"یمن کی صورتحال اور ہماری غیر ذمہ دارانہ سیاستـ "

کالم نگار  |  رابعہ رحمن

عرب دُنیا گذشتہ کئی سالوں سے بحرانی کیفیت سے دوچار ہے ایک کے بعد دوسرے ملک میں بحران اورغیر یقینی صورتحال جنم لے رہی ہے۔ عراق ،شام، مصر،تیونس،لیبیا،فلسطین اور اب یمن کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں بہت سے بیرونی اور اندرونی عوامل کارفرما ہیں مگر اسلامی دُنیا نے کسی قسم کا سبق حاصل نہیں کیااور آج بھی اغیار کے اشاروں پر اپنی تباہی کرنے پر تُلی نظر آتی ہے۔ کہیں مسلک کا مسئلہ ہے تو کہیں طرز حکومت کا سب اپنے اپنے مفادات کے حصول کی خاطر تباہی اور بربادی کے سفر پر گامزن ہیں۔ غیر اسلامی قوتیں ہر جگہ اپنے مفادات کے حصول کے بعد وہاں کے عوام کو بھول چُکی ہیں اور پیچھے تباہی کے سوا کُچھ بھی نہیں۔ اس سلسلے میں عراق،لیبیا اور مصر کی مثالیں سب کے سامنے ہیں۔ کہیں آمریت سے چھٹکارے کے نام پر سہانے خواب دکھائے گئے تو کہیں ظالمانہ نظامِ حکومت کو اُکھاڑ پھینکنے کے نام پر خون کی ہولی کھیلی گئی۔ آج افغانستان،عراق اور لیبیا کو دُنیا بھول چکی ہے اور یہی حال شام اور یمن کا بھی ہو گا۔حُسنی مُبارک سے چھٹکارے کے بعد اُس سے بڑے آمر کو بٹھا دیا گیا ہے اور انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں۔ یمن کے بحران سے سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک براہِ راست متاثر ہو ئے ہیں۔ سعودی عرب سے بالخصوص اور دوسرے خلیجی ممالک سے بالعموم ہمارے انتہائی قریبی دوستانہ تعلقات ہیں۔ ان ممالک میں لاکھوں پاکستانی کام کرتے ہیں اور اپنے ملک کیلئے کثیر زرِ مبادلہ کماتے ہیں۔ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی ہر موقع پر مدد کی ہے چاہے ہمارے ہاں کوئی بھی حکومت یا حاکم ہو۔ دفاع سمیت بہت سے شعبوں میں دونوں ممالک کے مابین تعاون جاری ہے اور ماضی میں بھی رہا ہے۔ پاکستانی فوجی دستے ماضی میں بھی سعودی عرب میں تعینات رہے ہیں اور آج بھی تربیت کیلئے کسی نہ کسی صورت وہاں موجود ہیں۔ یمن کے بحران کے ضمن میں سعودی عرب نے پاکستان سے فوجی تعاون کی باقاعدہ درخواست کی تا کہ اُسے پیش خطرات سے نمٹا جا سکے۔ یہ درخواست دونوں ممالک کی اعلیٰ ترین قیادت کی سطح پر کی گئی جسے بعد ازاں ایک اعلیٰ سطحی وفد جس میں سیاسی و عسکری ماہرین شامل تھے نے سعودی ہم منصبوں کے ساتھ باہمی طور پر Discuss بھی کیا۔ اس سعودی درخواست کے منظرِ عام پر آنے کے بعد فوراً بعد ہی ہمارے میڈیا اور سیاسی ومذہبی قائدین نے ایک واویلا شروع کر دیا۔ ہر کوئی اپنے مفاد اور سوچ کے مطابق رائے دینے لگا۔ کوئی اسے موجودہ حکمرانوں کی سعودی شاہی خاندان سے قربت کی وجہ قرار دینے لگا تو کسی نے کہا کہ دوسروں کی لڑائی میں شامل ہو کر ہم ایک اور افغان جنگ کیطرف چلے جائیں گے۔ غرضیکہ ملک بھر میں ایک بحران کی سی صورتحال پیدا کر دی گئی جس کی بدولت حکومت اور فوج کیلئے کوئی بھی فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا۔ اس ساری صورتحال کے باعث حکومت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بُلایا تا کہ کسی فیصلے پر پہنچا جا سکے۔ اس اجلاس کے دوران جس قسم کی تقاریر اور بحث کی گئی وہ بھی اپنی طرز کی ایک انوکھی مثال ہے۔ اپوزیشن اور بعض مذہبی و علاقائی جماعتوں کے قائدین و اراکین نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور مفادات پر مبنی تقاریر کیں۔ اکثریت نے اسے افغان جنگ سے تعبیر کیا اور کسی بھی قسم کی عسکری حمایت کی سختی سے مخالفت کی۔ اس بحث کے بعد ایک مشترکہ قراداد منظور کی گئی جس میں سعودی عرب کی سا لمیت کے تحفظ کا تو اعادہ کیا گیا مگر وہاں فوج بھیجنے کی مخالفت کی گئی۔ اس بحث اور قرارداد کے بعد سعودی عرب اور خلیج میں ایک بحث چھڑ گئی جس میں پاکستان کے کردار کو سخت ہدفِ تنقید بنایا گیا۔ اس صورتحال میں وزیرِ اعظم کو خود میڈیا پر آ کر ایک پالیسی بیان دینا پڑا جس میں سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ کا اعادہ کیا گیا بعد ازاں وزیرِ اعظم اور آرمی چیف کو خود سعودی عرب جا کر اپنی پوزیشن واضع کرنی پڑی۔ اس ساری صورتحال کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے میڈیا اور مجموعی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے غیر ذمہ دارانہ اور غیر حقیقت پسندانہ رویے کیوجہ سے ہم نے ایک ایسا موقع گنوا دیا ہے جسکا فائدہ اُٹھا کر ہم نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت کو بہت زیادہ حد تک بڑھا سکتے تھے بلکہ خلیج اور سعودی عرب میں ایک طویل عرصے کیلئے اپنی عسکری موجودگی کو یقینی بنا سکتے تھے۔ اس طرح کے تدویراتی مواقع روز روز نہیں ملتے اور جو ممالک ان سے بروقت فائدہ اُٹھاتے ہیں مستقبل اُنہی کا ہوتا ہے۔ سعودی عرب نے سب سے پہلے ہم سے تعاون کی درخواست کی تھی جو کہ ہماری عسکری قابلیت کا ایک کُھلا اقرار ہے۔ ہم اپنا یہ موقف کہ یمن کی سرزمین پر پاکستانی فوج کو نہیں جانا چاہیے برقرار رکھ کر بھی اپنے مقاصد حاصل کر سکتے تھے۔ اگر افغانستان میں عسکری مداخلت ایک غلطی تھی تو اُس وقت کے حالات میں شاید وہ ضروری تھا اور دوسرے یہ کہ ہر صورتحال نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ اب امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک اس صورتحال سے فائدہ اُٹھانے کو تیار بیٹھے ہیں۔ پاکستانی فوج کی چاہے ایک قلیل تعداد ہی سعودی عرب یا یمن سے باہر رہتے ہوئے کسی دوسرے خلیجی ملک میں تعینات ہوتی تو آج سعودی عرب جو اسلحہ اور سازوسامان امریکہ سے خریدنے چلا ہے اُسکی ایک کثیر تعداد ہم دے سکتے تھے۔ ایک غیر ضروری واویلہ کھڑا کر کے حکومت پر ایسا دبائو ڈالا گیا کہ وہ اور فوجی قیادت چاہتے ہوئے بھی سعودی عرب کی عملی مدد نہ کر سکے۔ اب اگر سعودی عرب اور امریکہ یا کسی اور ملک کی کیطرف دیکھتا ہے تو یہ اُسکا حق ہے۔ سعودی عرب کی سا لمیت کو درپیش کسی خطرے کا مقابلہ کرنے کا عزم وہاں فی الوقتی قلیل تعداد میں فوج بھیج کر بھی کیا جا سکتا تھا۔ اس مجموعی رویئے کو غیر ذمہ دارانہ، حقیقت سے دور اور مفادات کا تحفظ ہی کہا جا سکتا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں ہر چیز کو اپنے مفاد اور سوچ سے نکل کر نہیں دیکھا جاتا۔ مخالف کو نیچا دکھانا ہر حال میں ضروری ہے۔