بھارت میں عام آدمی کی حکومت کے کارنامے اور ہم

کالم نگار  |  اسلم لودھی
 بھارت میں عام آدمی کی حکومت کے کارنامے اور ہم

ایک خبر ہے کہ بھارت میں عام آدمی پارٹی نے چند مہینوں میں اپنے منشور پر پچاس فیصد عمل کرکے ریاستی عوام کے لیے زندگی آسان کردی ہے ۔بجلی کی قیمتیں آدھی ہوچکی ہیں ہر گھرانے کو ہر ماہ 20ہزار لیٹر پینے کاصاف پانی مفت مہیا کیا جارہاہے۔رشوت کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے ہیلپ لائن چالو ہوگئی ہے جہاں کوئی بھی شخص اپنی شکایت درج کرواسکتاہے۔ای رکشا سکیم شروع ہوچکی ہے جس کی بدولت رکشہ چلانے والے دہلی پولیس کی زیادتیوں سے بہت حد تک محفوظ ہوچکے ہیں۔ ویلیو ایڈٹیکس ایکٹ میں تاجروں کے کہنے کے مطابق ترمیم کردی گئی ہے۔دہلی ٹرانسپورٹ کمپنی کی ہر بس میں چار سیٹیں بزرگوں کے لیے مختص کردی گئی ہیں۔یہ وہ وعدے ہیں جو عام آدمی پارٹی نے صرف چند ماہ کی حکومت میں پورے کرکے ایک مثال قائم کردی ہے ۔ اس کے برعکس پاکستان میں مسلم لیگ ن ٗ پیپلز پارٹی ٗ تحریک انصاف اور دیگر تمام سیاسی جماعتوں کا منشور اٹھاکر دیکھ لیں تو ان میں سے کسی نے بھی اپنے منشور کا ایک حصہ بھی پورا کرنے کی کوشش نہیں کی ۔پیپلز پارٹی پانچ بار حکومت میں رہی اور ہر بار روٹی کپڑا مکان کانعرہ لگاکر عوام کو بیوقوف بناکر قومی خزانے سے اپنی تجوریاں بھر کے چلتی بنی اور غلط اقدامات اور پالیسیوں سے عوام کی ایسی درگت بنائی کہ اب وہ صفحہ ہستی سے ہی مٹ چکی ہے ۔ مستقبل قریب میں سندھ سے بھی بھٹوکے نام پر ووٹ ملنا بند ہوجائیں گے ۔ مسلم لیگ ن کا منشور تعلیم ٗ انصاف اور امن کی فراہمی پر مبنی ہے لیکن لیگی دور میں تعلیم کو تجارت بناکر اس قدر مہنگا کردیاگیا ہے کہ غریب اپنے بچوں کو اگر پڑھانا چاہے بھی تو نہیں پڑھا سکتا۔سرکاری سکول تو سہولتوں کے اعتبار سے ویسے ہی ختم ہوتے جارہے ہیں جبکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے چار ہاتھوں سے عوام کو لوٹنا شروع کررکھاہے ۔نرسری اور پریپ کی فیس بھی دو تین ہزار روپے تک وصول کی جارہی ہیں۔اس کے برعکس یہی پرائیویٹ تعلیمی ادارے اپنے اساتذہ کو دو سے تین ہزار روپے ماہانہ پر ملازم رکھ کر ان کامعاشی استحصال کررہے ہیں ۔یہ سب کچھ مسلم لیگی دور میںہورہا ہے اور حکومت خاموش ہے۔ اب ہائی کورٹ نے گرمیوںکی چھٹیوں کی یکمشت فیس پر پابندی لگائی ہے لیکن تعلیمی ادارے تین تین ماہ کی فیسیں پیشگی وصول کررہے ہیں۔اگر دہلی کی ریاستی حکومت آدھی قیمت پر عوام کو بجلی فراہم کرسکتی ہے تو پاکستانی حکومت ایسا کیوں نہیں کرسکتی ۔ واپڈا ہو یاٗ نیشنل پاور اتھارٹی پانچ پانچ لاکھ روپے تنخواہ لینے والے افسروں کی فوج عوام کا خون چوس رہی ہے نہ صرف بھاری تنخواہیں لینے والے افسر پانچ کروڑ یونٹ سالانہ بجلی بھی مفت استعمال کررہے ہیں۔ اگر بھاری تنخواہوں والے افسران کا بوجھ کم کردیاجائے اور واپڈا افسران کو بھی عوام کی طرح بجلی کا بل اداکرنے کا پابند کیاجائے تو شاید پاکستان میں بھی بجلی آدھی قیمت پر میسر آسکتی ہے ۔