امن کی آشا.... بھارت کا اصل چہرہ!

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی

ابھی امن کی آشا کا علم اٹھائے پاکستان کی کرکٹ ٹیم بھارت سے پاکستان میں واپس بھی نہیں پہنچی تھی کہ آزادکشمیر میں باغ کے علاقے حاجی پیر سیکٹر میں بھارتی فوج نے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چوکی ساون پترا پر حملہ کر کے پاک فوج کے نائیک صوبے دار اسلم کو شہید کر دیا ہے۔ چند روز پہلے امن کی آشا کے سرکاری ”پرچارکروں“ کی طرف سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اب پاکستان کو بھارت سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ بھارتی فوج نے آزاد کشمیر میں باغ کے حاجی پیر سیکٹر میں جو دراندازی کی تھی اگر پاکستان کے اپنے گھوڑے دشمن پر چڑھائی اور اس کی پسپائی کے لئے تیار نہ کھڑے ہوتے تو بھارتی سورما آزادکشمیر میں مزید اندر کو آتے۔ پاکستان نے جوابی کارروائی کر کے بھارتی فوجی پسپا کر دیئے ہیں۔ بھارتی سورماﺅں کو پاکستان کی سرحدوں کو پار کرنے کے دورے ہمیشہ ہی پڑتے رہے ہیں۔ اسی قسم کا دورہ 6ستمبر 1965ءکو پڑا تھا کہ بھارتی سورماﺅں کو لاہور کے جم خانہ میں شراب سے شغف کرنے کا جنون چڑھ آیا تھا۔ میجر شفقت بلوچ نے ایک رجمنٹ سے بھارت کی حملہ آور بریگیڈیئر کے اس طرح دانت کھٹے کئے تھے کہ راتوں رات بھارتیوں کو نانی یاد آ گئی تھی۔ پاکستان کے کرکٹ حملے میں ان کی پسپائی پر ان کی حواس باختگی کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے 36رنز والے بھارتی کپتان کو تیسرے ون ڈے کا بہترین کھلاڑی قرار دے کر ایک لاکھ روپے کی انعامی رقم کا حقدار ٹھہرا دیا اور اسی میچ میں پانچ بھارتی بلے بازوں کی وکٹیں اڑانے والے پاکستانی سپنر سعید اجمل انہیں مین آف دی میچ کے لئے نظر نہیں آئے۔ بھارت پاکستان کا ازلی اور پیدائشی دشمن ہے۔ ایک طرف پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ امن کی آشا کا کھیل کھیل رہا ہے اور دوسری طرف پاکستان دشمنی کی انتہا یہ ہے کہ اسے پاکستان کی ہاکی یا کرکٹ میں بھارتی ٹیموں پر فتح بھی کھٹکتی ہے۔ بھارت ریاست جموں و کشمیر کو بھارت کاحصہ سمجھتا ہے اور آزادکشمیر کو اس نے بھارت کے نقشے میں شامل کر رکھا ہے۔ بھارت کو پاکستان میں سے افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں تک خشکی کاراستہ مطلوب ہے کہ اگر اس کے سامان سے لدے ہوئے ٹرک پاکستان میں سے افغانستان میں داخل ہو کر وہاں سے وسط ایشیائی ریاستوں تک پہنچ سکیں تو اس کے وارے نیارے ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے حکمران بھارت کو راستے کی یہ سہولت فراہم کر چکے ہیں اور حکمرانوں کو بھارت نے یہ جھانسہ دے رکھا ہے کہ اگر پاکستان بھارت کو تجارت کے لئے پسندیدہ ترین ملک قرار دے دے تو اس سے پاکستان کو اپنی مصنوعات کی کھپت کے لئے ایک وسیع منڈی میسر آ جائے گی۔ پاکستانی وزیرتجارت مخدوم امین فہیم نے اپنے ہم منصب بھارتی وزیرتجارت کو اس امر کایقین دلا رکھا تھا کہ نئے سال کے ساتھ ہی پاکستان بھارت کو اپنا پسندیدہ ملک قرار دے دے گا اس سلسلہ میں نوٹیفکیشن تیار ہے لیکن صدر آصف علی زرداری کو علامہ ڈاکٹرطاہرالقادری کی شکل میں ایک نئی مشکل سے دوچار ہونا پڑ گیا ہے۔ قبل ازیں پاکستان دفاعی کونسل کے لیڈر واہگہ بارڈر پر پاک بھارت دوستی کے خلاف جلسہ کر چکے ہیں ان کے بعد جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام بھی بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کی مخالفت کر چکے ہیں۔ پاکستان کے عوام کی اکثریت بھارت کو دوستی کے لائق نہیں سمجھتی ہے کہ بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات آئے روز رونما ہوتے ہیں ایسے واقعات میں سینکڑوں کی تعداد میں انسانی جانوں اور اربوں کھربوں روپے کی املاک کا ضیاع ہو چکا ہے لیکن بھارت میں چار سال پہلے ہونے والی بمبئی کی دہشت گردی کی واردات کو بھارتی حکمرانوں نے اس حد تک مسئلہ بنا رکھا ہے کہ وہ ابھی تک بمبئی حملوں کے ذمہ داروں کے حوالے سے پاکستان پر الزام لگاتے ہیں کہ ان حملوں کے ملزموں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ اور پاکستان کسی نہ کسی طرح ان حملوں میں ملوث ہے۔ بھارتی سیاست دانوں کی تنگ نظری اور تعصب کا یہ عالم ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ایک سابق کپتان جاوید میاندار کو جو کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک اہم آفیسر بھی ہیں بھارت میں جا کر وہاں ہونے والے پاک بھارت کرکٹ میلے میں شامل ہونے کی پہلے تو اجازت نہیں ملی اور جب تیسرے روز آخری ون ڈے میں شرکت کے لئے بھارت کا ویزا ملا تو بھارت کی جنتا پارٹی سمیت انتہاپسند ہندو تنظیموں کی طرف سے بھارتی حکمران پارٹی پر شدید تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ جاوید میانداد چونکہ داﺅدابراہیم کا سمدھی ہے لہٰذا وہ کیسے بھارت میں آ سکتا ہے۔ داﺅ
