صنفی تفریق… اربوں کا خسارہ

کالم نگار  |  آئمہ محمود
صنفی تفریق… اربوں کا خسارہ

کئی دہائیوںکی مسافت اور انتھک جدوجہد کے ثمرات و ناکامیوں کی آگاہی اور نئے ارادوں کی تکمیل کے عہد کے ساتھ دنیا بھر کی خواتین مختلف تقریبات و اجتماعات منعقد کر کے 8مارچ کو اپنے عالمی دن کے طور پر جوش وخروش سے مناتی ہیں تووہیں لاکھوں خواتین کیلئے یہ تاریخ محض ایک اور مشقت بھرے دن کے علاوہ کچھ نہیں ہوتی ۔صنفی تفریق کا خاتمہ ہمیشہ سے عورتوں کی تحریکوں کابنیادی نقطہ رہا ہے ۔دنیا کے اکثریتی ملکوں میں رنگ، نسل، زبان، علاقے یا جنس کی بنیاد پر کئے جانیوالے امتیازی رویوں کی روک تھام کیلئے قوانین موجود ہیں لیکن عملی طور پر ہم ایک متعصب دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں لوگ ذات پات رنگ نسل اور طبقے کی بنیادپر بھید بھائو کا شکار ہیں اور عورتیں ان تعصبات کا سب سے بڑا نشانہ ہیں۔ صنفی تفریق کافی پیچیدہ معاملہ ہے کیونکہ یہ مرد اور عورت کے اس کردار وافکار کو زیر بحث لاتا ہے جو زمانوں سے رائج الوقت ہیں اور جن کی تبدیلی سے ہی صنفی تفریق کو کم اور بالآخر ختم کیا جا سکتا ہے۔ مرد اور عورت کے درمیا ن برابری کا معیار مختلف ممالک میں مختلف ہے۔ سیکنڈے نیوین ممالک کا ریکارڈاس حوالے سے سب سے بہترین ہے۔ بدترین صورتحال اسلامی ممالک کی ہے۔ اگر جنوبی ایشیاء پر نظر ڈالی جائے تو آج تک تعلیم، ملازمت، صحت،شادی بیاہ اور خاندانی فیصلوں میں عورتوں کی رائے اہمیت نہیں رکھتی ۔مزید برآں عورتوں کیخلاف تشدد کی شرح بھی دن بدن بڑھ رہی ہے۔ انہیں صنف نازک اور کم عقل گردانا جاتا ہے لیکن اسکے باوجود خاندان ومعاشرے کے اخلاق وعزت کی ذمہ داری بھی انہی کے نازک کندھوں پر ڈال دی جاتی ہے ۔مرد حضرات اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ عورتیں خاندان کی عزت کو سنبھالے ہوئے ہیں یا نہیں یہی وجہ ہے کہ کئی مرتبہ عورتوں کواس ذمہ داری کو صحیح طور پر نہ نبھانے پر جان سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے پا کستان میں سالانہ 5ہزار عورتوں کو گھریلو تشدد اور عزت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے اور قاتل آنر کلنگ کا تمغہ سینے پر سجا کے با عزت بری ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں ہر تین میں سے ایک عورت کم از کم ایک بار ضرورت تشدد کا شکار ہوتی ہے ملک کی معاشی صورتحال کی ابتری کی وجہ سے 60فیصد آبادی غربت کی لائن سے نیچے رہ رہی ہے۔ دو وقت کی روٹی کے حصول کیلئے عورتوں کی بڑی تعداد گھر یا گھر سے باہر کام کرنے پر مجبور ہے تقریباً 80 فیصد عورتیں غیررسمی شعبے میں انتہائی نامساعدحالات میں معمولی اجرتوں پر کام کر رہی ہیں ۔عورتیں مردوں کے مقابلے میں دوگنا کام کرتی ہیں ،بچوں اور خاندان کی دیکھ بھال میں بھی وہ مردوں سے چارگنازیادہ محنت کرتی ہیں لیکن اس کام کی نہ تو پہچان ہے اور نہ ہی اس کا اعتراف کیا جاتا ہے۔