’’قومی سلامتی پر کور کمانڈرز کانفرنس ۔ مستقبل کیلئے لمحۂ فکریہ‘‘

’’قومی سلامتی پر کور کمانڈرز کانفرنس ۔ مستقبل کیلئے لمحۂ فکریہ‘‘

شہید وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے پہلے دورہ حکومت کے آواخر میں 1989ء کے نومبر یا دسمبر کی بات ہے کہ سندھ میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں کراچی میں ایک قومی کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں پنجاب کے ذرائع ابلا غ کے وفد کی قیادت محترم مجید نظامی مرحوم فرما رہے تھے۔ یہ خاکسار بھی اُس وفد میں شامل تھا۔ اس تین روزہ کانفرنس کے آخر میں جو قرارداد پاس کی گئی اُس کی ڈرافٹنگ کی ذمہ داری بھی جناب مجید نظامی مرحوم و مغفور کو سونپی گئی تھی۔ مہاجر قومی موومنٹ اور اس جماعت کے لیڈر جناب الطاف حسین خصوصی طور پر زیر بحث آئے اور کراچی میں جناح پور کے نام سے صوبہ بنانے کے ایشو پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سندھ اور خصوصاً کراچی میں بیرونی ملک سے ناجائزہ طور پر داخل ہونے پرخصوصی نگرانی اور پابندی نہ ہو نے کو کراچی کی خرابیوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا اور کراچی میں امن و امان بحال کرنے کیلئے ہتھیاروں پر پابندی لگانے اور شرپسند عنا صر کو فوری طور پر گرفتار کرنے پر زور دیا گیا۔ اُس وقت سے لے کر آج تک صو بہ سند ھ اور خاص طور پر روشنیوں کے شہر، تجارت کے مرکز اور ملک کی واحد بندرگاہ کے حالات پر جو بیتی ہے وہ ایک حدیث خونچکاں سے کم نہیں ہے۔ کراچی پر ہی کیا موقوف ہے پورا پاکستان دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خلاف حالت جنگ میں ہے۔ دہشتگردی اور پاکستان دشمن قوتوں کی سازشوں کے نتیجہ میں پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں کی صورتحال تشویشناک ہے۔ افغانستان کی سرحد کیساتھ ساتھ ملحقہ علاقوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خودمختاری اور ریاست کی اتھارٹی خطرات سے دوچار ہے پاک فو ج کا آپریشن ضر ب عضب اور انٹرنل سکیورٹی بحال کرنے کیلئے رینجرز اور فوج کی کارروائیاں دن رات سر گرم عمل ہیں۔ عرصہ سے ایسی سرگرمیوں کے پیچھے بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا نام سرفہرست چلا آ رہا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ قیام پاکستان کے روزِ اول سے ہی بھارت نے پاکستان کے وجود کونہ صرف دل سے کبھی قبول نہیں کیا بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو شکست و ریخت کا شکار بنانے میں بھارت اور ’’را‘‘ نے کبھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ ریاست جموں و کشمیر، ریاست حیدر آباد دکن، ریاست جوناگڑھ پر ننگی جارحیت اور فو جی کارروائیوں کے بعد 1971ء میں بھارت نے پاکستان کو دولخت کرنے کے بعد وطن عزیز کو مزید غیر مستحکم اور اندرونی توڑ پھوڑ کا شکار بنانے میں جو کارروائیاں جاری کر رکھی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسکے ثبوت حکومت پاکستان اور پاکستان کی عسکری قیادت نے کئی بار عالمی سطح پر تمام بڑی طاقتوں بشمول اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے کئی بار پیش کئے ہیں لیکن حالیہ کور کمانڈرز کانفرنس کے موقع پر پاکستان کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے کور کمانڈرز کی کانفرنس میں باضابطہ طور پر پوری دنیا کو دوٹوک الفاظ میں پاکستان کوعدمِ استحکام سے دوچار کرنے اور دہشت گردی و تخریب کاری کی وارداتوں میں شریک ہو کر پاکستان کی سرزمین پر جارحانہ مداخلت کا الزام لگایا ہے جس میں بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا نام لے کر دوٹوک الفاظ میں ملوث قرار دیا ہے۔ اسکے ساتھ ہی کور کمانڈرز کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد کے لند ن میں بیٹھ کر پاکستان میں اپنے پارٹی ورکرز کو ٹیلی فونک خطاب کے ذریعہ افواج پاکستان کیخلاف زہرآلود ہرزہ سرائی کی زبان استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے عوام کی نظروں سے گرانے کی جو کو شش کی ہے۔ کور کمانڈرز کانفرنس میں اُسے نا قابل قبول قرار دیا گیا ہے فوج کے ترجمان جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اپنے بیان میں یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ جی ایچ کیو اس بارے میں متحدہ کے قائد کیخلاف ضروری قانونی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔
ملک دشمنی میں اس حد تک بڑھ جانا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے جناب الطاف حسین مدد مانگنے کو اب ’’اپنا طنزیہ‘‘ انداز بیاں قرار دیتے ہیں اور اس پر طرفہ تماشا ملاحظہ ہو کہ اگر افواج پاکستان کو اُنکے الفاظ سے کوئی دکھ پہنچا ہو تو معذرت خواہ ہیں۔ جسکے جواب میں کور کمانڈرز نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ وہ پاکستان میں عدم استحکام کی ساز شیں کر نے اور بد امنی پھیلانے سے باز رہے۔ اگر میں یہ کہوںکہ افواج پاکستان نے کھل کر بھارت پر بلوچستان میں مداخلت کر نے پورے ملک میں عدم استحکام کے جال پھیلانے میں سرگرم کردار ادا کر نے اور ضرب عضب آپریشن کو ناکام بنانے کیلئے اپنے ایجنٹوں کے ساتھ مل کر منصو بہ بندی کی چارج شیٹ جاری کر دی ہے تو غلط نہ ہو گا۔ پاکستان کی حکو مت اور عوام کیلئے یہ ایک سنگین لمحہ فکریہ ہے ۔ عین اس مو قع پر اور اُسی روز جب جی ایچ کیو میں کور کمانڈرز کانفرنس ہو رہی تھی لاہور میں پاکستان نیشنل فورم بھی الطاف حسین کے ٹیلی فونک خطاب پر مندرجہ بالا الزامات پرایک خصوصی نشست میں افواج پاکستان کے خلا ف ہتک آمیز بیان کو آئین پاکستان کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اجلاس منعقد کر رہا تھا۔ اس اجلاس میں مہاجر قومی موومنٹ کی اُسکے قیام سے لے کر آج تک کے تاریخی پس منظر کو اجاگر کرتے ہوئے قومی سطح پر تمام صوبائی اسمبلیوں، قومی اسمبلی اور سینٹ میں شدید رد عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پوری قوم جناب الطاف حسین کے دئیے گئے بیان کو مسترد کر تے ہوئے اُن کے خلا ف آئین پاکستان کے مطابق آرٹیکل 6کے تحت غداری کے مقدمہ کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اندریں حالات اُن کو معا فی دینے کا کوئی سوا ل ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستان نیشنل فورم نے اس سلسلہ میں ایک متفقہ قرارداد بھی پاس کی جس کا خلاصہ پیش خدمت ہے:
جناب الطاف حسین کا بیان افواج پاکستان کیخلاف ہتک آمیز الفاظ اور فو ج کے ادارے کو عوام کی نظروں میں گرانے کی سوچی سمجھی ترغیب دینے اور بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے مدد مانگنے کے سنگین اقدام پر آئین پاکستان کی واضح خلاف ورزی کی گئی ہے جس پر فیڈرل گورنمنٹ کو قانونی اور انتظامی اقدامات لینا لاز م ہے جن سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سلامتی، خود مختاری اور وقار کو مضبوط بنایا جائے۔