نسوانیت زن کا نگہبان ہے فقط مرد

کالم نگار  |  ڈاکٹر راشدہ قریشی
نسوانیت زن کا نگہبان ہے فقط مرد

آج 8 مارچ ہے، انٹرنیشنل وویمن ڈے کے موقع پر۔ آج خواتین کو بااختیار بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ سب سے پہلے تو میں کہوں گی کہ اگر مین ڈے نہیں منایا جاتا تو وویمن ڈے کیوں؟ ہم عید منانے یا سوگ منانے کی طرح اگر وویمن ڈے منانے پہ مجبور ہیں تو ضرور کچھ ہوگا۔ ہر روز اپنے وجود کا احساس دلانے والی ماں، بہن، بیٹی و بہو کا ایک دن کیلئے خیال کیوں؟ آج پھر خواتین کی نام نہاد تنظیمیں حقوق نسواں کی بات کریں گی۔ فائیو سٹار، سیون سٹار ہوٹلز میں سیمینار ہوں گے۔ لمبی و متاثر کن تقریر ہوں گی۔
ڈاکو مینٹریز چلیں گی رنگارنگ تقریبات پہ لاکھوں روپیہ ہوا میں اڑ جائے گا۔ پھر کیا نتیجہ 00/100 یعنی جن خواتین کو استحصالی نظام بھگتنا پڑ رہا ہے وویمن ڈے کے اختتام کے بعد بھی بھگتتی رہیں گی۔ بھکارن، بھکارن اور خانہ بدوش، خانہ بدوش ہی رہے گی۔ جن وڈیروں کے گھر میں خدمتگار عورت خدمت خاص پر مامور ہونے پر مجبور ہے۔ جن عورتوں کو اپنے شوہروں سے قانونی و شرعی متعین حقوق کو خفیہ آشنائوں کی جھولیوں میں ڈالتے دیکھ کر ظلم کی چکی میں پس کر مرمر کے جینا پڑتا ہے۔ جن عورتوں کو اپنی تعلیم و روزگارکے سلسلے عورت ہونے کے جرم میں بند کرنا پڑتے ہیں۔ آج کا وویمن ڈے ان کا رونا دھونا تو بیان کرے گا لیکن انہیں بااختیار نہ بنا سکے گا۔ عورت پائوں کی جوتی ہے۔ دھول ہے، باندی ہے۔ محض بچے پیدا کرنے و پالنے کا کل پرزہ ہے۔ محتاج ہے، مرد کی راحت ہے، عقل ناقص ہے، روح سے عاری ہے کیا کیا نہیں ہے جو اس معاشرے کے نظام کی تھیم آف وویمن ہے جو عورت کو محکوم و مجبور بنانے میں کارخیر انجام دے رہی ہے۔ آج خاندانی جاہ و حشمت اور صاحب حیثیت عورت کو اختیار کی نہیں بلکہ ملک کی بانوے فیصد عام عورت کے اختیار کی بات کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر محض بات ہی کیوں؟ ہمیں عورت کو باعزت و باوقار طور سے جینے کی سبیل دینا ہے۔
معاشرے میں عورت کے مقام کی داستان غم صدیوں پرانی ہے اور یہ مشرق و مغرب ہر سوتقدیس نسواں کے سوال کا جواب ٹریجک ہی ملا۔ جرمن کرسٹینا چارلی نے کہا کہ میں نے Feminism پر جو کام کیا اس سے میں نے یہی سیکھا کہ مغرب میں عورت کی آزادی نے عورت کوغیر محفوظ کیا۔ مشرق کی حوّاکی بیٹی سوچنے پر مجبور ہے کہ چادر اور چار دیواری کے تصور سے عورت کی ذہانت و صلاحیت کو زنداں میں ڈال کر عورت کے آگے بڑھ کر سبقت لیجانے کے خوف کو مٹایا گیا۔ ایسی صورتحال میں کیوں نہ پھر ہم ایسا کریں کہ عورت کو اتنا اختیار دے دیں کہ وہ اپنی حفاظت اور اپنی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کی ذمہ داری اٹھا لے یعنی اسے اس کے سپرد کر دیں مگر کیسے؟ کہ اس کے ساتھی مرد یہ ماننے کو تیار نہیں کہ وہ کمزور و حقیر ہیں بلکہ انہی کی طرح کی اشرف المخلوقات ہے، انسان ہے۔ ہم جب عورت کو بااختیار کرنے بات کرتے ہیں تو اسکا ہرگز ہرگز مطلب مرد سے مقابلہ کرنا یا مرد کے خلاف اعلان جنگ کرنا نہیں۔ اگر ٹھنڈے دل سے سوچیں تو تقدیس عورت کی معاشرتی نہج پر بحالی کی جنگ ہر اس مرد کی اپنی جنگ ہے جو بیٹی رکھتا ہے۔ اگر ہر مرد کسی دوسرے کی بیٹی جسے وہ اپنے گھر بیاہ کے لاتا ہے۔ اس کے حقوق و اسکا احترام دے دے تو ہر عورت اپنے حقوق کی بحالی کی اور اپنے وقار کی جنگ جیت سکتی ہے مگر کیا کریں کہ ہمارے مرد عورت کی بحالی عزت کی جنگ میں عمومی طور پر عورت سے باطنی رہتا ہے۔ بلکہ یوں کہئے کہ یہ بیشتر مرد لوگ اپنی بہن و بیٹی کیلئے جو سوچ رکھتے ہیں وہ کسی دوسرے کی بیٹی و بہن کیلئے نہیں رکھتے اور مرد کے اس دہرے معیار سے عورت کا عورت کے ساتھ تصادم بھی فطری امر بن جاتا ہے۔ مرد ہمارا کہیں نہ کہیں غلطی پر ضرور ہے اگر عورت کو اپنی تقدیس نسوانیت کی حفاظت کے لئے خود ہی میدان عمل میں آنے کی ضرورت پڑ رہی ہے تو مرد سے کوئی لاپروائی یاخود غرضی ضرور ہوئی ہے کہ یہ بات جو مانی گئی تھی کہ نسوانیت زن کا نگہبان ہے فقط مرد کے ہاں سچ ہے تقدیس نسواں کی بات کرنے پر مجبور عورت کو یہ احساس ہو گیا کہ ہمارے مرد سے عورت کے شیشے کے سے دل، کانچ کی سی ناموس، سچے موتی جیسے خالص جذبوں اور وفا کے میٹھے شیرے میں گوندھی محبتوں کی حفاظت نہ ہوسکی۔ ایسے میں عورت اپناپن مرد کو کیوں سونپے…
سو بار حکیموں سے اسکو سلجھایا
مگر یہ مسئلہ زن رہا وہیں کا وہیں
قصور زن کا نہیں کچھ ہے اس خرابی میں
اسکی شرافت کے شاہد ہیں مہ و پریں
فساد کا ہے فرنگی معاشرت میں ظہور
کہ مرد سادہ ہے بیچارہ زن شناس نہیں
مشرقی عورت کی تقدیس کے عظیم پروموٹر اقبالؒ بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ مرد زن شناسی کے ہنر سے واقف ہے۔ معاشرتی فساد و بگاڑ میں بڑا حصہ دار ہے۔ اور اگرعورت کو معاشرے میں، خاندان میں اسکا اسے مقام یا وقار نہ مل سکا تو عورت بے قصور و معصوم ہے۔ یہ درست ہے کہ عورت ماں ہے، بہن ہے بیٹی ہے اور مرد ان رشتوں میں عورت کو نگاہ احترام سے دیکھتا ہے مگر ذرا سوچئے کہ یہ احترام جو مرد اپنی بہن، بیٹی یا بہن کو دے رہا ہے کیا یہ ہی ’’عورت‘‘ کا احترام ہے۔ میری نظر میں یہ احترام عورت کا نہیں بلکہ رشتے کا احترام ہے اور اصل مرد جسے ہم نگہبان سمجھتے ہیں وہی ہے جو اپنے رشتے کی چوکھٹ سے باہر پائوں رکھتے ہی ملنے والی ہر عورت کو احترام دے کہ ہم سے اسکا ناطہ نہیں اور یہ ہی فلسفہ اپنی تقدیس اور اپنے وقار کے حصول کیلئے زندگی کی جہد مسلسل میں 8 مارچ منانے والی عورت کا ہے کہ وہ شمع محفل نہیں، بکائو مال نہیں، لونڈی و باندی نہیں بلکہ احترام آدمیت کے تمام درجوں کی حقدار ہے۔ تو اے مرد اپنی عورت کی نگہبانی کا فرض پر خلوص ہوکر نبھاہ کہ تیری نسل کی نگہبانی وہ کرے گی۔ تیرا چمن کہ جسکا مالی تو ہی ہے۔ اس چمن کو یہ مہکائے رکھے گی۔ مرد آزاد نہیں جسطرح عورت آزاد نہیں ہو سکتی کہ ہر دو اپنی اپنی ذمہ داریوں کے نبھانے کے پابند ہیں کہ تم میں سے ہر کوئی اک دوسرے کی تکمیل ہے۔ شرم عورت کا زیور ہے تو مرد کی زینت ہے۔ دونوں حیاء میں رہیں تو معاشرتی پاکیزگی پروان چڑھتی ہے۔ پروفیسر فرخ ملہی نے کہا کہ عورت کے اختیار کی حد ہے مگر میڈم مرد کے اختیار کی بھی حد ہے۔ مرد اپنی مردانگی و فطری تن آوری سے عورت پر ظلم کی حاکمیت قائم کرنے کا اختیار نہیں رکھتا تو عورت کو ظالم حاکمیت والے حقوق پہ ڈاکہ زنی کے خلاف آواز بلند کرنے کا لامحدود اختیار و حق ہونا چاہئے۔ جب قرآن میں دونوں کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیکر دونوں کی تقدیس کی اہمیت مساوی و برابری قرار دے دی تو یہ تقدیس کا مسئلہ صرف عورت ہی کا کیوں؟ کیونکہ وہ ایک عورت ہے محض ایک عورت، یہ صرف زمانہ سمجھتا ہے۔ مسلمان ہیں تو اپنے دین کی تعلیمات کی طرف پلٹ کے دیکھو!