ریلوے کی گرین لائن اور عوام کی میٹرو بس

کالم نگار  |  طاہر جمیل نورانی
ریلوے کی گرین لائن اور عوام کی میٹرو بس

یہ قومی رونا متعدد بار پہلے بھی رو چکا ہوں مگر کیاکروں لندن میں ’’ولایت نامہ‘‘ پڑھنے والوں کا اصرار ہی یہ ہے کہ حالات کچھ بھی ہوں پاکستان کے قومی اداروں کی اصلاح اور انہیں باوقار بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھوں پاکستانی نژاد ان برطانوی شہریوں کا یہ کہنا ہے کہ آزادی وطن کے 68 برس گزر جانے کے باوجود ان قومی اداروں میں مثبت تبدیلی اور بہتری آخری کیوں پیدا نہیں ہو سکی کونسی ایسی وجہ ہے کہ جس کے سبب آزادی کا ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی ان اداروں کے سربراہان کی کارکردگی کو اعلیٰ حکومتی سطح پر مانیٹر کرنے کا کوئی مضبوط اور منظم نظام قائم نہیں کیا جا سکا۔ ایسی آخر کونسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر پولیس، ایف۔آئی۔اے، سپیشل برانچ، واپڈا، انکم ٹیکس، کسٹمز، محکمہ مال، محکمہ جیل خانہ جات، محکمہ جنگلات، پی آئی اے، اور ریلوے کا نظام بدستور انگریز کی غلامی یاد دلا رہا ہے… اپنے ان چاہنے والوں کو میں اب کیا جواب دوں میں تو خود بے اختیار ہوں۔ ان برطانوی شہریوں کا سوال ہے کہ جمہوریت کے باوجود پاکستان کا ہر شہری بیس ہزار روپے کا آخری کیوں مقروض ہے ہر پاکستانی اپنا یہ قرض اگر اتار نہیں سکا تو ملک میں روزانہ جنم لینے والے لاکھوں کروڑوں بچوں پر واجب الادا قرض کون ادا کرے گا؟ برطانیہ کو اپنا دوسرا وطن بنانے والے یہ پاکستانی اپنے حقیقی وطن کے بارے میں اور بھی بہت کچھ جاننے کے متمنی ہیں۔ یہاں کی طویل بودوباش نے انہیں چونکہ ایک باوقار شہری بنا دیا ہے اس لیے ان کی مثبت سوچ کا دائرہ کار وطن کے وہ لوگ ہیں جو آزادی کی 69 بہاریں دیکھنے کے باوجود اپنے آپ کو تاہنوز مقید تصور کر رہے ہیں۔ پاکستان کا دورہ کرکے واپس آنے والے ایک کرم فرما جنہیں پاکستان ریلوے کی نئی نویکلی ٹرین گرین لائن میں سفر کرنے کا موقع ملا اور جنہوں نے ٹرین کے اندر ہی ناشتہ، لنچ، اور مفت ’وائی فائی‘ کی سہولت سے استفادہ بھی کیا۔ اوپر سے خوش اور اندر سے ناخوش نظر آ رہے تھے۔ یہ نئی ٹرین جو راولپنڈی سے کراچی تک چلائی گئی ہے اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ٹرین چونکہ نئی ہے اس لیے ابھی تو رنگ کے اعتبار سے جاذب نظر دکھائی دے رہی ہے۔ سہولتوں کے اعلان کے باوجود برقی سہولتوں میں کمی ابھی سے دکھائی دینے لگی ہے۔ تاہم ساڑھے پانچ ہزار سے اوپر کرائے کے حوالہ سے سفر آرام دہ ہے مگر! لگتا نہیں کہ گرین لائن کا معیار برقرار رہ سکے گا۔ اس ناامیدی کی وجہ تسمیہ جاننے کی جب میں نے کوشش کی تو انہوں نے ایک برطانوی مسکراہٹ کا سہارا لیتے ہوئے کہا کہ کیا ہی اچھا ہوتا خواجہ سعد رفیق گرین لائن چلانے سے پہلے ان بوسیدہ بوگیوں،لائنوں، سلیپروں، چیئرز، اور زنگ لگے بفروں کے علاوہ ناکارہ 54 ریلوے انجنوں کو قابل سروس بناتے جو عام شہری کی اولین ضرورت ہے۔ 