سینٹ الیکشن۔ خس کم جہاں پاک؟

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
سینٹ الیکشن۔ خس کم جہاں پاک؟

پاکستان کے ایوان بالا سینٹ کے انتخابات ہمیشہ ایک مرحلے میں ہوتے آئے ہیں۔ اب مسلم لیگ (ن) کے غلط وقت پر صحیح فیصلے کی وجہ سے دو مراحل میں ہونگے۔ ایک مرحلہ مکمل ہو گیا۔ دوسرے مرحلے کی تکمیل عدالتی فیصلے پر منحصر ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے 4 اور 5مارچ کی درمیانی رات ڈھلتے ہی یعنی ساڑھے بارہ بجے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے فاٹا کے ارکان اسمبلی کا 4سنیٹرز کے انتخاب کا حق ایک سنیٹرکو منتخب کرنے تک محدود کر دیا۔ اس آرڈیننس کی رو سے چاروں صوبوں اور مرکز کی طرح فاٹا کے ارکان قومی اسمبلی گروپوں کی صورت میں سنیٹرز کا انتخاب کرینگے۔ حکومت آرڈیننس جاری کرکے سو گئی۔ الیکشن کمیشن سے مشورہ یا اسے آگاہ کیا ہوتا تو اسکے پاس آرڈیننس کو سمجھنے کا موقع ہوتا اور حکومت مخالف ارکان کے واویلے کے باوجود ووٹنگ ہو جاتی ۔ پولنگ کے آغاز پر الیکشن کمیشن کے اہلکاروں کے سامنے ووٹر اور آرڈیننس ایک ہی وقت میں آئے تو ابہام کی فضا میں الیکشن کمیشن کے کارندے سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ یوںالیکشن کمیشن کے پاس التوا کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ حکومت کے حمایت یافتہ ارکان اسمبلی کے گروپ نے الیکشن کمیشن کو آرڈیننس کبمطابق ووٹنگ پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تو دوسرا گروپ آرڈیننس کیخلاف اسلام آباد ہائی کورٹ چلا گیا۔
سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کی رائے ہے کہ ہائیکورٹ نے آرڈیننس کیخلاف فیصلہ دیا تو نواز شریف کو حکومت سے الگ ہوناپڑ سکتا ہے۔ کنور صاحب کی رائے درست ہے لیکن ایسے فیصلے کا امکان نہیں ہے۔ آرڈیننس جنرل مشرف کے غلط اقدام کو درست کرنے کیلئے جاری کیا گیا گو کہ اس کی ٹائمنگ غلط تھی۔ مشرف نے اُن دنوں اپنے مفاد کیلئے یہ قدم اٹھایا تھا تو نواز حکومت نے وہی کچھ آج اپنے مفاد کیلئے کر لیا۔ فاٹا میں مسلم لیگ (ن) کے تین ایم این اے ہیں۔ آرڈیننس کے بعد بارہ میں سے یہ تین مل کر سینٹ کی ایک سیٹ اپنی پارٹی کے دامن میں ڈال دینگے۔ نواز لیگ کو فاٹا سے ایک سنیٹر منتخب کرانے کیلئے رات کے اندھیرے میں آرڈیننس جاری کرنے کے طعنے سننے پڑے۔ اس سے نون لیگ کی بدنامی ہوئی اور اسکی نیت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ حکومت نے فیصلہ شاید اس لئے کیا کہ کسی کو سپریم کورٹ میں یہ آرڈیننس چیلنج کرنے کا موقع ہی نہ ملے۔ ہمارے ہاں پارٹیاں ایک ایک سنیٹر کی کامیابی کیلئے جان مارتی اور مختلف قسم کے ہتھکنڈے و حربے استعمال کرتی ہیں۔ اصول اور بے اصولی میں فرق ختم ہو کے رہ گیا ہے۔ اسکے ساتھ ہی ’’لارڈز‘‘ کی عزت، تکریم اور احترام بھی۔ سینٹ الیکشن سے قبل ہارس ٹریڈنگ کا جو شور تھا گو نتائج سے اس طرح کی ہارس ٹریڈنگ ظاہر و ثابت نہیں ہوئی مگر پھر بھی سب اچھا نہیں تھا۔ فاٹا کے الیکشن میں ابھی گند مچنا باقی ہے یہاں سب سے زیادہ بولیاں لگتی ہیں۔ پنجاب اور بلوچستان میں لوٹا کریسی دیکھی گئی۔ ندیم افضل چن مسلم لیگ ن کے بارہ ووٹ لے اڑے۔ ن لیگ کے 15ارکان نے اپنے ووٹ مسترد کرکے غصہ نکالا۔ ووٹ ضمیر کی آواز ہوتا ہے مگر اٹھارہویں ترمیم کے بعد ارکان اسمبلی کے ضمیر کی آواز دبا دی گئی ہے۔ ٹکٹ کے حصول کے وقت امیدوار اپنا ضمیر پارٹی قائد کے قدموں میں رکھ دیتا ہے ۔اس وقت زندگی کی آخری خواہش ٹکٹ کا حصول ہوتا ہے۔ کامیابی کے بعد آئین کی رو سے ضمیر کو سلائے رکھنا آئین کا تقاضا بنا دیا گیا ہے۔ اگر کسی کا ضمیر زیادہ گدگداتا ہے تو سیٹ چھوڑ کر آزاد حیثیت سے ایوان میں آجائے ۔ ن لیگ کے امیدواروں نے پنجاب اور بلوچستان میں اپنی پارٹی سے غداری کی اور اسکے اوپر بے غیرتی یہ کہ اپنے آپ کو ظاہر بھی نہیں کیا۔ بلوچستان سے جان جمالی نے لگی لپٹی رکھے بغیر اپنی پارٹی پالیسی کی مخالفت کی ان کا کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرنا انکی جرأت کا اظہار تو ہے مگر یہ بھی بے اصولی ہے جس پارٹی نے ٹکٹ دیا، سپیکر کا عہدہ دے کر احترام دیا اس سے اختلاف تھا تو پارٹی اور عہدہ چھوڑ دیتے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کے ہاتھ کلثوم پروین کو ٹکٹ دے کر کیا آیاجو 6سال ق لیگ ،اگلے 6 سال بی این پی کے ٹکٹ پر سنیٹر رہیں۔ کلثوم پروین کو ن لیگ نے ٹکٹ نہ دیا ہوتا تو مسلم لیگ ن شرمندہ اور اس کی قیادت برہم ہونے کے بجائے نتائج پر مطمئن ہوتی۔ ن لیگ نے سعد رفیق کو کوئٹہ بھجوا کر معاملات کو اپنی دانست میں راہ پر لانے کی کوشش کی۔ثنا ء اللہ زہری بھی انکے ساتھ جڑے رہے مگر جوڑ توڑ سرے نہ چڑھ سکا۔ سعد رفیق کو مولانا فضل الرحمن کو رام کرنے کیلئے بھی بھجوا دیا گیا مگر خواجہ سعد رفیق مولانا کو اپنا مدعا سمجھا سکے نہ 22ویں ترمیم پر ان کو منا سکے اور نہ ہی ان کو ساتھ ملا سکے۔ خواجہ سعد رفیق اپنی وزارت کے حوالے سے کام سے کام رکھیں تو بہتر ہے۔ جوڑ توڑ انکے بس کی بات نہیں۔یہ ڈانگ سوٹے کے مردِ مجاہد ہیں جن کو دانشوری پر لگا دیا گیا ہے۔
سینٹ الیکشن کے حوالے سے یہ کہا جائے کہ خس کم جہاں پاک ہو گیا تو درست نہیں ہو گا ۔ ابھی سینٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کا مرحلہ باقی ہے۔ اس میں بھی تماشا لگے گا جس کیلئے مسلم لیگ ن سیاسی اخلاقیات کا حسب روایت جنازہ نکالنے پر تلی ہوئی ہے۔ چھانگا مانگا کلچر مسلم لیگ ن نے متعارف کرا کے ہارس ٹریڈنگ کو جدت بخشی، اسکے بعد پھر چل سو چل ہے۔ چیئرمین سینٹ کیلئے پیپلز پارٹی کے پاس اتحادیوں کو ملا کر نمبر پورے ہیں مگر مسلم لیگ پی پی پی کی دال نہیں گلنے دیگی۔ ماضی کا یہی تجربہ ہے۔ کروڑوں لگا کر سینٹ میں آنیوالے حکمران پارٹی کو سپورٹ کرکے ہی اپنے پیسے پورے کر سکتے ہیں۔ مسلم لیگ ن ان کو اپنی بانہوں میں لینے کیلئے آمادہ ہی نہیں بے تاب بھی ہے۔
سندھ کے رہائشی پنجاب کے کوٹہ سے سینٹ کی نشست پر دھمال ڈالنے والے مشاہداللہ اب خوش قسمتی یا بدقسمتی سے وفاقی وزیر بھی ہیں انہوں نے حکومتی عزائم کا اظہار یوں فرما دیا ہے کہ پرانے اتحاد الیکشن تک تھے، اب نئے اتحاد بنیں گے، جوڑ توڑ ہو گا۔ کہاں گئی جمہوریت اور جمہوری اقدار۔ عام آدمی کو بھی معلوم ہے کہ حکومت کس طرح جوڑ توڑ کرکے کامیابی حاصل کرتی ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کے نزدیک جوڑ توڑ ہی جمہوریت کا حُسن ہے۔
سینٹ الیکشن کے پہلے قدم کیساتھ ہی ہمارے ہاں خرید و فروخت شروع ہو جاتی ہے جو سینٹ کے الیکشن اور بعد ازاں چیئرمین اور ڈپٹی چیئر مین کے انتخاب تک چلتی ہے۔ اس کا مکمل حل ایک ہی ہے جمہوریت کیساتھ اخلاصیت اور نیتوں میں شفافیت۔ آپ اوپن ووٹنگ کرا لیں یا براہ راست سینٹ کے الیکشن کا فارمولا طے کر لیں اسکے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آسکتے۔ جمہوریت کا حال تماش بینوں کے ہتھے چڑھی طوائف جیسا ہی رہے گا۔ اگر سینٹ کے الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ روکنی ہے تو براہِ راست انتخابات یا اوپن ووٹنگ کی ضرورت نہیں۔ اٹھارہویں ترمیم ضمیرکے برعکس پارٹی لیڈر کی خواہش پر ووٹ کیلئے پابند کرتی ہے۔ اس ترمیم کی موجودگی میں بہتر ہے پارٹی رہنما خواتین کی خصوصی نشستوں کی طرز پر سنیٹر بھی تعینات کر دیا کریں۔اس کیلئے ترمیم کی ضرورت ہوگی مگر کوئی بھی اسکی مخالفت نہیں کریگا۔