رئیس الاحرار ۔ مولانا محمد علی جوہر

کالم نگار  |  عزیز ظفر آزاد
رئیس الاحرار ۔ مولانا محمد علی جوہر

1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے دوران انگریزی فوج کا ہتک آمیز سلوک برداشت کرنے والے بچے جب سن بلوغت کو پہنچے تو انہوں نے اپنی نئی نسل کو حکمرانوں کے خلاف نفرت اور حقارت کے وہ جذبات منتقل کئے کہ انگریز نے ہمارے بزرگوں سے بڑی مکاری اور چالبازی سے ہندوستان چھینا ہمیں انگریز سے ہر قیمت پر آزادی حاصل کرنی ہے ۔ سونے پر سہاگہ سرسید کاقائم کردہ علی گڑھ سکول جس نے نوخیز معماروں کے لئے ایک نظریاتی فوجی چھائونی کا کردار اداکیا ۔یہاںجو مسلم بچہ حصول تعلیم کی غرض سے داخل ہوا ایک جوالامکھی کی صورت اختیار کر گیا ایک مختصر عرصہ میں ہندوستان کے کونے کونے میں آزادی کی قندیلیں بلند ہونے لگیں۔ علی گڑھ سے فارغ التحصیل کسی بھی شخصیت پر غور کریں وہ ہمہ وقت عالم دین ہونے کے ساتھ انگریزی فارسی عربی پر مکمل عبور کا حامل ہوگا اپنے دور کا مایہ ناز شاعر و ادیب بیمثال خطیبوں میں شمار کیا جائے گا ۔ میدان سیاست کا شہ سوار ہونے کے ساتھ صحافت میں بھی اعلی اقدار اور روایات قائم کرنے میں مصروف عمل ملے گا ۔ تمام مجاہدانہ جذبات سے سرشار باکفن دکھائی دیں گے۔ تمام کا محور اور مقصد آزادی اور صرف آزادی ہے ۔ ان روشن و درخشاں ستاروں قوم کے معماروں اور آزادی کے روشن میناروں میں ایک نام رئیس الاحرار محمد علی جوہر ؒ کاہے ۔

