’’ریاست کی رٹ‘‘

کالم نگار  |  مسرت قیوم
’’ریاست کی رٹ‘‘

یقیناً ’’کور کمانڈرز‘‘ کا اظہار تشویش معنی رکھتا ہے جبکہ ’’را‘‘ کی مداخلت شرانگیزیاں برسوں سے معلوم ہیں مگر باضابطہ نوٹس اب لیا جا رہا ہے۔ دہلی ، اسلام آباد تعلقات کبھی بھی مساوی بنیاد پر قائم نہیں ہوئے۔ ہماری ’’قیادت، اشرافیہ‘‘ کا جھکائو ہمیشہ ’’سرحدکے اس پار رہا‘‘ ہم نے پھول بھجوائے تو بدلہ میں پتھر پھینکے گئے۔ ادھر سے مٹھائی کے ٹوکرے ، تحائف اور ادھر سے شیلنگ، مارٹر گولوں کی سلامی، ہماری بے جا نوازشات ، تحمل، حد سے بڑھی ہوئی محبت آج ’’ کراچی سے کوئٹہ‘‘ تک وطن کیلئے ناسور بن چکی ہے۔ قوم ہر اس قدم، فیصلے میں شریک ہے جو دشمن کی گردن کاٹ کر رکھ دے۔ ’’را‘‘ کی نقب اس لئے بھی کامیاب رہی کہ پاکستان کی اکثریتی آبادی (دیگر وجوہات کے علاوہ ) امتیازی سلوک کا شکار ہے۔ معاشی ناانصافی کے علاوہ فرقوں اور فرقہ واریت کی موجودگی کو تسلیم کئے بنا حل کی طرف بڑھنے کا راستہ مسدود ہے۔ کالعدم قرار دے دو، گرفتار کر لو، پکڑ کر لو کے بجائے امراض کا شافی علاج ڈھونڈیں، مسیحائی نسخہ یہی ہے کہ جہالت اور غربت کے خاتمہ کو ترجیحات میں پہلے نمبر پر رکھا جائے…
-2 پولیس کو ڈاکوئوں نے اغوا کر لیا
اتنا اندھیرا بھی نہیں تھا۔ اس قدر روشنی تھی کہ چہرے بخوبی پہچانے جا سکتے، سوئے ہوئے ’’اہلکار‘‘ ڈیوٹی پر موجود تھے مگر نیند کی فرحت بخش تاثیر حملے سے کون ظالم بچ سکتا ہے بے شک ڈیوٹی روسٹر چل رہا ہو۔ اچانک علاقے کے حاکموں (ڈاکو) نے دھاوا بول دیا اور مہمانوں کو اٹھا کر لے گئے۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے۔ کچے کا علاقہ اور ڈاکوئوں کے قصے پڑھتے آ رہے ہیں پچھلے کچھ برسوں میں ’’ڈاکوئوں‘‘ کی خبریں کم ضرور ہوئی تھیں مگر کچے کے علاقے ابھی تک واگزار نہیں کروائے جا سکے ہیں۔ ڈاکوئوں کے ہاتھوں ’’پولیس‘‘ کے اغوا کی خبر سن کر زیادہ پریشانی اس لئے لاحق نہیں ہوئی کہ یہاں تو پولیس کیا ’’ریاست کی رٹ‘‘ اغواء ہو چکی ہے۔ اہلکاروں کو بازیاب کروانے کے آپریشن کے لیے دونوں صوبوں کی پولیس نفری، بکتر بند گاڑیوں اور فضائی کمک گینگز کو کچلنے کے لئے نہیں بلکہ ’’اہلکاروں‘‘ کو رہا کروانے کیلئے مشن کیا گیا۔ کیا ممکن نہیں تھا کہ اس طرح کے حالات پیدا ہی نہ ہونے دیئے جاتے کئی برسوں قبل اس طرز کا مشن کر لیا ہوتا تو آج ریاست کی رٹ چند مجرموں کے ہاتھوں یرغمال نہ ہوتی اس دیدہ دلیری کی نوبت کیوں آنے دی گئی۔ مغویوں کی برآمدگی کے لئے ’’دو ہزار کمانڈوز‘‘ اتارے گئے اور کامیاب رہے۔ اگر ایک ہزار کمانڈوز سال پہلے اتار دیتے تو قانون شکنی کی اتنی بڑی واردات ہماری جگ ہنسائی کا موجب نہ بنتی۔ ہمارا مشورہ ہے کہ کچے کے علاقے کو ہاریوں میں بانٹ دینے کا ’’میاں نوازشریف‘‘ کے فیصلے کو دہرانا چاہئے۔ ایک تو غریب کا خاتمہ ہو گا۔ دوسرے مجرموں کی کمین گاہیں نہ صرف خالی ہونگی بلکہ مجرم بننے کا سب سے بڑی وجہ، سبب کا بھی قلع قمع ہو گا۔
