وہ ریکارڈ، جو ٹوٹ گئے

کالم نگار  |  مسرت قیوم
وہ ریکارڈ، جو ٹوٹ گئے

اتنا حساس علاقہ کہ چڑیا بھی پر نہ مار سکے، غیر معمولی صورتحال میں معمول کے حالات بھی پراسراریت کی چادر تان لیتے ہیں سب حیرانگی میں مبتلا، آتا جاتا ہر شخص مڑ کر دیکھنے پر مجبور، کچھ خوف زدہ کہ کس کو پکڑنے آئے ہیں آجکل خوف ہی تو واحد ’’ٹیکس فری‘‘ پروڈکٹ ہے جو پاکستان میں باافراط دستیاب ہے۔ اسی اثناء میں گاڑی کا دروازہ کھلا اور دھڑا دھڑ ضخیم کتابوں کے بنڈل زمین پر ڈھیر ہوتے گئے۔ ساس بہو کے ساتھ وہ سلوک نہیں کرتی جو حکومت نے بجٹ کاغذات کے ساتھ کر دکھایا۔ پہلی مرتبہ یہ سچ ’’قیدیوں کی وین‘‘ سے برآمد ہوا کہ حکومت عوام سبھی قیدی ہیں۔ غیر منصفانہ معاشی تقسیم، سرمایہ دارانہ بالا دستی کے ’’بجٹ‘‘ آمدنی و اخراجات کا سالانہ گوشوارہ، شہریوں کی زندگیوں کو باسہولت بنانے، آسانی فراہم کرنے کا اعلیٰ ذریعہ ایک ’’بوجھ‘‘ کی صورت لیے برآمد ہوا۔ قومی دستاویز کی حرمت، اعتبار کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔
جہازی سائز کی میز پر کاغذات کے پلندے بکھرے پڑے تھے سماجی ماہرین غریب پرور این جی اوز کا بھاری بھر کم (صرف جسامت میں، کاموں میں نہیں) پینل اپنی ذہانت سے بڑی عینکیں لگائے مطالعہ میں غرق، گھنٹوں پر محیط عرق بینی کے بعد بھی کاغذات سے ایسا کچھ دریافت کرنے میں ناکام رہا۔ تمام راستے، آسانیاں ایلیٹ کلاس کی طرف جاتے نظر آئے۔ ایک ٹوٹا پھوٹا راستہ بھی کچی آبادی، درمیانے طبقے کے آنسو پونچھتا دکھائی نہیں دیا۔ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، شاید عوام کی تشفی، تالیف قلب کا کوئی ایک سرا ہاتھ میں آ جائے مگر ’’دلی ہنوز دور است‘‘ بجا کہ غریبوں کی اکثریت روزے نہیں رکھتی مگر ’افطاری‘ تو نہایت اہتمام سے کرتے ہیں۔ ان کے زبانی احترام کا کسی نے بھولے سے بھی خیال نہیں رکھا۔ غریبوں کی حکومت نے غریبوں کو لوٹ لیا۔ اس تبصرے کے بعد اجلاس ختم ہو گیا۔ کچھ تبصرے یوں تھے عام آدمی کے حق میں پہلی مرتبہ کوئی ٹھوس آواز شامل نہیں ہوئی۔ سڑکوں پر اربوں روپے لگانے کی بجائے چند کروڑ پیٹ پر لگا دیتے تو شاید مہنگائی کا متوقع بحران ٹل جاتا اور احتجاجی آوازیں بھی بلند نہ ہوتیں۔ حسب توقع سرکاری ملازمین، پنشنرز، مزدور، اساتذہ نے تنخواہوں میں ’’زیرے کے دانہ‘‘ برابر اضافہ مسترد کر دیا۔ روایتی بجٹ کسی بھی خاص، قابل پذیرائی تبدیلی سے کلیتاً محروم وزیر موصوف کی ذاتی کاوش، تخیل کی پرکاری سے عاری، بڑی کلاس، بڑے گریڈ کے میزانیہ نے ’’مراعاتی کلب‘‘ کو سہولتوں کی فراہمی کا ریکارڈ توڑ دیا۔ خوردونوش کی اشیاء پر ٹیکس کا نفاذ مشکلات کا باعث بنے گا۔ ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے 64 ارب کے مالیاتی پیکج، دوسری طرف بجلی کے بلوں پر 10فیصد انکم ٹیکس کا نفاذ۔ ایک ہاتھ سے دے کر دوسرے سے لینے والی بات اور لامحالہ یہ بوجھ بھی عوام کو ہی اٹھانا پڑے گا۔ یہ فیصلہ بجلی چوری کا ریکارڈ بھی توڑ دے گا۔ ایک دن پہلے جاری کردہ اقتصادی سروے میں حکومت کی معاشی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے زرعی، صنعتی اور پیداواری شعبوں میں بھی ناکامی کا اعتراف کیا گیا۔ اہم معاشی سیکٹرز کے اہداف کے حصول میں ناکامی کے علاوہ موجودہ حکومت کے پہلے دو برسوں میں بے روزگاری کی شرح میں 8.3 فیصد اضافہ سے 13سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ ایک سال دھرنے سے پہلے کا ہے، ناکامی کا سارا ملبہ دھرنوں اور سیلاب پر ڈالا جا چکا ہے جبکہ اب کی مرتبہ سیلاب زیادہ خطرناک ہو گا۔ فیصلے دل سے ہوتے اور قلم سے کاغذ پر لکھے جاتے ہیں۔ منہ زور سیاسی شورش یا سڑکوں کی ناکہ بندی کبھی بھی نیت، ارادہ، عمل میں رکاوٹ بنتی نہیں دیکھی۔ سب سے بڑا ریکارڈ، احتجاجی ریکارڈ جو آج ہم رجسٹر کروا رہے ہیں وہ ہے مروجہ نظام کی کاہلی، غفلت اور عوامی مسائل کے ادراک، حل کرنے کے ضمن میں اختیار کردہ لاپرواہی کا، عوام دوست سکیوں، کارناموں کی تعداد انگنت ہے مگر عملی طور پر فائدہ مند اثرات، مفید نتائج عنقا ہیں۔ سہولتوں میں اضافہ کے دعوے اس لیے کامیاب قرار نہیں دے سکتے کہ انتظامی ادارے عوامی داد رسی کے بارے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ناگزیر قومی دستاویزات کی تکمیل اور اجراء میں بے تحاشا، غیر ضروری دشواریاں حائل ہیں۔ سرکاری دفاتر کا یہ نقشہ عوام کو حکومت سے بدظن کرتا ہے۔ انتظامی دفاتر آسان رسائی کے حامل علاقوں میں ہوں اور کشادہ ہوں۔ ایک ’’این۔ ار۔او‘‘ حکومت کو عوام سے بھی کر لینا چاہیے۔ قومی مفاہتی پالیسی نے قومی خزانے کو 72 ارب سے زائد کا ٹیکہ لگا دیا ہے۔ گریڈ ایک سے 20 تک کی آسامیوں پر سابق حکومت کی غیر قانونی بھرتیوں سے پہلو تہی کی پالیسی کا خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ مفاہمت پالیسی ایک ایسا شعبہ ہے جو مستقل فنڈنگ اور سبسڈی مانگتا ہے جبکہ عوام تو اپنے وجود کا صدقہ دیتے ہوئے ناکوں ناک بھر چکے ہیں۔ دس برسوں کی طویل مفاہمت نے ریاست کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے۔ اگر مفاہمتی پالیسی کا ریکارڈ نہ ٹوٹتا تو یہ خطیر رقوم عوام کے آنگن میں چھائوں کیے ہوئے نظر آتیں۔ قارئین! دل برداشتہ ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ تعمیر و ترقی کے عظیم الشان منصوبوں کے بیچ اگر کچھ ناخوشگوار موڑ آ گئے ہیں تو جلد یہ وقت بھی گزر جائے گا، اگر حکومت آمادہ نہیں ہوتی آپ سے مفاہمت پر تو پھر آپ ہمت پیدا کریں۔ دلیر بنیں اور اپنی موجودہ قسمت کے ساتھ ’’این۔آر۔او‘‘ کر ڈالیں۔ خیر اب ہم آتے ہیں کچھ اچھی خبروں کی طرف۔ اقتصادی سروے میں خوشخبری ہے کہ پاکستان میں ’’گدھوں‘‘ کی تعداد 49 لاکھ سے بڑھ کر 50 لاکھ ہو گئی ہے۔ گوشت خور طبقے کو مبارک ہو، مزید ایک لاکھ اضافی نفری ان کی شکم پروری کے لیے میسر ہو گئی۔ اب حلال ذرائع سے جائز منافع کمانے والے، ایماندار سرکاری اہلکاروں کے تعاون سے پہلے سے بڑھ کر مارکیٹ میں گوشت کی قلت پر قابو پانے میں مثالی حصہ لیں گے۔ اس مثالی تعاون کے نتیجہ میں نہ صرف علاقائی ترقی کو بڑھانے میں مدد ملے گی بلکہ قومی مفاد کے تقاضوں کے عین مطابق خطے میں خوشحالی کی بڑی لہر بھی پیدا ہو گی۔ کیاہی اچھا ہوتا کہ ’’وزیر اعظم کی تنخواہوں میں‘‘ 15فیصد اضافہ کی تجویز کو قبول کر لیا جاتا اور عوام کو ریلیف دینے کی ہدایات نظر انداز نہ کی جاتیں۔ ہمارا مشورہ ہے کہ ’’پنجاب بجٹ‘‘ میں مثالی ریلیف کا اعلان شامل کروائیں بلکہ وفاقی سطح پر ترامیم کے ذریعہ پنشن میں اضافہ اور ’’جی ایس ٹی‘‘ کا نفاذ ختم کر دیں ہم چاہتے ہیں کہ وہ طبقہ جو پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں شامل ہے اس پر ناروا بوجھ بڑھانے کی ضرورت نہیں۔ معیشت کے بہت سارے میدانوں میں پیش رفت ہوئی ہے مگر اہداف کے حصول کا جو ٹارگٹ مقرر کیا گیا تھا وہ عبور نہیں کیا جا سکا اور اس مرتبہ جو ہدف مقرر کیا گیا ہے وہ بھی حاصل نہیں ہو پائے گا جب تک بوجھ کو تمام کندھوں پر منتقل نہیں کرتے وزیر اعظم صاحب بجٹ کی منظوری سے پہلے متذکرہ بالا دونوں تجاویز منظور کرکے عوام دوستی کا نعرہ زبانی نہیں عملاً ثابت کر دیں۔ پاکستان زندہ باد