عالمی یوم خواتین صرف 8مارچ کیوں؟

عالمی یوم خواتین صرف 8مارچ کیوں؟

کون نہیں جانتا کہ 8مارچ کا دن خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن یقیناً عورتوں کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ انکے حقوق کی بلکہ حق تلفی کی بات کی جاتی ہے لیکن سال کے 365 دنوں میں محض ایک خاص ’’دن‘‘ منانے کی وجہ ہمیں سمجھ نہیں آتی بمشکل اتنی توجیہہ ذہن میں آتی ہے کہ چونکہ معاشرہ پورا سال اس ایک مخصوص ’’دن‘‘ کی اصل روح اور اس کے اغراض و مقاصد کے سراسر خلاف سرگرمیوں میں مصروف رہتا ہے اس لئے جب ضمیر پر بوجھ ناقابل برداشت ہو جاتا ہے تو ذاتی تسکین و تسلی کے لئے جلدی جلدی ایک ’’دن‘‘ منا لیا جاتا ہے گرم گرم چائے کی چسکیوں کی تال پر دھواں دھار باتیں کرکے اور ’’دن‘‘ کے حوالے سے انتہائی پیچیدہ مسائل کو عمدہ الفاظ کی جادوگری میں لپیٹ کر ایک دوسرے کے سامنے پلیٹوں میں رکھنے سے اگر عملی طور پر اپنی اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے کی کوئی سبیل نکل سکتی ہوتی تو اور ہمیں کیا چاہئے تھا؟ مگر اصل معاملہ اسکے بالکل الٹ ہے کردار کا غازی بننا ایک مشکل امر ہے۔ ذاتی طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ متبرک مذہبی دنوں اور اہم قومی ایام منانے کے علاوہ باقی کوئی بھی ’’دن‘‘ منانے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے مثلاً حقوق انسان، حقوق نسواں، یوم محبت، یوم صفائی، ہفتہ خوش اخلاقی وغیرہ… سوچنا یہ ہے کہ اگر یہ تمام ’’دن‘‘ انسانوں ہی نے انسانوں کیخلاف یا انکے حق میں منانے ہیں تو پھر محض ایک ’’دن‘‘ یا چند گھنٹوں کی تخصیص کیوں؟ کیا خواتین انسان نہیں ہیں کہ ان کا ’’دن‘‘ حقوق انساں سے الگ کرکے منایا جاتا ہے انہیں محض ایک دن الاٹ کر دیا جائے کہ اسی میں رو دھو لو محبت اور انسانیت کا اتنا ہی کال پڑ گیا ہے کہ انکی پوری زندگی ہی زندگی میں سے نفی در نفی ہوتی ہوئی محض ایک ’’دن‘‘ منانے تک آٹھہری ہے؟ اسی طرح سال بھر گندگی سے سمجھوتہ کرکے صرف ایک ہفتہ صفائی کا منا کر ہم کس کو دھوکہ دیتے ہیں؟ سال بھر خنجر بدست رہ کر اور چاروں طرف قتل و غارت کرنے اور دہشت گردی پھیلا کر خوش اخلاقی کے اظہار کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟ ان حالات کے پس منظر میں خواتین کا عالمی دن منانے کے حوالے سے بھی ہمارے عنوان میں لفظ ’’کیوں‘‘ دو معنوں میں استعمال ہوا ہے ایک ’’کیوں‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ کیا درجنوں سالوں سے محض ایک ’’دن‘‘ منانے کی وجہ سے خواتین کو انکے حقوق مل گئے ہیں؟ اگر مل گئے ہیں تو پھر یہ ’’دن‘‘ کیوں منایا جاتا ہے؟ اور اگر ایسے ہزاروں ’’دن‘‘ منانے کے باوجود بھی ان کو انکے حقوق نہیں مل سکے یا نہیں مل سکتے تو تب بھی یہ ’’دن‘‘ منانے کا کیا فائدہ ہے؟ خواتین اس ’’دن‘‘ یقیناً اپنے حقوق کی بات کرتی ہیں اور کہہ نہیں سکتیں لیکن کیا مرد حضرات خود یہ نہیں جانتے کہ انہوں نے خواتین کو انصاف، ہر سطح پر احساس مساوات اور حقوق دینے کی ابتدا ذاتی طور پر اپنے گھر سے کرنی ہے ۔ دیکھا جائے تو دراصل مرد ہی معاشرے کی مضبوط ترین، حتمی اور بنیادی اکائی ہے اگر وہ درست ہے اور راہ راست پر ہے تو خواتین کی حق تلفیوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس لئے کہ عورت کے چاروں مقدس رشتے اسی کیساتھ منسلک ہیں اس حوالے سے ہمارے خیال میں لمحہ موجود میں مرد کے ہر ظلم اور استحصال کا واحد توڑ خواتین کی تعلیم ہے اگر وہ تعلیم یافتہ ہوں اپنے حقوق سے آگاہ ہوں تو خود ہی مرد سے بلکہ مردانہ معاشرے سے اپنے حقوق چھین لیں گی ملک بھر میں صرف پندرہ فیصد پڑھی لکھی خواتین پچاس فیصد ان پڑھ اور حقوق سے ناآشنا بہنوں کے حقوق کس طرح مردوں سے حاصل کر سکتی ہیں؟ گائوں دیہاتوں کی عورت کو جا کر دیکھا جائے تو حالات مزید ناقابل برداشت ہیں وہ گایوں بکریوں کیساتھ کھولیوں میں بندھی ہوئی ہیں انہیں اپنے حقوق کا تو کیا ادراک ہو گا انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ دن کس وقت چڑھا اور سورج کب ڈوب گیا۔ بیک وقت ذہنی، نفسیاتی، جذباتی اور جسمانی مار کھانے والی درجنوں بچوں کی ماں اور درجنوں جانوروں کی رکھوالی کرنے والی عورت جب کبھی نیند کے نام پر تھک کر بے ہوش ہوتی ہے تو وہاں کا مرد کبھی یہ نہیں سوچتا کہ اسکے بھی کچھ حقوق ہیں یا یہ کہ کم از کم وہ انسان ضرور ہے جبکہ اپنے لئے وہ اتنا سمجھدار ہے کہ کس طرح پورا دن چارپائی پر بیٹھ کر عورت پر حکم چلائے بہرحال اس تمام تر وحشت کا حل یہی ہے کہ حکومت عورتوں میں تعلیم عام کرنے کیلئے گلی گلی سکول کھولے تاکہ عورت کو خود آگاہی نصیب ہو ورنہ بڑے بڑے ائر کنڈیشنڈ ہالوں میں یا سبزہ زاروں میں تقاریر کرنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا کیونکہ جن کے سامنے یہ باتیں کی جاتی ہیں وہ تو پہلے ہی اپنے حقوق سے آگاہ ہوتی ہیں اور استحصال سے واقف ہوتی ہیں جبکہ ایسی محفلوں میں شریک مرد حضرات بھی ازخود عورتوں کی حقوق تلفی کرنے میں پی ایچ ڈی ہوتے ہیں ان سب کو یہ سب کچھ بتانا، سنانا یا جتانا کس کام کا؟ یہ سب کچھ تو ان مظلوم خواتین کو بتانا ہے جو صحت، عزت نفس، نیکی بدی اور استحصال کے بارے میں کچھ نہیں جانتیں بلکہ ظلم کی وجہ سے مکمل اندھیروں میں ہیں جن کو ہر اعتبار سے کچلا جاتا ہے۔
چند سال پہلے کا واقعہ ہے راولپنڈی نیشنل سنٹر میں یہی دن منایا گیا اپنی تمام بہنوں کے ساتھ ہم نے بھی دھواں دھار تقریر کی۔ گھروں میں عورتوں کے پراسرار استحصال اور حقوق تلفی کی بات کی لیکن صبح جب اخبار میں اپنی تقریر دیکھنا چاہی تو ساتھ ہی زنیب نور کی خبر چھپی تھی جس کو اسکے حافظ قرآن شوہر نے بجلی کے جھٹکے لگا لگا کر جلا ڈالا تھا۔ ڈھوک کھبہ کے ایک باپ کی خبر تھی جس نے اپنی نوخیز بیٹی کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا۔ نواب پور کے بھرے بازار میں وڈیروں کے ہاتھوں مظلوم عورتوں کے بے حجاب ناچ کی خبر تھی جبکہ مٹی کا تیل چھڑک کر جلانے، گینگ ریپ، عدالت میں خلع کا فیصلہ لینے کیلئے آنیوالی بی بی کے ہاتھ پائوں توڑنے اور شوہر کے طلاق کے تین الفاظ بھاری داموں بیچنے کی خبریں درج تھیں شکر ہے وہ ہزاروں خبریں درج نہ تھیں جو پریس میڈیا کو جاری نہیں کی گئی تھیں اور گھروں کے اندر دفن تھیں۔ وہ دن جاتا ہے اور آج کا آتا ہے ہم نے طے کر لیا ہے کہ بہنوں کے حقوق کی خاطر جو کچھ ہو سکے عملی طور پر کیا جائے اور یہی درخواست حکومت سے بھی ہے کہ وہ ممکن حد تک عورتوں کے حقوق کا خود خیال رکھے۔ انکی فلاح و بہبود کیلئے ترجیحی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات کرے۔ خاص طور پر دیہات میں خواتین کی اسی فیصد آبادی کو تعلیم، صحت اور انصاف کی سہولتیں ان کی دہلیز تک پہنچائے۔ یاد رکھئے آپ ملک کی نصف آبادی کو عضو معطل رکھ کر قوم کو ترقی یافتہ نہیں بنا سکتے۔ یہ کام محض دن منانے یا محض زبانی کلامی کارروائیوں کو صرف کاغذوں میں درج کر دینے سے ہر گز نہیں ہو گا اس کیلئے عملی طور پر کچھ کرنا ہو گا۔ اور کچھ کر گزرنے کیلئے کبھی دیر نہیں ہوا کرتی۔ ہم سمجھتے ہیں اگر پاکستانی خواتین کو صرف انکے مذہب کی جانب سے ہی عطا کردہ حقوق مل جائیں تو ان کو پوری دنیا کے ساتھ مل کر خواتین کے حقوق کا دن منانا پڑے گا بلکہ دنیا بھر کی خواتین ہم مسلمان خواتین جیسے حقوق حاصل کرنے کیلئے کوشش کا دن منایا کریں گی۔