محمد علی جوہر نے 1896ء میں بی اے الہ آباد یونیورسٹی سے اول پوزیشن میں پاس کیا ۔ صوبہ متحدہ میں پہلی پوزیشن لینے پر سب لوگ ششدر رہ گئے اپنے پرائے آپ کی شخصیت کے گرویدہ نظر آنے لگے ۔ہم عصروں میں ممتاز اور منفر د قائدانہ شخصیت کا تصور ابھرنے لگا ۔ بڑے بھائی شوکت علی نے محمد علی کو اعلیٰ تعلیم کیلئے آکسفورڈ بھیجنے کا بندوبست کیا وہاں پہنچ کر اپنے مزاج کے موافق تاریخ اسلام بطور خاص توجہ کا مرکز رہا ۔ دوران تعلیم ہر ایسے شغل سے دامن صاف رکھا جو خلاف اسلام ہو مگر لیڈری کا شغل حد سے بڑھ چکا تھا جس کے سبب آئی سی ایس کے امتحان میں کامیاب نہ ہوسکے واپس وطن لوٹے تو والدہ بی اماں اور شوکت علی بہت خفا ہوئے لہذا دوبارہ آکسفورڈ جانے کا قصد کیا اسی دوران بی اماں حج پر جارہی تھیں آپ کی شاعری بھی جولانی پر تھی جوہر فرماتے ہیں ۔
اماں آپ جائو کعبے کو ہم انگلستان دیکھیں گے
آپ خدا کا گھر دیکھنا ہم خدا کی شان دیکھیں گے
حصول تعلیم سے فراغت کے بعد عملی زندگی کا آغاز رامپور میں انسپکٹر جنرل تعلیم سے ہوا ۔ قابلیت کے باعث بھوپال میں چیف سیکرٹری کی پیش کش ہوئی۔ بڑودہ میں ملازمت کی مگر اندر کے باغی کو چین نہ مل سکا کچھ ہی عرصہ بعد رخصت طلب کی جس پر مہاراجہ بڑودہ نے سات ہزار روپے انعام اور ایڈوانس تنخواہ بھیجی مگرآپ نے بڑی تکریم اور عزت سے یہ رقم واپس کر دی اورکلکتہ چلے آئے جہاں انگریزی اخبار " کامریڈ" کااجراء کیا ۔ جوہر کی تحریر اتنی معیاری اور اعلی ذوق سے تعلق رکھتی تھی کہ انگریز بھی سالانہ چندہ جمع کراکر خریدتے بلکہ اپنے دوستوں کو لندن تحفے کے طور پر بھیجتے ۔ کامریڈ نے مسلم پڑھے لکھے طبقے میں آزادی کی ایک لہرپیدا کردی لہذا خوفزدہ حکومت نے پریس ٹرسٹ ایکٹ کے تحت کامریڈ کو بندکرکے مولانا محمد علی جوہر کو جیل بھیج دیا رہائی کے بعد پھر میدان عمل میں کمر بستہ ہوئے۔اور وہ وقت ضائع کئے بغیر مسلمانوں کی صف بندی کرنا چاہتے تھے جس کے لئے آپ نے اپنے مادر علمی علی گڑھ کالج کا رخ کیا سرسید کے بعد علی گڑھ آہستہ آہستہ انگریز اساتذہ کے ہاتھ میں جا چکا تھا جہاں انگریز اساتذہ نے آپ کا راستہ روکنے کی کوشش کی مولانا جوہر نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ علی گڑھ کالج میں اولڈ بوائے لاج پر قبضہ کرکے طلباء میں بیداری کی تبلیغ شروع کردی جس پر وہاں کی انتظامیہ سیخ پا ہوتے ہوئے تشدد پر اتر آئی اور ضلع پولیس کا استعمال کرتے ہوئے تمام تحریکی نوجوانوں کو کالج سے باہر نکال دیا ۔ آپ نے اپنے دوستوں اور ہمنوائوں کے ساتھ کالج کے ملحق خیموں اور شامیانوں شہر آباد کردیا اور وہاں نئی درسگاہ کا قیام کا اعلان کیا گیا جس کا نام جامعہ ملیہ طے پایا ۔ مولانا محترم کی ایک آوازپر سینکڑوں طلباء علی گڑھ کالج کو چھوڑ کر اس درسگاہ میں داخل ہوئے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے جامعہ ملیہ بوریانشینوں کی ایک بڑی تربیت گاہ کا منظر پیش کرنے لگی ۔ قوم وملت کی محبت اساتذہ کے دلوں سے طلباء کے دلوں میں منتقل ہوتی چلی گئی یہ مولانا کی شخصیت کا کرشمہ تھا کہ بغیر منصوبہ بندی بے وسائلی اور کسی سرمائے کے بغیر صرف جذبے کے تحت اس عظیم درسگاہ میں بڑی بڑی شخصیات نے فریضہ تدریس انجام دیا جن میں ڈاکٹر ذاکر حسین ، ڈاکٹر عابد حسین ، ابو عبداللہ محمد السورتی ، خواجہ عبدالحئی اور پروفیسرمحمد مجیب خاص طور پر قابل ذکر ہیں جب جامعہ ملیہ اپنے پائوں پر کھڑی ہونے لگی تو حکیم اجمل خان اورڈاکٹرمختار انصاری کے سپردکرکے خود دہلی جانے کاارادہ باندھ لیا اور وہاں سے اردو روزنامہ ہمدرد جاری کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ہمدردمسلمانان ہند کا ترجمان بن کر ابھرا ۔ ایڈیٹر کے لئے بابائے اردو مولانا عبدالحق کانام پیش ہوا مگر بعض وجوہات کی بناپر یہ ذمہ داری مولانا عبدالعلیم شرر کے سپردکی گئی ۔ ہمدرد کے قلمی معاونین میں خواجہ حسن نظامی ، مولاناشبلی ، علامہ اقبال ، منشی پریم چند ، سجادحیدر یلدرم ،مجنوں گورکھ پوری کے علاوہ دوسرے حضرات کے نام شامل تھے ۔آپ کی شعلہ فشاں تحریروں کے باعث 1915ء میں ہمدرد بند ہوا اورآپ کوگرفتارکرلیا گیا ۔مختصر کالم میں جوہر کو سمانا ممکن نہیں مسجد کانپورہو یا تحریک خلافت ، جلیاں والا باغ کاحادثہ ہو یا جنگ بلقان ، کراچی کا جلسہ ہو یا مقدمہ بغاوت خالق دینا حال کراچی میں تاریخی بیان سائمن کمیشن کیخلاف صف بندی یا مسلم لیگ کے اجلاس کلکتہ میں شمولیت اور قائداعظم کی حمایت آپ نے 1929سے 1931تک گول میز کانفرنس میں مسلمانوں کی نمائندگی کی دوران کانفرنس غلام ملک واپس جانے سے موت کو فوقیت دینے کا اعلان کیا ۔اللہ نے دعا قبول کرتے ہوئے موت کے ساتھ سرخروکیا اور آپ کو انبیاء کی سرزمین میں دفنایا گیا۔