ماضی کی تاریخ کی عورتیں اور برما!!

کالم نگار  |  عائشہ مسعو د ملک
ماضی کی تاریخ کی عورتیں اور برما!!

قلوپطرہ کا حسن و جمال دنیا بھر میں مشہور ہے مگر بہت کم لوگ اس حسینہ کے کردار کے بارے میں جانتے ہوں گے ۔ مختصر تعارف کچھ یوں ہے کہ قلوپطرہ کو جب یہ احساس ہوا کہ جولیس سیزر مصر کے اقتدار کے قریب پہنچ چکا ہے تو اس نے جولیس سیزر تک رسائی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک غلام سے مدد حاصل کی قلو پطرہ ایک قالین پر استراحت کرنے کے انداز میں لیٹ گئی اور غلام کو حکم دیا کہ مجھے اس قالین میں لپیٹ کر سر پر اُٹھا¶ اور جولیس سیزر کے محل کے کمرے تک پہنچا دو۔ اس وقت شہر بھر میں مصری افواج کا گشت جاری تھا مگر وہ غلام قالین فروخت کرنے کا بہانہ کر کے اس بات میں کامیاب ہو گیا کہ جولیس سیزر کے سامنے جا کر قالین کھول دیا جن میں سے یہ حسینہ برآمد ہوئی اور پھر نتیجہ یہ نکلا کہ ”قلوپطرہ“ مصر کی ملکہ کہلائی۔ یہ خاتون اپنے رستے میں آنے والے لوگوں کو حتیٰ کے اپنے خاندان کے افراد کو زہر دے کر ہلاک کر دیا کرتی تھی اور خود قلوپطرہ کا انجام یوں ہوا تھا کہ اسے سانپ نے ڈس لیا تھا اور وہ زہر کے پھیل جانے سے ہلاک ہوئی تھی۔ یعنی دوسروں کو زہر دے دے کر ہلاک کرنے والی کو قدرت نے ”زہر“ کے ذریعے ہی موت دی تھی۔ایک اور خاتون ملکہ لیوبا بھی روم کے معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھی مگر اس قدر راز داری سے قتل اور اتنی سفاکی سے جان لیا کرتی تھی کہ ”خونی بھیڑ“ کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔ انگلستان کی کوراپرل بھی ایسی خاتون تھی کہ جو ایک موسیقار کے گھر پیدا ہوئی اور اقتدار اور دولت کی ہوس میں اس طرح مبتلا ہوئی کہ مظالم ڈھاتی رہی لیکن جب مر گئی تو اس کے کفن کا انتظام لوگوں نے پیسے جمع کر کے کیا۔ ”سقوط غرناطہ“ کا مرکزی کردار اور کولمبس کے ذریعے امریکہ کو دریافت کرنے کے لئے بھیجنے والی ملکہ ازابیلا ایک اور ایسی مثال ہے کہ جس نے خون کی ہولی کھیلی تھی اور غرناطہ کی گلیوں میں نیم برہنہ عورتیںخونی درندوں سے بچنے کیلئے دوڑتی پھرتی تھیں۔ غرناطہ کی گلیوں میں خون کی بارش برسی تھی لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے والی ہے کہ 35 ہزار کی فوج کا لشکر امیر ابو عبداﷲ کے پاس اس وقت موجود تھا کہاں تو تین سو تیرہ کامیاب ٹھہرتے ہیں اور کہاں یہ لشکر کہ جس نے ذہنی طور پر شکست تسلیم کر لی تھی۔ لہذا ظلم کی داستان کا آغاز تو ہونا ہی تھا۔ اس جدید زمانے میں ہمارے ہاں پچھلے برسوں میں کینڈولیزا رائس آیا جایا کرتی تھی۔ اس نے بھی افغانستان کے معاملے میں اپنی درشتی کی وجہ سے کئی ”القابات“ حاصل کئے تھے۔ یہ تمام خواتین مدر ٹریسا اور ڈاکٹر فا¶ جیسی عظیم خواتین کے برعکس کردار کی حامل خواتین ہیں۔ تازہ ترین حالات میں برما کی آنگ سانگ سوچی ایک ایسا کردار ہے جس نے ظلم کی داستان رقم کرنے میں ماضی کی تمام حدیں توڑ دی ہیں اور حیرت ہوئی ہے کہ یہ دنیا تعلیم یافتہ اور پڑھا لکھا ”گلوبل ویلیج“ ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں مذہبی شدت پسندی اور دہشت گردی نہیں ہونی چاہئے مگر اس وقت بدھا کے پیروکاروں سے بڑا دہشت گرد کون ہے ؟ یہ بھی سچ ہے کہ ماضی میں تاریخ کے اوراق پر ایک دوسرے کے دشمن ایک دوسرے کے آمنے سامنے صف آراءہو کر قتل و غارت گری کا کھیل بھی کھیلتے رہے ہیں مگر ان جنگوں کے بھی کچھ اصول ہوا کرتے تھے۔ عورتوں اور بچوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں رکھا جاتا تھا مگر تف ہے اس جدید تعلیم یافتہ اور روشن خیال دنیا پر کہ جہاں سب کی آنکھوں کے سامنے ایسی قتل گاہ سجائی گئی ہے جہاں بزدلی کی آخری انتہا یہ دکھائی دیتی ہے کہ عورتوں اور معصوم بچوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ برما کی آنگ سانگ سوچی نے جمہوری آزادی اور شہری حقوق کی خاطر جنگ لڑی تھی اور طویل نظر بندی بھی برداشت کی تھی مگر نفسیاتی طور پر آج وہ مردوں سے بڑھ کر خود کو مرد ثابت کرنے کی کوشش میں انسانیت سوز مظالم پر آنکھیں بند کئے ہوئے ہے اور اس نے اپنے اندر کی عورت کو مار ڈالا ہے اور اپنا نام تاریخ کی ان ظالم عورتوں میں لکھوا لیا ہے جن کا انجام قدرت کی طرف سے عبرتناک ہوا تھا اور یہ بدقسمتی ہے کہ اس وقت دنیا کے سامنے ایک اور عورت کا چہرہ بھی موجود ہے جس کا نام حسینہ واجد ہے اور جو اپنے کردار میں کسی بھی طرح حسین نہیں ہے اور جس نے ان بزرگوں کو پھانسی پر لٹکایا تھا کہ بڑھاپے کی آخری دہلیز پر تھے اور وہیل چیئر پر تھے اور ان دو خواتین کے سامنے تیسرا کردار مودی سرکار کا ہمارے سامنے موجود ہے جو برما کے اقدامات پر انہیں تھپکیاں دینے ان کے ساتھ ہیں۔ یعنی اس وقت ایسا ”ثلاثہ“ موجود ہے جن کی طرف سے ظالمانہ اقدامات اٹھانے میں کوئی ہچکچاہٹ یا شرمندگی کے احساس تک کی توقع رکھنا فضول ہے۔ جس طرح سقوط غرناطہ کے وقت امیر ابو عبداﷲ کے پاس 35 ہزار فوج موجود ہے۔ آج لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ مسلم اتحادی فوج کس مقصد کے لئے ہے ؟ اور مسلم امہ خاموش کیوں ہے۔ اگر کسی مذہبی تنظیم نے دس بارہ برمی سپاہیوں کی موت کی ذمہ داری قبول کی ہے تو کیا اس کا نتیجہ یہ نکلنا چاہئے کہ جو سامنے نظر آیا اور جس کی تفصیل لکھتے ہوئے یہ قلم کانپ اٹھتا ہے۔ اس لئے آج اس دور میں ”مذہبی“ کی بجائے ”انسانی“ اقداروں اور انسانیت کی بات ہونی چاہئے۔ ورنہ دنیا جنگ و جدل اور نفرت کے طوفان میں بہتی چلی جائے گی اور دریا¶ں اور سمندروں کا پانی سرخ ہو جائے گا لیکن یہ بات آج سوچنا ہو گی کہ آج برما کے روہنگیا مسلمانوں کے لئے کوئی وطن موجود نہیں ان کے لئے اس روئے ارض پر کوئی ایسی جگہ موجود ہے جسے وہ اپنا وطن کہہ سکیں۔ترکی کو شاباش دینا چاہئے جو مدد کے لئے آگے بڑھا ہے لیکن سعودی عرب کے صحرا خالی پڑے ہیں۔ سعودی عرب کے حکمران ڈونلڈ ٹرمپ کو اربوں ڈالر کے تحائف دے سکتے ہیں تو کیا وہ برما کے روہنگیا مسلمانوں کے لئے کوئی ایسی زمین یا قطعہ زمین خرید کر دے سکتے ہیں کہ جو ان کا وطن کہلائے اور کیا قطر کے شہزادے صرف خط و کتابت اور شکار کے لئے ہی ہیں ؟ لہذا اب ان لوگوں کو مناسب اقدامات کرنا چاہئیں اور آخر میں یہ بات یاد رکھنا ہو گی کہ اب ڈرنے کا وقت ختم ہو چکا ۔ طیب اردگان کو کوئی زندہ نگل نہیں گیا۔
آج ہمیں خوشی ہے کہ پاکستان کے یوم دفاع پر آرمی چیف جنرل باجوہ نے دنیا سے کہہ دیا ہے کہ وہ ”ڈو مور“ پر آئیں۔ اب دنیا میں جینے کا یہی طریقہ ہے جو قوموں کو راس آ سکتا ہے اور اس کے ساتھ ہی آنگ سانگ سوچی ‘ حسینہ واجد اور مودی کے نئے ”اتحادی ثلاثہ“ پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے ۔