عمر بھر تیری محبت میری خدمت گررہی

کالم نگار  |  امتیاز احمد تارڑ
عمر بھر تیری محبت میری خدمت گررہی

ماں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ وہ مشکل سے مشکل لمحات اور کڑی دھوپ کے وقت ٹھنڈی چھائوں کے سائباں کی مثل اپنے بچوں کے سر پر کھڑی رہتی ہے بدقسمت لوگ سال کے 364 دن ماں کو بھول کر مئی کے دوسرے اتوار کسی اولڈ ہائوس میں ماں کو پھول پیش کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک فرزند نے جب ماں سے پوچھا کہ اماں جی کوئی حکم تو ماں نے کہا کہ بیٹا جہاں آپ بیٹھے ہیں یہاں ایک پنکھا لگوا دیں۔ میں نے تو زندگی گزار لی ہے لیکن جب آپ کی اولاد آپ کو اولڈ ہائوس میں بھیجے گی تو آپ کو گرمی لگے گی۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کہکشاں کی رنگینی، بلبل کے نغمے، زمین کی چمک صبح کے نور اور آفتاب کی تمازت کو جمع کرکے جب ماں کی تخلیق کی گئی تو فرشتوں نے پوچھا اے مالک دو جہاں اپنی طرف سے آپ نے اس میں کیا شامل کیا تو رب العالمین نے فرمایا ’’محبت‘‘ آج جس طرح مریض کے سرہانے بیٹھ کر اسکا سر دبانے اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرنے اسکے ماتھے پر بوسہ دینے یا پائینتی بیٹھ کر اسکے تلوے سہلانے کے بجائے کمرے کے باہر میز پر گلدستہ رکھ دینے یا کتاب پر دو چار جملے لکھ دینے کو معراج تہذیب خیال کیا جانے لگا ہے اسی طرح آج کی نوجوان نسل ماں کی کیئر کرنے اس کا خیال رکھنے اور بڑھاپے میں اسے اولاد کے مستقبل کی فکر اور سوچوں کے گھنے جنگل سے نکالنے انکے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے بے رس جملے I  love u کہہ کر ہاتھ لہراتے ہوئے اپنی زوجہ کیساتھ مارکیٹوں میں گھومنے پھرنے چلے جاتے ہیں اور پھر پلٹ کر بھی نہیں دیکھتے۔ 14 اگست 2006ء کو امی جان ہم سے جدا ہوئیں میں نے نماز جنازہ خود پڑھائی بڑے بھائی سیف اللہ اور چھوٹے بھائی شہباز احمد کے ساتھ ملکر انہیں لحد میں اتارا لیکن اسکے باوجود میری ماں میرے ساتھ ہے وہ ہر لمحہ میری دعائوں میں شامل۔ کدھر شریف کے قبرستان جاتے ہوئے ڈر سا لگتا تھا لیکن اب گائوں میں پہنچتے ہی پہلے قبرستان میں جا کر امی جی کی قبر کے سرہانے اور پائینتی کھڑا ہو کر رب جلیل سے اسکے ساتھ شفقت کے معاملے کی دعا کرتا ہوں میں جب امی جان کی قبر پر مٹی ڈال رہا تھا تو میرے ذہن میں سوالات اٹھ رہے تھے اور میں صحرا میں بھٹکے ہوئے مسافر کی طرح انکے جوابات تلاش کر رہا تھا۔ کہ کل بھی سورج اسی طرح گھر کے پس منظر میں ڈوب جائیگا۔ کیا کل بھی ایسی ہی اداس اور دکھ بھری شام ہو گئی؟ کیا کل بھی پرندے اسی طرح غول کی شکل میں درختوں کی شاخوں پر بیٹھیں گے؟ اکمل شہزاد میرے کندھے پر ہاتھ رکھے دیر تک مجھے گھر لیجانے کی ضد میں تھا لیکن میں اس ممتا کو تنہا چھوڑنے کیلئے تیار نہ تھا جس نے زندگی بھر مجھے تنہا نہیں چھوڑا تھا۔ دنیا میں سبھی لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے جو اپنے والدین کو بڑھاپے میں اولڈ ہائوس چھوڑ آئیں اور پھر خبر تک نہ لیں کہ سانس کی دوڑی کا رشتہ برقرار ہے یا ٹوٹ چکا ہے علامہ اقبال نے اپنی والدہ کے بارے کہا تھا …؎
عمر بھر تیری محبت میری خدمت گررہی
میں تیری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسی
