تبدیلی ناگزیر ہے !!

کالم نگار  |  روبینہ فیصل
 تبدیلی ناگزیر ہے !!

کینیڈا میںپاکستانی کمیونٹی کا درخت ابھی اتنا قد آور ، پرانا اور مضبوط نہیں ہے۔ پرانی بستیاں چھوڑ کر جب نئی بستیاں بسائی جاتی ہیں تو یہ اسی طرح ہوتا ہے جیسے ایک انسان اپنے کئیرئیر کا آغاز کرتا ہے ۔ اسے بڑی بڑی باتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں ، اپنا مقام بنانے کیلئے محنت کے ساتھ ساتھ اس جگہ کے طور طریقے اور انداز اپنانے پڑتے ہیں ۔ہجرتوں کو اسی لئے کربناک کہا جاتا ہے کہ اس میں ہم نہ صرف اپنا ماضی بلکہ گلیاں اور گواہیاں سب چھوڑ آتے ہیں ۔ یادوں کا دامن تھام لینے والے سہانے مستقبل سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ ماضی سے دامن چھڑا کر کچھ لوگ اپنے آپ کو مکمل طور پر حال میں ڈھال لیتے ہیں اور کامیابی پاتے ہیں ،کچھ لوگ نہ ماضی کو چھوڑتے ہیں نہ حال سے آنکھیں بند کرتے ہیں ، دونوں کو ساتھ لے کر چلتے ہیں اور ایک درمیانی سی کامیابی پا لیتے ہیں ۔ کینیڈا کا سب سے پر کشش نعرہ ملٹی کلچرازم ہے جس کی خوبصورتی یہ ہے کہ کینیڈا میں تمام ثقافتیں برابری کی سطح پر پھل پھول رہی ہیں ۔ اپنی زبان ، اپنے تہوار ،اپنے کھانے اور اپنے مذاہب اور ان سے جڑی روایت سب کو اپنانے  اپنی نسلوں میں آگے منتقل کرنے پر پابندی نہیں ہے ۔ دنیا کے جتنے بھی مہاجر کینیڈا کی سرزمین پر بستے ہیں وہ سب اپنی اپنی شناخت کیساتھ آزادی سے رہتے ہیں  یہ پہلو بہ پہلو چلتے کئی ثقافتوں اور سماجوں کے چشمے ایک دوسرے میں جذب ہوتے نظر نہیں آتے ۔ کینیڈا کا اپنا کلچر کیا ہے ؟ اس کا جواب ہے یہی ملٹی کلچرل ازم ہی کینیڈا کا اپنا کلچر ہے ۔ یعنی بغیر جذب ہوئے ساتھ ساتھ بہنے والے دھارے ؟ ہاں یہی ۔ اسکے فائدے تو بہت سے ہیں ۔ لوگوں کو اپنی شناخت کیساتھ دنیا کے بہترین ملک میں رہنے کا موقع ملتا ہے ۔ مگر ایک بہت بڑا نقصان ہے کہ اپنی اپنی ثقافتوں میں سمٹے لوگوں کو کسی ایک جگہ اکٹھا ہونا پڑ جائے تو کیاہو گا ؟ جب کوئی legislation ایسی بنے جس میں white culture کی جھلک زیادہ نمایاں ہو رہی ہو تو کیا ہوگا ؟
اس کا عملی مظاہرہ ہم نے کے اوپر ایشائی لوگوں کے ردِ عمل سے دیکھ لیا ہے ۔ ہم بچوں کے ساتھ زیادتی کی خبریں پڑھ کر افسوس کا اظہار کرتے اور بے بسی محسوس کرتے ہیں کہ مگر بچوں سے اس موضوع پر بات کرنے سے جھجکتے ہیں ۔بچوں کیساتھ زیادتی ہو جائے اور انکی زندگیاں تباہ ہوجائیں یہ کڑوی گولیاں ہم کھاتے رہتے ہیں اور کوئی جلوس نہیں نکالتے مگر بچوں کو" اس قسم کی آگاہی نہ ہو کہ انکی معصومیت خراب ہوجائے" اس کیخلاف ہم جلوس نکال لیتے ہیں ۔ یا تو بتایا جائے کے دنیا میں ایسے جرائم نہیں ہو رہے یا تو بتایا جائے کہ بچوں کو ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے اور یہ سب کینیڈا کے گوروں کے گندے ذہن کی اختراع ہے اور وہ یہ آگاہی دے کر لوگوں کو اس طرف راغب کر رہے ہیں اور اس سے پہلے دنیا ایک جنت تھی ۔ بچے جب بلوغت کی عمر کو پہنچتے ہیں تو انہیں اپنے اندر ہونیوالی تبدیلیوں کی سمجھ نہیں آتی ۔ کئی بچے ڈر جاتے ہیں ۔ ہارمونل تبدیلیوں سے گھبرا جاتے ہیں ۔ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں اور کئی تنہا پسند ہوجاتے ہیں اور اپنے اپنے حساب سے اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اسکے بارے میں پہلے سے ہی کینیڈا کے نصاب میں موجود ہے مگر اب گریڈ 5 سے گریڈ 3 میں منتقل کیا جارہا ہے۔ جنسی بے راہ روی سے جڑی بیماریوں کے زیادہ پھیلنے کی وجہ سے بچوں کواسکے بارے میں بتانا اس لئے غلط نہیں ہے کہ یہ والدین کا ماننا ہے کہ انکے بچے معصوم ہیں ،بچے اپنے بارے میں یہ خیال نہیں رکھتے۔ وہ ایک آزاد معاشرے میں اپنے والدین کے ذریعے اور مرضی سے پہنچے ہیں ، وہ نئی دنیا اور نت نئے تجربات کرنے کیلئے اپنے والدین کا نظریہ نہیں رکھتے ۔ اس معاشرے میں آکر آپ گھر بیٹھے یہ تصور کر لیں کہ آپکے بچے GLBT  سے نابلد ہیں تو اسے خوش فہمی ہی کہا جا سکتا ہے ۔ یہ بہت دقیانوسی سوچ ہے اسے بدلنا ہوگا ۔کیا کینیڈا میں اس نصاب کے متعارف ہونے سے پہلے بچے معصوم ہیں اور ایسی کوئی حرکت یہاں نہیں ہورہی ؟ کیا بچے انٹر نیٹ ، ٹی وی کمرشل یا راہ چلتے یا اخباروں کے صفحات پر اس قسم کا مواد اور تصویریں نہیں دیکھ رہے ؟ کیا آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ آپکے بچوں کو کچھ نہیں پتہ ؟ ٹش کولمبیا کی Amanda toddکی خود کشی والدین کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے ۔ یہ کیس پورا پڑھیں اور یہ کہہ کر مطمئن نہ ہوجائیں کہ ہم تو اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھتے ہیں ۔ ان ماں باپ کا بھی سوچیں جنہیں دو وقت کی روٹی اور مکان کی چھت کیلئے دن رات کام کرنا پڑتا ہے ۔جو ہر وقت بچوں پر نظر نہیں رکھ سکتے ۔ اگر ٹیچر جو پروفیشنلی ٹرینڈ ہو گا ان والدین کے بچوں کو کوئی تربیت، دے دیگا تو کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑیگا ۔ آپ کو یا مجھے کسی ایک بات پر اعتراض ہوسکتا ہے اسے اونٹاریو حکومت تک پہنچایا بھی جا سکتا ہے مگر ریسرچ کے بعد کہ ہمیں چاہیئے کیا ؟ مکھی پر مکھی مارنے کے بجائے راستہ دیکھنا چاہیئے۔ حیرت ہوتی ہے مجھے اپنی کمیونٹی کے سیاست دانوں پر جو مین سٹریم پارٹیوں کے ٹکٹ لینے یا انکی خوشنودی کی خاطر اپنی کمیونٹی کی جائز آواز ایوانوں تک نہیں پہنچا سکتے اور نہ اپنی پارٹی کا موقف اپنے لوگوں تک پہنچانے کی جرأت رکھتے ہیں ۔ سیاست دانوں کو صرف سیاست ہی نہیں کچھ لیڈر شپ بھی دکھانی چاہیئے ۔ ایک دو پاکستانی خواتین جو اونٹاریو حکومتی پارٹی کا ٹکٹ جیت چکی ہیں وہ ایسے کسی بھی موضوع پر بات کرنے نہیں آتیں ۔ یہ لوگوں کو ان سے اور انہیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیئے کہ ان کا پارٹی میں اور کمیونٹی میں کیا کردار ہے ؟ کیونکہ وہ دونوں سے ہی منا فقت کر رہے ہیں ۔