’’سیکولر بھارت کا اصل اور مکروہ چہرہ‘‘

’’سیکولر بھارت کا اصل اور مکروہ چہرہ‘‘

ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کے صوبہ گجرات(کاٹھیاوار) میں انتخابات ہورہے ہیں اور بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی اپنی روائت پر قائم رہتے ہوئے پاکستان کا ہوا کھڑا کرکے کامیابی حاصل کرنے کی جو کوشش کررہے ہیں وہ ناکام ہوچکی ہے کیونکہ وہ اس کے باوجود اپنے کارکنان کے حوصلے بلند کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔ ان انتخابات کے نتائج سے قطع نظر ان کا یہ الزام کہ کانگرس پارٹی انتخابات جیتنے کے لئے پاکستان سے ساز باز کررہی ہے غلط ثابت ہوا ہے بلکہ ان کا سابقہ وزیر اعظم کے خلاف یہ الزام کہ وہ پاکستان سے ملکر سازش کررہے ہیں ان کی اپنی بد نامی اور تحقیر کا باعث بن گیا ہے۔ ماضی میں مودی نے پاکستان Bogy کو بڑی کامیابی سے استعمال کیا اور اس بہانے سے ملک میں بسنے والے مسلمانوں پر عرصئہ حیات تنگ کردیا اس سلسلے میں بھارت کا مشہور تجزیہ نگار اور صحافی بھوشن لکھتا ہے کہ نریندر مودی پاکستان کی طرف سے دھشت گردی کے حوالے کو غلط اور بیجا طور پر استعمال کررہے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نومبر2008 ء میں ممبئی میں دھشت گردی کے واقعے کے بعد سے پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کا کوئی قابلِ ذکر واقعہ پیش نہیں آیا وہ مزید لکھتا ہے کہ ستمبر 2010 ء سے پاکستان کے خلاف لائن آف کنٹرول پر Surgical strikes کا سہارالے کر اترپردیش میں اگلے چند ماہ میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کی ایک ناروا اور گھٹیا کوشش ہے۔ اسی ضمن میں انڈین ایکسپریس کا پرتاب مہتا نریندر مودی کے اس رویے کو خطرناک قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ پاکستان کی طرف سے سازش اور ہندو مسلم اختلافات کو ہوا دے کر بھارتی سیاست میں بہت زیادہ بگاڑ پیدا کردیا گیا ہے۔ اس قسم کے جذبات اور خیالات کا اظہار ملک کی دیگر اہم سیاسی شخصیات جس میں سابقہ وزیر اعظم من موہن سنگھ بھی شامل ہیں نے کیا ہے یہاں تک شیوسینا جو کہ بی جے پی کی اتحادی ہے نے بھی اس کی شدید مذمت کی ہے۔دراصل آزادی کے بعد سے ہی بھارت میں قائم ہونے والی ہر حکومت نے ہمیشہ پاکستان دشمنی کا رویہ اختیار کیا ہے۔ سکول و کالج کی کتب ہوں، بھارتی OPERA ہو یا پارلیمنٹ میں بحث و مباحثہ، پاکستان کے خلاف زہر آلودپراپیگنڈہ اس کا جزو لاینفک ہے۔ دراصل Mother India کا خبط بری طرح سے بھارتی نیتاؤں کے سروں پر سوار ہے۔ اس سلسلے میں نہتے کشمیریوں پر ہر قسم کا ظلم روا رکھا جارہا ہے اور بھارتی مسلمانوں کو ملکی بقا کیلئے خطرہ قرار دے کر ان پر ہر قسم کے مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔آزادی کے فوراً بعد کشمیر جونا گڑھ حیدر آباد جو کہ اصولاً پاکستان میں شامل ہونا چاہتے تھے پر بھارت نے فوج کشی کرکے قبضہ کرلیا۔ جو UNO کے فیصلوں کے باوجود ابھی تک قائم ہے اور کشمیر میں وہاں کے عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیا گیا۔ اور وہاں پر لاکھوں بھارتی فوجی خون کی ہولی کھیل رہے ہیں۔ سیاچین کا تنازعہ بھی بھارتی جارحیت کی ایک اور مثال ہے۔نیز بھارت میں ہونے والی ہر خرابی کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈال دیا جاتا ہے۔ ایک بہت ہی مضحکہ خیز بات 1994 ء میں سننے میں آئی جب Hindutva نے سورت گڑھ (گجرات) میں پھیلنے والی طاعون کا ذمہ دار بھی پاکستان کو ٹھہرایا گیا۔ اٹل بہاری واجپائی نے یہ ناقابل یقین درفتنی چھوڑی کہ " پاکستان نے علاقے میں طاعون زدہ چوہے چھوڑ کر یہ بیماری پھیلائی ہے" ۔دراصل بی جے پی اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف نفرت کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرتی ہے۔بابری مسجد کو گرانے کے 10 سال بعد بھی بی جے پی نے ہندو توا کے غنڈوں کی مکمل حمائت کی اور ووٹوں کے حصول کے لئے مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف زہر فشانی شدت سے جاری رکھی۔ فروری 2002 ء میں ڈیلی ٹیلیگراف کے نمائندے آنند سندر نے لکھا کہ " آھودیہ" کے علاقے جو ہندو مت کے مطابق ان کے " بھگوان رام " کی جنم بھومی ہے او رجہاں پر گرائی گئی بابری مسجد واقع تھی وہاں بی جے پی کے لیڈر سندس نے پاکستان کے خلاف لوگوں کے جذبات بھڑکانے کا سلسلہ لگاتار جاری رکھا تاکہ راج ناتھ سنگھ جو کہ الیکشن لڑ رہا تھا کو زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل ہوں اور ایک مراسلے میں لکھا کہ "بی جے پی کی کامیابی پر اگر کوئی پریشان ہوگا اور آنسو بہائے گا وہ صر ف پاکستان ہوگا"۔ آزادی کے بعد سے آج تک بھارت میں قائم ہونے والی ہر حکومت نے اگر کوئی کام پوری تندھی اور تواتر سے کیا ہے تو وہ مسلم اور پاکستان دشمنی ہے۔ پنڈت نہرو نے بھارت کو ایک Secular ملک بنانے کا عندیہ دیا تھا مگر تاریخ گواہ ہے کہ بھارت میں ہر غیر ہندو کو تذلیل اور حقارت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دلت، مسلمان اور یہاں تک کہ سکھوں کو بھی دل سے ملک کا باشندہ قبول نہیں کیا جاتا۔ آج سکھ ہمارے عظیم رہبر قائد اعظم کی طرف سے ان کو پاکستان کے ساتھ الحاق کی پیشکش قبول نہ کرنے پر رہ رہ کر پچھتا اور کف افسوس مل رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں نہتے لوگوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے اور ان پر بھارت کو Disintegrate یعنی ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا مضحکہ خیز الزام لگایاجاتا ہے۔ بھارت کے نام نہاد لیڈرز ان کا تعلق چاہے کسی بھی پارٹی سے کیوں نہ ہو ابھی تک اکھنڈ بھارت کے خبط میں مبتلا ہیں۔ یہ ہے نام نہاد سیکولر بھارت کا اصل اور مکروہ چہرہ۔!