 انسان کو پتہ ہی نہیں چلتا اور سرطان اندر ہی اندر پھیلتا چلا جاتا ہے گھٹن چاٹتا رہتا ہے اور عمر رائیگاں مٹھی میں بند ریت کی طرح سرکتی رہتی ہے۔ کیسی محرومی کہ ہم ماں کی آغوش کو بھی بھلائے رکھتے ہیں میں سبھی دوستوں کے سامنے دست بدستہ گزارش کروں گا کہ اللہ کی اس عظیم ترین نعمت کی قدر کرو پرانی سوچوں، فکروں، پریشانیوں اور یادوں سے انہیں خلاصی دو، تاکہ ان کے لمحات آسودہ گزر سکیں۔ امی جان نے ایک سبق دیا تھا کہ دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر آگے بڑھنا اس پر وہ ایک مثال دیا کرتیں تھیںکہ کلاس روم میں استاد نے بلیک بورڈ پر ایک لکیر کھینچ کر طلبا سے کہا کہ اسے چھوئے بغیر چھوٹا کر دیںتمام طلبا حیران ہوئے تھوڑے سے توقف کے بعد استاد نے اس لائن کے متوازی لائن کھینچ کر اسے چھوٹا کر دیا اور طلبا کو سبق دیا کہ دوسروں کو نقصان پہنچائے حسد کیے اور الجھے بغیرآپ آگے کیسے نکل سکتے ہیں۔ دنیا بھر کی مائوں نے 1872ء میں امریکی خاتون جولیا کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم مائیں اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ ہمارے بچے دوسری مائوں کی گودیں ویران کریں۔ یہ تو انسانی حس اور تکلیف کا احساس کرنیوالی مائوں نے فیصلہ کیا تھا۔ اس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا لیکن آج میں زمینوں کی ’’ماں‘‘ سے بھی گزارش کرونگا مکہ معظمہ کا ایک قرآنی نام ’’ام القری‘‘ ہے یعنی تمام بستیوں کی ماں، دنیا بھر کے کلمہ گو اس ممتا کی کشش سے بندھے ہوئے ہیں۔ آج اگر اس ماں دھرتی سے دیگر حصوں پر بمباری ہو گی لوگوں کا جینا محال ہو گا تو گھر میں کس کے سامنے فریاد کریں۔ یمن کے شہر صنعا میں رہنے والی وفاالمستنصری نے جب یہ بتایا کہ 2 ہفتے سے گھر میں بجلی ہے نہ ہی گیس، پٹرول نہ ملنے سے گاڑیاں بند ہیں لوٹ مار کے خوف سے مارکیٹوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔ اشیاء خور و نوش کا ذخیرہ رفتہ رفتہ ختم ہو رہا ہے ایک گھر میں اندھیرا اور دوسرا بمباری کا خوف، سعودی عرب نے یمنی عوام کیلئے بھی سرحد سیل کر دی ہے۔ مرد گھر سے باہر اس خوف سے نہیں نکلتے کہ باغی یرغمال بنا لیتے ہیں اور خواتین عزتوں کی خاطر گھروں میں بند ہیں۔ قحط سالی کا طوفان آنیوالا ہے۔ لیکن ام القری کے باسیوں کو کوئی فکر نہیں۔ وفا کی اپیل تھی کہ خدارا بمباری میں کچھ توقف کر کے ہمیں کھانے پینے کا سامان تو دے دیں۔ جانور مر رہے ہیں۔ بیماریاں پھوٹ رہی ہیں۔ ہسپتال بند اور مریض تڑپ رہے ہیں۔ صنعا عدن اور تعز میں یہی صورتحال ہے۔ تمنائوں کے جنگلوں میں بھٹکتے ہوئے آرزئوں کے آزار میں مبتلا، کثرت کی طلب میں ہلکان، لالچ میں لت پت دنیا کی چکا چوند کے اسیر اور عہد و منصب کے پجاریوں کے سامنے بات کرنا تو بھینس کے سامنے بینڈ بجانے والی بات ہے۔ میں ’’ام القری‘‘ سے درخواست کرونگا گرچہ وہ بے زباں ہے لیکن اس کی حفاظت کو اپنے ذمہ لینے والے سے تو کچھ چھپا نہیں۔ خدارا یمن کی تڑپتی انسانیت کا خیال کر لیں۔ کہیں ایسا نہ ہو وہ بھی باغی بن جائیں۔ لہذا عوام کو ساتھ رکھنے کا یہی طریقہ ہے کہ وہاں کے رہائشی لوگوں کو خوراک، پانی ادویات اور اشیائے ضروریہ پہنچائیں‘ کاش مدر ڈے کی طرح ’’ام القری‘‘ بھی کوئی ڈے منا کر دیگر بستیوں کو محفوظ رکھتی۔