"داعش کے ہاتھوں شہر نمرود کی تباہی "

کالم نگار  |  سرورمنیر راﺅ

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق داعش (دولت اسلامیہ عراق و شام) نے عراقی شہر نمرود کو تباہ و برباد کرنا شروع کر دیا ہے۔ عراقی حکومت کے اعلان کیمطابق ''داعش نے بھاری گاڑیوں کے ساتھ تاریخی شہر نمرود کی عمارتوں کو مسمار کردیا ہے''۔نمرود شہر کی بنیاد تیرھویں صدی قبل مسیح میں رکھی گئی تھی۔یہ عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل سے قریباً تیس کلومیٹر جنوب مشرق میں دریائے دجلہ کے کنارے واقع ہے۔ موصل میں داعش نے گذشتہ سال جون سے حکومت قائم کررکھی ہے اور وہ اس کو اپنے دارالحکومت کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ داعش کے جنگجو عراق اور شام میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں تاریخی نوادرات ہی کو تباہ نہیں کررہے ہیں بلکہ انھوں نے صوفیہ اور علماء کے متعدد مزارات کو بھی گرا دیا ہے۔جب سے داعش نے موصل پر قبضہ کیا ہے اسکے بعد سے اب تک موصل، کرکوک اور اسکے مضافات میں 30 مزارات اور 9 مساجد کو دھماکوں سے اڑا دیا ہے۔ ان میں حضرت یونس، حضرت شیث، حضرت جرجیس اور حضرت دانیا ل علیہم السلام جیسے جلیل القدر پیغمبروں کے مزارات بھی شامل ہیں۔مصر کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازھر نے داعش کے ہاتھوں عراق، شام اور لیبیا میں صدیوں پرانے آثار قدیمہ کو مسمار کیے جانے کے واقعات کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ آثار قدیمہ کو خلاف اسلام قرار دے کر انہیں مٹانا حرام ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تیرہ قبل مسیح کے دور کے شہر نمرود کو مسمار کر کے داعش نے ثابت کیا ہے کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔جامعہ الازھر نے عراق، شام اور لیبیا سمیت دیگر عرب ملکوں میں موجود آثارقدیمہ کے دفاع کا مطالبہ کرتے ہوئے دہشت گرد تنظیم ’’داعش‘‘ کی سرکوبی کیلئے پوری طاقت استعمال کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ داعش کا مرکز و محور عراق اور شام ہیں لیکن اسکے عزائم میں ایک ایسی خلافت کا قیام ہے جس کے تحت ملت اسلامیہ کے کئی ممالک کو اپنے عملداری میں لانا ہے۔گزشتہ چند ماہ کے دوران داعش نے جس طرح عراق اورشام کے اکثر علاقوںکو زیر نگیں کیا اور دنیا کے کئی ممالک میں اپنا نیٹ ورک قائم کیا ہے اس نے عالم عرب سمیت امریکہ اور مغربی ممالک کے حکمرانوں کی نینداڑا دی ہے۔داعش نے آئندہ پانچ برسوں کے دوران جن ملکوں کو زیر نگیں کرنے کا عندیہ دیا ہے ان میں پاکستان، ایران، مشرق وسطیٰ اورا فریقہ کے عرب ممالک شامل ہیں۔داعش کے اعلامیہ کیمطابق بعض یورپی ممالک کوبھی اسلامی خلافت میں شامل کیا جائیگا۔ داعش چار حروف کا مرکب ہے۔ انگریزی میں اسے ISISیعنی Iraq Syria Islamic State کا نام دیا گیا ہے۔ عربی اور اردو میں"داعش" دولت اسلامیہ عراق وشام ہے۔ اسامہ بن لادن کی فکر سے متاثر چند شدت پسندوں نے اس تنظیم کی بنیاد 15اکتوبر2006 کو بغداد میں رکھی۔ داعش کے قیام کا بنیادی مقصد عراق اور شام کے کچھ علاقوں پر مشتمل ایک اسلامی ریاست کا قیام ہے۔ انکے نزدیک عراق اور شام کی 1932میں قائم کردہ حدود بے معنی ہیں اور وہ دونوں ملکوں کو ایک ریاست میں ضم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔اکثر لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس تنظیم نے اتنی طاقت کیسے پکڑ لی۔ داعش کی افرادی قوت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ برطانیہ میں حال ہی میں کیے گئے ایک سروے کیمطابق ہرساتواں نوجوان عراق اور شام میں برسرپیکار دولتِ اسلامی (داعش) کا پْرجوش حامی ہے۔لندن سے شائع ہونیوالے اخبار ''دی ٹائم'' کے سروے کیمطابق داعش کے حامیوں میں اضافہ سیاست مخالف جذبات کی وجہ سے ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیرملکی جنگجوبھی داعش میں بڑی تعداد میں شامل ہو رہے ہیں۔یہ لوگ زیادہ تر مشرق وسطیٰ، مغربی یورپ اور شمالی افریقہ سے آرہے ہیں۔اب تک کی رپورٹس کیمطابق داعش میں 80 سے زائد ملکوں کے شہری شامل ہیں۔ داعش جیسی تنظیموں کے ذریعے ملت اسلامیہ ہی کو تباہی اور بربادی کا سامنا کیوںکرنا پڑتا ہے؟ان تنظیموں کی افرادی قوت بھی ملت اسلامیہ ہی کی ہوتی ہے اور ان کا شکار بھی ملت اسلامیہ کی حکومتیں اور عوام ہی ہوتے ہیں۔ان تنظیموں کو ختم کرنے کیلئے جو عسکری قوت استعمال کی جاتی ہے اس کیلئے عالمی وسائل بھی مغربی ممالک ملت اسلامیہ کے امیر ممالک سے ہی حاصل کرتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ "ہم سب فرقے باز مسلمان" دوسرے مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں جبکہ صرف "کافر "ہم سب کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ تاریخی تجربات بتاتے ہیں کہ داعش جیسی تنظیمیں کبھی منظر عام پر اچا نک نمودار نہیں ہوتیں بلکہ برسوں کی ناانصافیاں اور حکمرانوں کے بے بصیرتی ایسی تنظیموں کے قیام کی وجہ بنتی ہے۔اس طرح کی انتہا پسند تنظیموں کے قیام میں اندرونی اور بیرونی عوامل دونوں سرگرم عمل ہوتے ہیں۔دولت اسلامیہ فی العراق و شام (داعش) کا ابھرنا دنیائے اسلام کیلئے کوئی نئی بات نہیں ۔تاریخ اسلام میں خارجیوں سے لے کر اب تک ایسے درجنوں نام لیے جا سکتے ہیں۔امریکیوں نے القاعدہ کیخلاف تمام وسائل بروئے کار لا کر اسے تباہ کرنے اور اسکے سربراہ اسامہ بن لادن کو انکے نیٹ ورک سمیت ختم کر دینے کے دعویٰ کیا تھا لیکن القاعدہ آج بھی زندہ ہے۔ القاعدہ اگرچہ کئی حصوں میں منقسم ہو چکی ہے لیکن کئی ممالک میں اب بھی یہ پہلے سے زیادہ خطر ناک اور شدت کے ساتھ موجود ہے۔