’’ بلوچستان کے تعلیمی مسائل ‘‘

’’ بلوچستان کے تعلیمی مسائل ‘‘

کسی بھی ملک کی ترقی میں تعلیم کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے بابائے قوم جناب محمد علی جناح نے اس کے حصول کی اہمیت پر زور دیا تھا۔ اس وقت پاکستان میں خواندگی کی شرح کسی بھی طرح تسلی بخش قرار نہیں دی جا سکتی اور اس لحاظ سے ہمارے تمام صوبوں میں بلوچستان سب سے پسماندہ صوبے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسکی مختلف وجوہات میں تعلیم کا ناقص معیار سر فہرست ہے جو کہ صرف 39فی صد ہے اور باقی صوبوں کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔ اس وقت بلوچستان میں تقریبا 2.3 ملین بچے سکول نہیں جاتے اور جو کالج اورسکول موجود ہیں اُن میں بھی بنیادی ڈھانچے اور ضروری سہولیات کا مکمل فقدان ہے۔ شعبہ تعلیم میں اصلاحات کے بارے میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے 4جنوری 2014 کو تعلیمی ایمر جنسی کے نفاد کا اعلان کیا۔ لیکن تقریبا ڈیڑھ سال گزر جانے کے بعد بھی انکے بیان پر قطعی کوئی عمل درآمد نہیں کیا گیا اور ہمیشہ کی طرح یہ بھی صرف’’ شو بازی‘‘ ہی ثابت ہوئی تعلیمی ایمرجنسی کی ناکامی کی متعدد وجوہات درج ذیل ہیں :اوّل: تعلیمی ایمر جنسی کے نفاذ کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی گئی۔ دوم: حکومت کی طرف سے اُن محکموں کی نشان دہی نہیں کی گئی جن پر اس ایمرجنسی کا اطلاق ہو گا۔سوم: تعلیمی اصلاحات کے خدوخال کی نشاندہی بھی نہیں کی گئی۔
 دوسری طرف صوبائی حکومت کا پورا زور محض پراپیگنڈے کرنے اور فصاحت وبلاغت تک محدود رہا اور عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا۔ صوبائی بجٹ 2014-15 میں تعلیم کے لیے 26فی صدرقم مختص کی گئی لیکن اس کے استعمال کے بارے میں نہ تو کہیں کوئی حکمت عملی بتائی گئی اور نہ اس کا اعلان نہیں کیا گیا۔ تعلیمی ایمر جنسی میں چند غیر ضروری اقدامات کئے گئے جن میں کمرہ امتحانات میں CCTV کیمروں کی تنصیب قابل ذکر ہے اس پر عوام کی خطیر رقم خرچ کی گئی اور اسے صوبائی حکومت کی طرف سے انقلابی قدم قرار دیا گیا۔ جبکہ محکمہ تعلیم یہ کام بھی احسن طریقے سے سرانجام نہ دے سکا اور یہ کیمرے صرف کچھ جگہوں پر ہی لگائے جا سکے نتیجتاً امتحانات میں نقل کو مکمل طور پر روکا نہ جا سکا۔ جہاں تک امتحانات کے دوران نقل کا تعلق ہے اس کی اصل وجہ سکولوں اور کالجوں میں اساتذہ کی کمی اور بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کی کمی ہے۔ جس کو صوبائی حکومت سمجھنے سے قاصر رہی اور CCTVکیمروں کی تنصیب پر ٹیکس دھندہ کا لاکھوں روپیہ ضائع کر دیا گیا۔
جہاں تک صوبہ بلوچستان میں تعلیمی پسماندگی کا تعلق ہے اس میں صرف حکومتی نااہلی ہی کا عمل دخل نہیں بلکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں اس کی یعنی نیت کے بارے میں شکوک اور شبہات موجود ہے۔ مثلاً اس وقت بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 227 طلباء کا تعلیمی مستقبل شدید خطرے سے دوچار ہے۔ صوبہ پنجاب کے مختلف اداروں میں زیر تعلیم ہیں معاہدے کے مطابق ان طلبا کے اخراجات کا 50 فی صد CHAMALANG ادا کریگا اور بقیہ 25 فیصد رقم کی ادائیگی دونوں صوبوں کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ مگر 2سال کا لمبا عرصہ گزر جانے کے باوجود حکومت بلوچستان نے اپنے حصے کی رقم ادا نہیں کی نتیجتاً پنجاب کے تعلیمی اداروں نے طلباء کے والدین کو مطلع کیا ہے کہ حکومت بلوچستان کی طرف سے رقم کی ادائیگی تک ان طلبا کو وہاں نہ بھیجا جائے۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت بلوچستان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ یہ کس قسم کی تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی ہے جبکہ وہ چند لاکھ روپے پنجاب میں تعلیم حاصل کرنیوالے طلباء کی فیس کے طور پر ادا نہیں کر رہی۔ مزید برآں پچھلے دنوں ضلع ’’کچھ‘‘ کی تحصیل بلیدہ میں بچیوں نے اپنے سکول میں بنیادی سہولیات کے فقدان کے سلسلے میں احتجاج کیا۔ سکول کی بچیوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ۔  اس سکول کی نہ چار دیواری ہے اور نہ ہی ا س میں پینے کے پانی کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔اُن طالبات کو اس بات کا علم نہیں کیونکہ اُن کا سکول میڈیا کی پہنچ سے باہر ہے اس لیے وہ بلوچستان کی تعلیمی ایمرجنسی کا حصہ نہیں ہے۔ بہت دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سکول وزیر اعلیٰ بلوچستان جناب ڈاکٹر عبدالمالک کے آبائی علاقے میں واقع ہے۔ ’’یعنی چراغ تلے اندھیرا‘‘ بلوچستان میں متعدد NGO تعلیم کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہیں۔ مگر یہ تنظیمیں بڑے بڑے مہنگے ہوٹلوں میں سیمینار منعقد کرتی ہیں۔ تعلیم کے فروغ کے سلسلے میں کتابیں بانٹتی ہیں۔ ٹی وی پر لمبے لمبے لیکچر دیتی ہیں لیکن عملی طور پر تعلیم کے فروغ کے سلسلے میں اُن کی کار کردگی حکومتی اداروں کی طرح صفر ہے۔
قارئین! صوبہ بلوچستان میں تعلیم کی ترقی اور فروغ کے ضمن میں حکومت کو سب سے پہلے سیاسی شعبہ بازی اور شو بازی بند کرنی چاہیے اور پراپیگنڈے اور اشتہار بازی پر خرچ کی جانے والی رقم کو صحیح معنوں پر تعلیم کے فروغ کیلئے استعمال کیا جائے۔ اس کیلئے سب سے پہلے صوبے میں موجود تمام سکول اور کالجز کا سروے کر کے انکی اصل تعداد کا تعین کیا جائے کیونکہ اس صورت میں ہی تعلیم کے فروغ کی حکمت عملی تیار ہو سکتی ہے تا کہ وہ اپنے TERGETیعنی ہدف مقررہ اوقات میں حاصل کرنے کے پابند ہوں۔ صرف اس صورت میں ہی صوبے میں تعلیم کے فروغ کے لیے ٹھوس کام سر انجام دئیے جا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ارباب اختیار کو اس حقیقت کا اعتراف کر لینا چاہیے کہ تعلیم کا فروغ اُن کی سیاسی شعبدہ بازی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں تعلیم بے پناہ اہم اور کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے صوبے میں تعلیم کے فروغ کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کرنا نا گریز ہے۔ ورنہ ہما را یہ صوبہ ہمیشہ کی طرح پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ رہے گا۔