 ’’3 قدرتی آفات‘‘ حادثات کی بھرمار۔
شاید بلکہ یقین ہے کہ ’’آسمان اور زمین‘‘ دونوں پاکستان سے ناراض ہیں‘ ایک طرف تسلسل سے قدرتی آفات تباہی کی کہانیاں لکھ رہی ہیں اور دوسری طرف زمین پر بڑھتے ہوئے حادثات رنج و الم پھیلا رہے ہیں۔ ’’دادو‘‘ میں بجلی کے تار سے مرنے والے ’’12 باراتی‘‘ آخری سفر کے لمحات طے کر رہے تھے۔ ’’ٹینکر‘‘ کی ٹکر سے 4 بچے ہلاک متعدد زخمی ہو گئے۔ موت طبعی ہو یا حادثاتی، ماتم تو بپا کرتی ہے اور جب اجتماعی ہلاکتیں ہوں تو کہرام مچ جاتا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں اور سننے والے دلوں میں بھی بیشک یہ سنگین المیہ ہوتا ہے۔ ہم لکھیں گے کہ ’’قدرتی آفات‘‘ اختیاری عمل میں اس لئے اجتماعی توبہ، استغفار کی ضرورت ہے۔ لازم ہے کہ ہم اپنے ’’رب کریم ذی شان‘‘ سے مغفرت مانگیں ’’موسموں کو معتدل بنانے، وبائوں، آفات کو ٹالنے کی درخواست کریں، زندگی اور رزق میں برکت، کشادگی کے لئے دست دعا بلند کریں ’’اللہ تعالیٰ‘‘ غفورالرحیم ہے یقیناً معاف فرما دے گا۔ اگر عہد کر لیں کہ آئندہ قدرت کے امور میں دخل اندازی نہیں کریں گے، آفات ہمارے کالے اعمال کا نتیجہ ہیں جب ہم درختوں کو کاٹنے، زرعی زمین پر سیمنٹ، گارے کی بلند عمارتیں کھڑی کر کے پاکستان کو بنجر صحرا کی صورت دینے پر تلے بیٹھے ہوں تو پھر ’’قدرت‘‘ ہم پر فیاضی کیوں کرے گی۔ ایک روپے کی خاطر انسان قتل کر دیں تو ’’آسمانی آئین‘‘ کی خلاف ورزی مزید کتنی مہلت دے گی۔ اس کے باوجود اوپر سے تو معافی مل جائے گی مگر زمین پر موجود بدمست لوگوں کو معاف کرنے کی شرمندہ تاریخ آہنی ہاتھوں سے کھرچ ڈالنے کا فیصلہ کر لیں۔ قانون بحرحال مقدم رہنا چاہئے۔ آئین آسمانی ہو یا زمینی‘ تقدیس ضرور ہے۔ آسمانی قانون کی خلاف ورزیوں کے برے نتائج سب کے سامنے ہیں تو زمینی قانون کو پامال کرنے کے ہولناک نتائج بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ جو بھی نشے میں ہے‘ گمراہ ہے‘ اسے کچل کر رکھ دیں۔ کراچی سے کوئٹہ پشاور انارکی پھیلانے ‘ بارود سلگانے والے بھی انسان کش ٹینکر ہیں۔
ریاست در ریاست:
سیاستدان بھی نرالی مخلوق ہیں۔ اقتدار میں ہوں تومرضی کے تقرر‘ تبادلوں کیلئے دبائو استعمال کرتے ہیں جبکہ مشکل میں پڑ جائیں تو غیر سیاسی ملازمین مانگتے ہیں۔ بدین کا شہر بھی آجکل ریاست در ریاست کا منظر پیش کر رہاہے۔ پورے گائوں کے ہاتھوں میں اسلحہ کی کھلے عام نمائش‘ فراہمی کا ذمہ دار تو معلوم ہے‘ روک تھام کرنے والے نامعلوم کیوں ہیں۔ ریاست کی رٹ دو گروپوں کی چپقلش میں پھنس چکی ہے۔