سبیتا خان ،قومی زبان اور عدالت عظمیٰ

کالم نگار  |  عزیز ظفر آزاد
سبیتا خان ،قومی زبان اور عدالت عظمیٰ

آئین پاکستان کے آرٹیکل 251کے مطابق 15 اگست 1988 کے دن اردو کو قومی زبان کے طور پر ہر سطح پر رائج ہونا تھا جس کے لئے جنرل ضیاء الحق نے اپنے دور میں ضروری اقدامات اٹھائے۔شہید غلام حیدروائیں نے بھی اپنے دورحکومت میں نفاذ اردو کیلئے احکامات جاری کئے مگر بعد کے حکمرانوں نے نفاذ اردو کے عمل کو نہ صرف پس پشت ڈالا بلکہ 2009میں پنجاب حکومت نے تمام سرکاری سکولوں میں اردو کو خیر آباد کہہ کر انگریزی نافذ کر دی جس پر چند خاکسار تحفظ قومی زبان کے لئے میدان عمل میں نکلے ۔ پہلی آواز خانیوال سے پروفیسر اشتیاق نے اٹھائی پھر دیے سے دیا چلتا چلا گیا ۔قومی زبان کے پرچم تلے ملک میں اردو کے حق میں مظاہرے ہونگے لگے ۔ یکم جون 2014ء کو نفاذ اردو کانفرنس ہمدرد سنٹر لاہور میں منعقد ہوئی۔ 29دسمبر 2014ء کو نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے غلام حیدر وائیں ہال میں دوسری نفاذ اردو کانفرنس اور 28مارچ 2015آل پاکستان نفاذ اردو کانفرنس راولپنڈی کے آرٹ کونسل ہال میں برپا ہوئی ۔ علاوہ ازیں لاہور ہائی کورٹ لاہور اور ملتان بنچ میں پھرعدالت عظمیٰ سے نفاذ اردو کے لئے استدعا کی گئی ۔ محتسب اعلیٰ پنجاب کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا اور اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی رجوع کیا گیا۔عام محفلوں میں لوگ اس سلسلے میں اظہار خیال کرتے ہیں ۔ بات یہاں تک ہی نہیں رہی بلکہ بیرونی دنیا ، مشرقی وسطیٰ ، یورپ ، امریکہ اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی اپنی زبان ،تہذیب اور اقدار کی حفاظت کیلئے برسرپیکار نظر آتے ہیں۔ آئے روز کوئی نہ کوئی شخصیت آکر ہماری قومی حمیت وغیرت کو جگانے کی کوشش کرتی ہے۔ 2014 ہی میں بی بی سی لندن کے معروف پروگرام سیر بین کے میزبان رضا علی عابدی نے پاکستان کے شہر شہر پھر کر اردو کا ڈنکا بجایا ۔چند ماہ قبل ابوالحسن نغمی لاہور تشریف لائے اور فروغ اردو کے سلسلے میں ملاقاتیں کیں ۔ آج کل برطانیہ سے پاکستانی نژاد خاتون سکالر استاد اور ریڈیو ٹی وی سے اپنے لوگوں کی آگاہی اور رہنمائی کیلئے پروگرام کرنے والی سبیتا خان لاہور میں اردو کے لئے کوشاں نظرآئیں ۔ سبیتا خان ہر سال آتی ہیں لہذا ہماری ساتھی فاطمہ قمر اور قومی زبان تحریک لاہور کے صدر پروفیسر سلیم ہاشمی سے رابطے میں تھیں ۔سبیتاخان کادبستان اقبال اور پنجاب یونیورسٹی میں لیکچر تھا ۔ہم نے بھی قومی زبان تحریک کے دفتر شادمان میں ایک نشست کا اہتمام کیا۔ سیکرٹری لاہور پروفیسر زاہد وینس نے تمام دوستوں کو اطلاع کی اور 3جون کے اہم قومی دن کے موقع پر ایک نظریاتی تقریب دیکھنے کو ملی کہ قوم کی ایک بیٹی جو دیار غیر میں حضرت قائد اعظم اور علامہ اقبال کے فرمودات کے حوالے سے اپنی تہذیب و تمدن اور زبان کی حفاظت کا فریضہ مردانہ وار ادا کر رہی ہے ۔سبیتا خان نے کہا کہ برطانیہ اور یورپ میں ہمارے لوگ اپنے بچوں کو مغربی تہذیب کی آلودگیوں سے محفوظ کرنے اور مشرقی حیاء اور اقدار پر گامزن کرنے کیلئے اردو سکھانا چاہتے ہیں لیکن افسوس کی بات مادر وطن میں اپنے بزرگوں کی تہذیب کو مسخ کرنے کیلئے اردو کو اس کا آئینی مرتبہ و مقام نہیں دیا گیا بلکہ انگریزی زبان اور مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ سبیتا خان نے کہا کہ زبان کسی قوم کی پہلی اور بڑی شناخت ہوتی ہے اسے ختم کرنے سے قوم احساس کمتری کا شکار ہو کر ختم ہو جاتی ہیں ۔