاحب کی گاڑی کو بازوﺅں پر اٹھا کر پنڈال تک لائے۔ یہ منظر دیکھ کر میں بہت متاثر ہوا۔ تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں نے قائداعظمؒ کے ساتھ نوجوان طلبہ کی ایسی محبت کا احوال پڑھ رکھا تھا۔ اس لمحے میں نے آسمان کی طرف غور سے دیکھا۔ چشم فلک بھی تحیر کے عالم میں تھی اور مستقبل کے درخشاں ہونے کی نوید دے رہی تھی۔
پھر یہ بھی پاکستان کے دیانتدارانہ سیاسی ریکارڈ کی بات ہے کہ قطرہ قطرہ کرپشن کا زہر ٹپکنے والی اس دھرتی پر انصاف اور قانون کی بالادستی کا اولین نعرہ مستانہ قاضی حسین احمد نے ہی لگایا تھا۔ ظالمو قاضی آ رہا ہے‘ بجائے خود ایک رندانہ نعرہ تھا۔ اس نعرے میں مرد حق کی صداقت و بیباکی کا پورا جوش و جذبہ مﺅجزن تھا۔ اور مجھے یہ بھی یاد ہے کہ نوجوان طبقے نے ہی اس نعرے کو ملک کے طول و عرض میں سچائی کے سلوگن کے طور پر پھیلا دیا تھا۔ اپنی سماعتوں پر گرانی محسوس کرنے والے لوگ مذاق بھی کرتے تھے لیکن قاضی حق و انصاف کا پرچم تھامے رہا۔ اسے معلوم تھا کہ شمع پر والہانہ جان نثار کر دینے والے پروانے کا سوز جگر کبھی آلودگی پر گرنے والی مکھی کو نہیں ملا کرتا....
سرمد غم عش بو الہوس رانہ دہند
سوز دل پروانے مگس را نہ دہند
مگر افسوس اب تو قاضی ہی چلا گیا۔ حق و صداقت کے ایوانوں میں ایک چراغ اور بجھ گیا۔ گھپ اندھیرے میں صرف اس کا جلایا ہوا ایک ہی چراغ روشن ہے ‘ وہی امید اور رجائیت کا چراغ۔ وہ کہہ گیا ہے بستی والو کبھی مایوس نہ ہونا‘ اپنے دل کے دروازے اور کھڑکیاں کھلی رکھنا۔ ایک نہ ایک دن دھیرے دھیرے یا یک لخت روشنی یہاں ضرور آئے گی.... مایوس نہ ہونا ‘ کبھی نا امید نہ ہونا۔