یوں تو غریب ممالک کے مرد بھی غربت وافلاس کا شکار ہیں لیکن عورتیں پوری دنیا کے مجموعی غریب طبقے کا 60فی صدہیں ۔عورتوں کو مردوں کے مقا بلے میں 20سے 40 فیصد کم اجرت ملتی ہے۔ یہاں ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی ملک اپنی آدھی آبادی کے ساتھ ناانصافی کر کے خوشحالی حاصل نہیں کر سکتا ،ایک مردکی افلاس ایک فرد کی افلاس ہے لیکن ایک عورت کی غربت ایک خاندان کی غربت اور لاچارگی ہو تی ہے ۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی ایک سٹڈی سے ظاہر ہوتا ہے کہ صنفی تفریق سے صرف عورتوں کی لاچاری میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ یہ کاروباراور معاشرے کی مجموعی معاشی ترقی کو بھی زد پہنچاتی ہے ۔ایکشن ایڈ کی ایک سٹڈی کیمطابق اگر عورتوں کو گھر اور گھر سے باہر منصفانہ بنیادوں پر معاوضہ دیا جائے تو دنیا بھر کی معیشت کو1.6ٹریلین ڈالر زکا فائدہ ہو سکتا ہے۔اسی طرح اگر غریب ممالک کی عورتوں کو تعلیم ،ملازمت اور ترقی کے مواقع تک مساوی رسائی حاصل ہو تو ان معاشروں کو 9ٹریلین ڈ الر زکا فائدہ ہو سکتا ہے ۔یہ سٹڈی مزید یہ واضح کرتی ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی خواتین ا گر مردوںکے برابر جاب مارکیٹ میں شمولیت حاصل کریں تو ان ممالک کی عورتیں 6ٹریلین ڈالرز اضافی آمد نی کما سکتی ہیں ۔ منڈیوں تک رسائی میں صنفی تفریق ختم ہو جائے تو غریب ملکوں کی آمدن میں 9ٹریلین کا اضافہ ہو سکتا ہے ۔گویا عورتوں کیلئے برابر مواقعے کا مطلب سب کی ترقی ہے۔ یہ تمام حساب کتاب ترقی پذیر ممالک کے مردوں و عورتوں کی اوسطاً آمدن کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ اس میں عورتوں کے گھریلو کام کاج اور ان ذمہ داریوں کی قدروقیمت کو شامل نہیں کیا گیا جو وہ خاندان اور بچوںکی دیکھ بھال کیلئے سرانجام دیتی ہیں۔ اکثریتی ترقی پذیر ممالک کی معاشی پالیسیاں ایسی ہیں جوخواتین کو سستے مزدور کی حیثیت سے استعمال کرتی ہیں مثلاً فری ٹریڈ زون ملکی لیبر قوانین سے مستثنیٰ ہوتے ہیں وہاں مزدور عورتوں کی اکثریت عارضی دیہاڑی دار اور سیزنل کام کرتی ہیں اور ان کی اجرت مستقل ملازمین کے مقابلے میں بے حد کم ہوتی ہیں اور انہیں ملازمت کا تحفظ ، تنظیم سازی اور میٹرنٹی لیوز وغیرہ کا حق حاصل نہیں ہوتا ۔ جب مزدوروں کی چھانٹی کرنی ہو تو اس کا پہلا ہدف عورتیں ہوتی ہیں۔ 2009ء میں کمبوڈیا کی گارمنٹ فیکٹریوں میں38ہزار عورتوں کو نوکریوں سے برطرف کردیا گیا تھا ۔ 143ممالک میں سے 90 فیصد ممالک ایسے ہیں جہاں قوانین کے ذریعے عورتوں کی معاشی برابری کو نا ممکن بنادیا گیا ہے۔ ۔ افراط زر اور بجٹ خسارے کو کم کرنے کیلئے حکومتیں بنیادی سروسز مثلاً صحت ، تعلیم وغیرہ کے بجٹ میں کٹوتی کرتی ہیں جس سے سب سے زیادہ عورتوں کی صورتحال کو دھکا لگتا ہے۔ ابھی تک خواتین اپنے اندر ایک طبقہ ہونے کا احساس پروان نہیں چڑھا سکیں۔ معاشرے کی ترقی اس سچائی کو تسلیم کرنے میں ہے کہ صنفی تفریق۔ اربوں کا خسارہ ہے اور خواتین کے حقوق کے تحفظ میں ہی سب کی ترقی ہے۔