سبیتا خان پاکستان میںاردو کے لئے آئینی جدوجہد بھی کرنا چاہتی ہیں۔نشست میں کرنل عبدالرزاق بگٹی ،حماد مرتضیٰ اپنی اہلیہ کے ہمراہ رانا عبدالوہاب ، مظفر احمد ، سکندر جاوید ایڈوکیٹ ، فیض احمد ،طاہر اسداور فیصل نذر کے علاوہ دیگر احباب شامل ہوئے ۔خصوصی نشست سے ایک روز قبل قومی زبان تحریک کے زیر اہتمام پریس کلب لاہور کے سامنے نفاذ اردو کے حق میں بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔ جس میں مرکزی صدر ڈاکٹر شریف نظامی بزرگ صحافی اور استاد تاثیر مصطفی ،جماعت علی شاہ ،امجد گولڈن ،ڈاکٹر یعقوب ضیا، سجاد بلوچ ،سلمان خان ،ڈاکٹر عرفان سلیمی ،مفتی امیر علی صابری اور ان کی صاحبزادی صفیہ ملک صابری کے علاوہ قومی زبان تحریک کے تمام عہدیداران اور دیگر افراد شامل تھے ۔اسی روز2جون اسلام آباد عدالت عظمیٰ میں نفاز اردو کے حوالے سے وفاق پاکستان کو جواب دینا تھا۔جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس عظمت سعید پر مشتمل بنچ نے سماعت کی ۔اٹارنی جنرل سلمان سلیم بٹ نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ نفاذ اردو کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مرکزی سیکرٹری اطلاعات اعظم خان نے بتایا کہ چھ سے نو ماہ کے اندر اقدامات مکمل کر لئے جائیں گے۔ سرکاری ریکارڈ کو اردو میں منتقل کرنے کے لئے افراد کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔ نادرا تمام اشیائے ضروریہ کے بل اردو میں شائع کریگی۔ سرکاری تقریبات کی تحریر اور تقریر میں اردو زبان استعمال ہوگی جبکہ بیرون ملک دوروں میں وزراء کے لئے ترجمے کی سہولت ہوگی ۔سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں سائن بورڈ اردو میں ہونگے۔ عدالت نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ غفلت کے ذمہ دار کون ہیں ؟ ستائیس سالوں میں کچھ نہیں کیا گیا قوم کے ساتھ مذاق بند کیا جائے ۔پانچ جون کو دوبارہ حاضری پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ طبقاتی تقسیم قوم کے لئے زہر قاتل ہے تمام اعلیٰ سرکاری اسامیاں انگریز ی میڈیم والوں کیلئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے علاوہ تینوں صوبوں نے علاقائی زبانوں کے حوالے سے کام اطمینان بخش ہے۔اردو کو سرکاری زبان دینے کا ذمہ وفاقی حکومت کو دیا تھا جو ابھی تک نہیں ہوا۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ علم کا قومی زبان میں ترجمہ مشکل نظر آتا ہے ۔حکومت کب تک آئین سے مذاق کرے گی؟ وفاقی سیکرٹری اطلاعات اعظم خان نے بتایا کہ حکومت اقدامات کر رہی ہے کہ تمام خط و کتابت اردو میں ہوگی۔تمام اداروں میں اردو سٹینوں موجود ہیں صرف چھ ماہ کی مہلت درکارہے ۔ڈپٹی اٹارٹی جنرل نے بتایا کہ ایک ہفتے کے اندر وزیراعظم خود پالیسی بیان جاری کریں گے لہذا ایک ہفتے کی مہلت دیدی گئی۔ قارئین کرام :کون جانتا تھا کہ چند عام لوگوں کی شروع کی گئی جدوجہد کو ایک دن اتنی پزیرائی نصیب ہوگی کہ قومی اخبارات کے نامور سینکڑوں کالم نگار اس صدائے حق کو اپنے قلم کی روشنی سے اس قدر ضوفشانی بخشیں گے۔ پاکستان کی عدالت عظمیٰ اس اہم قومی مسئلے پر ایسا تاریخی کردار ادا کرے گی جس کی مثال پہلے دکھائی نہیں دیتی۔