دابراہیم بھارت کی انڈرورلڈ سے تعلق رکھتا ہے۔ اس لئے بھارت کو ایک دہشت گرد کے طور پر مطلوب ہے۔ بھارت کے نزدیک تو جماعت الدعوة کے حافظ سعید احمد بھی دہشت گرد ہیں اور وہ پاکستان سے مسلسل ان کی بھارت کو حوالگی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں جبکہ پاکستان کے وزیرداخلہ رحمن ملک کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنے حالیہ دورہ بھارت کے دوران واشگاف انداز میں کہہ دیا ہے کہ بھارت کے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو وہ پاکستان کو دے دے لیکن انہیں معلوم ہے کہ ان کا قدکاٹھ اور سیاسی مقبولیت پاکستان کے صف اول کے لیڈروں کے برابر ہے۔لہٰذا وفاقی وزیر داخلہ خود بھی اور ان کے باس آصف علی زرداری بھی ان سے خوفزدہ ہیں کہ ان پر ہاتھ ڈالا تو پھر پچھتانا ہی پڑے گا۔ حافظ سعید احمد تو بھارت کو اس طرح کھٹکتے ہیں کہ وہ ایک دفعہ ان کے ہاتھ لگ جائیں تو وہ ان کے ساتھ کوئی بھی برا سلوک روا رکھ سکتے ہیں۔ اب جب نئے سال کے آغاز پر پاکستان نے وعدہ کے مطابق بھارت کو پسندیدہ ملک قرار نہیں دیا کیونکہ صدر آصف علی زرداری کو پاکستان دفاعی کونسل کے بعد مولانا فضل الرحمن کا یہ بیان بھی پڑھنے اور سننے کو مل گیا ہے کہ امن کی آشا کا گیت گانے والا بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تو اس پر زرداری موقع کی تلاش میں ہے کہ انہیں بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کا کوئی محفوظ موقع میسر آ جائے۔ یہ محفوظ موقع ڈاکٹر طاہرالقادری کے مجوزہ لانگ مارچ نے مزید دور کر دیا ہے جس پر بوکھلا کر بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے یہ راگ الاپ دیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات بمبئی حملوں میں مطلوب افراد کی حوالگی سے مشروط ہیں گویا ایک مرتبہ پھر یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ حافظ سعید احمد کو بھارت کے حوالے کیا جائے تاکہ دونوں ملکو ںمیں امن کی آشا کو فروغ دیا جا سکے۔ حافظ سعید احمد کے حوالے سے اگر یہ کہا جائے کہ بھارت کے نزدیک ان کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے گویا کہ ”میں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرح“۔ حافظ سعید احمد پاکستان کے سب سے بڑے مجاہد سمجھے جاتے ہیں لیکن بھارت کے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی عجب مجبوری ہے وہ حافظ سعید احمد پر ہاتھ ڈالنا چاہتے ہیںلیکن یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ کام انہیں بہت مہنگا پڑ سکتا ہے وہ پاکستان کی جیلوں میں پڑے سزائے موت کے قیدی بھارتی دہشت گرد سربجیت سنگھ کو جیل سے رہا کر کے امن کی آشا کے لئے بھارت کے سپرد کرنا چاہتے ہیں لیکن عام انتخابات سے پہلے یہ اقدام پیپلزپارٹی کو بہت زیادہ مہنگا پڑ سکتا ہے۔ خود بھارت کا یہ حال ہے کہ ایک طرف اس پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے سزائے موت کو ختم کرنے کے لئے دباﺅہے جبکہ وہ پارلیمنٹ پر حملے کے الزام میں سزا پانے والے حریت لیڈر افضل گورو کو بھی ممبئی حملوں کے مجرم قصاب کی طرح تختہ دار پر لٹکانا چاہتے ہیں۔ اگر صدر آصف علی زرداری نے سربجیت سنگھ کو بھی پہلے رہا کئے گئے بھارتی دہشت گردوں کی طرح بھارت کے حوالے کر دیا تو پھر پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں کے خلاف پورے ملک میں دمادم مست قلندر ہو جائے گا جو امن کی آشا لے ڈوبے گی کہ ٹائمز آف انڈیا آج بھی کھلم کھلا پاکستان کے خلاف زہر اگلتا ہے اور بھارتی حکمران بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ ہم دشمن کے آگے سرنڈر کیوں کریں، زرداری صاحب!