خواتین کے حقوق اور ہمارا معاشرہ

کالم نگار  |  قاضی حسین احمد
خواتین کے حقوق اور ہمارا معاشرہ

پاکستانی خواتین کو مکمل طور پر قومی دھارے میں شامل کرنا اس دور میں قومی ترقی کے لیے ایک حقیقی ضرورت ہے۔ یہ امر واقعہ ہے کہ پاکستانی خواتین مردوں کے مقابلے میں پسماندہ ہیں اور ان کی پسماندگی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مر د خود ہر لحاظ سے پسماندہ ہیں۔ خواتین کا سب سے بڑا مسئلہ ان کی تعلیم سے محرومی ہے۔ بد قسمتی سے خواتین کو پسماندہ رکھنے میں وہ غیر اسلامی رسم و رواج ذریعہ ہیں جسے کچھ لوگوں نے دین اسلام کا حصہ سمجھ رکھاہے۔ تعلیم سے محروم رکھنا اور حق و وراثت سے محروم رکھنے کاکوئی شرعی جواز نہیں ہے۔ خواتین کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے اور انہیں حق وراثت اور اپنے مال کا خود مالک بننے کا حق دلوانے کے لیے بڑی بیداری کی ضرورت ہے ۔ یہ حقوق محض قوانین بنانے سے حاصل نہیں ہوسکتے ۔ اس کے لیے جماعت اسلامی کی خواتین کو اور جماعت اسلامی کی پوری تنظیم کو خواتین کے حقوق کی ایک مہم کے طور پر جدوجہد کرنی چاہیے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاشرے کے کمزور طبقات ،غلاموں ، مسافروں ، ہاتھ سے محنت کرکے کمانے والوں اورخواتین کو اپنے حقوق کا احساس دلایا اور توحید کی تعلیم اس انداز سے پیش کی کہ اللہ کے خوف کے سوا کسی دوسرے کا خوف باقی نہ رہا۔ خواتین نے بھی اپنے جائز مقام کو سمجھ لیا اور رسم و رواج کے ذریعے انہیں ذلت کے جس غار میں پھینکا گیاتھا اس سے نجات حاصل کرلی۔
اس میں شک نہیں ہے کہ خواتین کے خصوصی حالات کے پیش نظر ان کے لیے گھر میں نماز پڑھنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے لیکن ساتھ ہی یہ تاکید کردی گئی کہ انہیں مساجد میں آنے سے نہ روکا جائے۔ چنانچہ دورِ رسالت ؐ اور دور خلافت راشدہ میں مسجدوں میں حاضری دیتی رہیں۔ بعد میں علماء نے فتویٰ دے دیا کہ فتنے کا دور ہے اس لیے خواتین گھروں میں رہیں۔ اس دور میں علماء کی بات پر لوگ کان دھرتے تھے اس لیے خواتین نے باہر نکلنا چھوڑ دیا۔ رفتہ رفتہ معاشرے پر علماء کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی اور خواتین گھروں سے نکل کر بازاروں ، سینماگھروں ، کلبوں اور زیب و زینت کے نمائش گھروںمیں آنے لگیں ۔ لیکن مسجد کے دروازے ان کے لیے بدستور بند ہیں ۔ حالانکہ اب فتنے کے دور میں فتنے کی روک تھام کا راستہ ہی یہی ہے کہ خواتین کے لیے مساجد کے دروازے کھول دیئے جائیں۔
ان کے لیے الگ گیلریاں اور مساجد میں داخلے کے الگ دروازوں کا اہتمام کیاجائے ۔ انہیں دینی اجتماعات میں شرکت کی دعوت دی جائے اور غیر اسلامی تہذیبی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے خود خواتین کے اندر دینی جذبے کو ابھارا جائے۔ کام کرنے والی خواتین کے لیے ساز گار ماحول پیداکرنا اور ان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کرنا حکومت کی بھی ذمہ داری ہے۔
دیہاتی خواتین کے لیے میٹرنٹی ہومز کا قیام اور اس کے لیے خصوصی اہتمام کرنا اور زچہ بچہ کی نگہداشت کو صحت کی سہولتوں میں اولیت دینا ضروری ہے۔ خواتین کے احترام کے لیے خصوصی مہمات چلانا گھروں کے اندر بھی بیوی ، بیٹی ، بہن اور ماں کے حقوق ادا کرنے اور ان کااحترام بحال کرنے کے لیے مردوں کی دینی و اخلاقی تربیت اور دین میں خواتین کے احترام کی اہمیت سمجھانے کی ضرورت ہے۔