افغان مہاجرین کو روہنگیا مہاجرین سے نہ جوڑا جائے

کالم نگار  |  سید سردار احمد پیرزادہ
افغان مہاجرین کو روہنگیا مہاجرین سے نہ جوڑا جائے

پاکستانی دفتر خارجہ کے بلیک باکس میں نہ جانے کیا مسٹری ہے کہ عام لوگ اب تک اِسے ڈی کوڈ نہیں کرسکے۔ بیتے ہوئے 70 برسوں کے سب سرکاری اعلانات کے مطابق دفتر خارجہ آزاد پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے جبکہ لوگوں کے تجزیئے کے مطابق دفتر خارجہ ایک پابند پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد حکمران تحریک پاکستان کے قائدین تھے، بیوروکریسی سے بننے والے سربراہِ حکومت تھے، لولی لنگڑی جمہوریتوں کے وزرائے اعظم تھے یا مارشل لائی حکومتوں کے ڈکٹیٹرز تھے، دفتر خارجہ کے حوالے سے سب کے چال چلن کاپی پیسٹ ہی لگے۔ وہ ایسے کہ ہمارے حکمران پہلے امریکہ کے پاس جاتے پھر آہستہ آہستہ اُس سے دور ہوتے۔ وہ شاید نہیں جانتے تھے کہ اِس کھیل میں واپسی کا راستہ نہیں ہے۔ لہٰذا جونہی دوستی کے معاہدے سے بیوفائی کی سوچ ڈویلپ ہوتی وہ حکمران حکمران نہ رہتے۔ یہاں تک کہ عوامی طاقت کے طاقتور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی اس روایتی دفتر خارجہ سے جان نہ چھڑا سکے اور اُن کی واپسی کی سوچ بھی ناقابل معافی ٹھہری۔ ہماری خارجہ پالیسی میں ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی بھی حکمران نے شروع سے ہی امریکہ کو ایک متوازن سفارت کاری پر رکھا ہو۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ ایک علیحدہ بحث ہے لیکن پاکستان کی حالیہ وزارتِ خارجہ بھی اسی طرح کی خاردار رہ گزر سے گزر کر دو شدید حالات سے دوچار ہوسکتی ہے۔ اِن میں سے ایک حالیہ بریکس سربراہی کانفرنس کے اعلامیے کے نتائج ہیں۔ دوسرا روہنگیا مسلمانوں کا ایشو ہے۔ پہلے بریکس اعلامیہ کے پہلوئوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ بریکس کا روحِ رواں پاکستان کا کھلم کھلا دوست چین ہے۔ چین نے اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر پاکستان کی دہشت گردی کے حوالے سے پالیسی کی حمایت کی۔ یہاں تک کہ اقوام متحدہ میں اظہر مسعود پر پابندی لگانے کی قراردادوں کو بھی ویٹو کیا۔ اس سے قبل بریکس کی ہونے والی سربراہی کانفرنس میں بھی چین نے اُس بھارتی دبائو کو نامنظور کیا جس میں پاکستان کو دہشت گردی کے حوالے سے جوڑا جارہا تھا۔ تاہم بریکس کی حالیہ 9 ویں سربراہی کانفرنس نے پاکستانی لوگوں کو پریشان کردیا ہے جب کہا گیا کہ ’’جیش محمد اور لشکر طیبہ وغیرہ خطے میں فساد کی ذمہ دار ہیں‘‘۔ اسی اعلامیے میں تحریک طالبان پاکستان کا نام بھی لیا گیا۔ یہ بات حقیقت ہے کہ ٹی ٹی پی اِس وقت افغانستان سے آپریٹ کررہی ہے لیکن کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے نام کے حصے کے طور پر پاکستان کا نام لگا ہونا پاکستان کے دشمنوں خاص طور پر بھارت کے لئے پراپیگنڈے کا اچھا خاصا مواد ہے۔ چین کی موجودگی میں ایسا اعلامیہ جاری ہونا عام پاکستانی کی سمجھ سے باہر ہے۔ وہ اِسے ٹرمپ کی دھمکی کی تقلید ہی سمجھ رہے ہیں جبکہ ہمارے وزیر خارجہ خواجہ آصف کے میڈیا پر دیئے جانے والے بیانات نے مزید سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ خواجہ آصف کے نزدیک اعلامیے میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اُن کا یہ کہنا ٹیکنیکلی درست ہے کیونکہ مذکورہ دہشت گرد تنظیموں کے حوالے سے گزشتہ برس دسمبر میں امرتسر میں منعقد ہونے والی ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کے اعلامیہ کے پیرا نمبر 14 میں بھی ایسا ہی کچھ درج تھا۔ اس کانفرنس میں پاکستان بھی شامل تھا۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ہمیں پہلے اپنا ہائوس اِن آرڈر کرنا چاہئے۔ کیا اس کا یہ مطلب ہوا کہ خواجہ آصف پاکستان پر اٹھنے والے اعتراضات کو بلاواسطہ طور پر تسلیم کر رہے ہیں؟ خواجہ آصف نے اس معاملے کا مدعا نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہ ہونے پر بھی ڈالا۔ اس طرح انہوں نے دراصل اپنے سیاسی مخالف چوہدری نثار کو نشانہ بنایا۔ کیا اُن کے اس جواب سے انٹرنیشنل کمیونٹی مطمئن ہو جائے گی؟ اب ڈی کوڈ یہ کرنا ہے کہ بریکس اعلامیے میں مذکورہ دہشت گرد تنظیموں کا جو ذکر کیا گیا ہے اُس کا مطلب کیا پاکستان کے مخصوص حلقوں کو کوئی پیغام دینا ہے؟ دوسرا یہ کہ خواجہ آصف نے بھی اپنے حالیہ بیانات میں کہا کہ ہمیں یہ واضح کرنا ہوگا کہ ایسے افراد ہمارا اثاثہ نہیں ہیں تو کیا خواجہ آصف بھی اپنے ہی ملک کے مخصوص حلقوں کو کوئی بات کہنا چاہ رہے ہیں؟ تیسرا یہ کہ اگر بریکس کی بات نئی نہیں ہے تو ٹرمپ کی بات دھمکی کیوں ہے؟ دفتر خارجہ کو مستقبل میں جو دوسرا مسئلہ درپیش ہوسکتا ہے وہ روہنگیا مسلمانوں کے حوالے سے ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں پر اگست 47ء اور سقوطِ ڈھاکہ کے بعد یہ تیسری قیامت ہے۔ اس ایشو پر کچھ سوالات پوچھے جاسکتے ہیں۔ برما امریکہ اور مغرب سے زیادہ چین کی طرف جھکائو رکھتا ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں امریکہ اور مغرب نے اس جھکائو کو ختم کرنے کے لئے ایک برمی خاتون لیڈر آنگ سان سوچی کو وہاں کی حکومتوں کے خلاف جمہوریت اور جدوجہد کے رول ماڈل کے طور پر تیار کیا۔ اُسے نوبل انعام بھی ملا۔ اِس وقت مغرب اور اقوام متحدہ برمی حکومت کو روہنگیا مسلمانوں کے حوالے سے سخت تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔ کیا مغربی ممالک اور اقوام متحدہ کو روہنگیا مسلمانوں سے ہمدردی ہے یا آنگ سان سوچی کی حکومت کا چین کی طرف روایتی برمی جھکائو برداشت نہیں ہو رہا؟ اگر مغربی دنیا اور اقوام متحدہ کو واقعی روہنگیا مسلمانوں سے دلچسپی ہے تو ایسے ہی بدترین حالات سے کشمیری، فلسطینی، شامی اور عراقی مسلمان بھی دوچار ہیں۔ اُن کے حوالے سے مغربی دنیا اور اقوام متحدہ ایسا ہی درد محسوس کیوں نہیں کرتے؟ مزید یہ کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ برما کے دوران روہنگیا مسلمانوں کے حوالے سے آنگ سان سوچی کی حمایت کے بیان کو مغرب اور اقوام متحدہ میں تنقید کا نشانہ نہیں بنایا گیا یہاں تک کہ نریندر مودی کے بھارت میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کے انخلاء کے بیان کا بھی نوٹس نہیں لیا گیا۔ روہنگیا مسلمانوں کے معاملے پر ہمارے دفتر خارجہ کو دو ایشوز پر بہت الرٹ ہونا پڑے گا۔ پہلا یہ کہ ملک کے اندر یا باہر سے کہیں ایسی آوازیں نہ اٹھنا شروع ہوجائیں کہ روہنگیا مسلمانوں کو پاکستان میں پناہ دی جائے۔ ہوسکتا ہے اِن آوازوں کے ساتھ دلکش امدادی پیکجوں کے وعدے بھی شامل ہوں۔ دوسرا اہم ترین خدشہ یہ کہ پاکستان40برسوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کا ناقابل برداشت بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ پاکستان ان مہاجرین کو افغانستان واپس بھیجنا چاہتا ہے۔ اگر بنگلہ دیش کی طرح افغانستان نے بھی اِن مہاجرین کو لینے سے انکار کردیا اور پاکستان نے اِنہیں ہر صورت واپس بھیجنے کی کوشش کی تو کیا پاکستان بھی برما کی طرح مغربی دنیا اور اقوام متحدہ کے نشانے پر نہ ہوگا؟ کیا پاکستان پر بھی یہ دبائو نہیں ڈالا جائے گا کہ اِن افغان مہاجرین کو پاکستانی شہریت دے دی جائے؟