320ڈیزل اور 16کے قریب الیکٹرک انجن SIDINGS کے ہو کر رہ گئے ہیں ان کی مرمت اگر ہو جاتی تو ریلوے کی ’’ان گڈیوں‘‘ کی حالت تبدیل ہونے کی امید پیدا ہو سکتی تھی مگر افسوس آئندہ بھی اس بارے میں کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔ کرم فرما پاکستان ریلوے کے ایک اعلیٰ عہدے پر بھی چونکہ فائز رہ چکے ہیں اس لیے ادارے کے اندرونی انفراسٹرکچر سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرینوں کی آرائش و زیبائش اپنی جگہ مگر اصل معاملہ ریلوے ٹریک اور ان پر سینکڑوں برس پرانے ریلوے ٹریک کی مرمت کا ہے۔ اپنی عمر کا زیادہ حصہ پورا کرنے والے یہ ریلوے پل جن کے اوپر سے ایکسپریس ٹرینوں کی آمدورفت 24گھنٹے رہتی ہے اس قدر بوسیدہ ہو چکے ہیں کہ ان کی فوری مرمت یا ان کی جگہ نئے پل تعمیر کرنا ناگزیر ہو چکا ہے وہ بتا رہے تھے کہ حکومت نے ایسے پلوں کی مرمت کا غالباً 42 کروڑ کے لگ بھگ تخمینہ لگایا تھا مگر افسوس کہ اس رقم کا تیسرا حصہ بھی ان خطرناک پلوں پر خرچ نہیں کیا جا رہا۔یہ محکمہ انجینئرنگ کے افسران کی ذمہ داری میں ٹریک اور پلوں کی مرمت اور ان کی تبدیلی چونکہ شامل ہے اس لیے چیک اینڈ بیلنس کا فارمولا نہ ہونے کی وجہ سے ان خطرناک پلوں کی کئی بر س گزرنے کے باوجود مرمت نہیں ہوسکی جو بلاشبہ متعلقہ محکموں اور افسروں کی غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔ کرم فرما کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک محتاط انداز کے مطابق ریلوے پلوں کی کل تعداد 14ہزار کے قریب ہے جن میں سے بیشتر پلوں کی عمر 160برس سے بھی تجاوز کر چکی ہیں۔ یہ ایسے خطرناک پل ہیں جن کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ان پر اب بھی اگر فوری توجہ نہ دی گئی تو ہو سکتا ہے ریلوے کسی بڑے حادثہ سے دو چار ہو جائے۔ کراچی، روہڑی، خانپور، ملتان، سمہ سٹہ، لودھراں، خانیوال، لاہور، لالہ موسیٰ اور وزیر آباد جنکشن سے گزرنے والی برانچ لائنوں کے بیشتر ٹریک پل اپنی عمر پوری کر چکے ہیں جنہیں مرمت کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ میں اپنے اس کرم فرما کے یہ انکشافات سن کر وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی حال ہی میں متعارف کروائی گئی گرین لائن ٹرین میں مسافروں کو دی جانے والی سہولتوں اور ریلوے کے انسپکٹر جنرل آف پولیس منیر احمد چشتی کے اس بیان میں کر چکا تھا جس میں انہوں نے ریلوے لائنوں کی حفاظت کے نظام کو موثر بنانے کا اعلان کیا ہے جبکہ خواجہ صاحب نے گرین لائن کو ترقی کا زینہ قرار دیا ہے۔ خواجہ سعد رفیق وہ اپنی پوری توجہ صرف اور صرف ریلوے کو منافع بخش محکمہ بنانے پر مرکوز رکھیں۔ ریلوے کے 336 ناکارہ انجنوں کے بارے میں کچھ بتائیں۔ بلور صاحب کے دور میں چلائی گئی بزنس ٹرین کی حالت پر روشنی ڈالیں۔ 160 برس کی عمر پوری کرنے والے ریلوے پلوں کی فوری حالت بدلنے کی کوئی خوشخبری دیں۔ مگر ایسا وہ کر نہیں پا رہے۔ گرین لائن اور جلد ہی لاہور میں ’’اورنج میٹرو‘‘ چلانے سے ٹرانسپورٹ کی ترقی کا معیار یقینا بلند ہو گا مگر مہنگائی میں پسنے والی عوام کی حالت کب بدلے گی… ہے کوئی وزیر جو بتا سکے۔