ایک جانب بجلی کی حد سے زیادہ قیمتیں تو دوسری جانب 16گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے جینا حرام کررکھا ہے ۔ شہباز شریف اگر اب بھی بنکوں ٗ فائیو سٹار ہوٹلوں اور شادی گھروں کو سولر انرجی پر منتقل ہونے کا حکم دیں تو واپڈا کی بجلی عوام کے لیے اب بھی وافرہوسکتی ہے ۔معاہدوں کی خوشخبریاں گزشتہ دو سالوں سے سنائی جارہی ہیں لیکن نندی پور سمیت کوئی ایک پراجیکٹ بھی پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکا جس سے عوام کو ریلیف ملتا۔لوگ گرمی سے مر رہے ہیں اب روزے بھی اتنی ہی شدید گرمی میں رکھنے پڑیں گے حکمران خود تو ائیرکنڈیشنڈ میں رہتے ہیں اور عوام تڑپتے رہیں گے۔بھارت میں تو عمررسیدہ افرادکیلئے الگ نشستیں مخصوص کردی گئی ہیں لیکن پاکستان میںعمررسیدہ اور معذور افراد ہر جگہ ذلیل و خوار ہوتے ہیں ۔ دفتر ٗ بنک ہسپتال یا ادارے میں عمررسیدہ اور معذور افراد کے لیے کوئی سہولت میسر نہیں ۔ گزشتہ دنوںمجھے شیخ زید ہسپتال چیک اپ کے لیے جانا پڑا۔کتنے ہی بزرگوں کو میں نے پورا ایک گھنٹہ قطار میں کھڑے دیکھا کئی تو نڈھال ہو کر گرنے والے تھے یہی حال قومی بچت کے باہر پنشن لینے والوں کا بھی ہے۔کسی نے اولڈ سیٹزن اور معذوروں کے لیے الگ کائونٹر بنانے کی زحمت گوارا نہیں کی۔یہی عالم پبلک ڈیلنگ کے اداروںکا ہے۔ ایک میل دور حفاظتی انتظامات کی بدولت پیدل چل کر آناعمررسیدہ افراد کے لیے ناممکن ہے ۔صاف پانی فراہم کرنے کے لیے موجود حکومت نے لاہور شہر میں بیس پچیس ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے تو ہیں لیکن ان میں سے شاید ہی کوئی چالو پوزیشن میں ہو ۔ ورنہ ایسے خراب ہوئے کہ پھر ٹھیک کرنے کی کسی کو فرصت نہیں ملی۔شہباز شریف سڑکیں پل اور فلائی اوورتو بنارہے ہیں لیکن مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی بنا پر وہ بھی جلد اپنے میعار اور مقاصد کھو بیٹھتے ہیں۔میٹرو بس پراجیکٹ کی کامیابی کے ڈھونڈے تو بہت پیٹے جارہے ہیں لیکن لاہور کی سڑکوں پر گاڑیوں کا اتنا رش بڑھ گیا ہے کہ اگر ڈبل منزلہ سڑکیں نہ بنائی گئیں تو لوگ پاگل ہوجائیں گے۔ اب میٹرو ٹرین پر تین سو ارب خرچ کرنے کاارادہ ہے ۔ یہ سارے منصوبے وہاں اچھے لگتے ہیں جہاں ٹریفک کے مسائل نہ ہوں لیکن پاکستان جیسے ملک میں جہاں اب سڑکوں پر گاڑیاں رینگتی ہیں اتنے مہنگے منصوبے شاہ خرچی کے مترادف ہیں ۔شہباز شریف بھی اگر چاہیںتو عام آدمی پارٹی کی طرح عوام کے مسائل چٹکی بجا کے حل کرسکتے ہیں لیکن نہ جانے کیوں ان کی توجہ مسائل حل کرنے کی بجائے مسائل بڑھانے پر لگی ہوئی ہے ۔پٹرول کی قیمت کم ہونے کے باوجود قیمتیں وہی رہیں اب پٹرول کی قیمت بڑھے گی تو راتوں پھر مہنگائی کا طوفان آئے گا۔ کیامنشور پر عمل کرنا گناہ ہے یا ہم دانستہ منشور پر عمل نہیں کرنا چاہتے ۔کیا مسائل حل کرنے کے لیے پاکستان میں بھی عام آدمی پارٹی کو لانا پڑے گا۔