لیڈروں کیلئے گمنام پتا والی بستی کی سیر

کالم نگار  |  سید سردار احمد پیرزادہ
لیڈروں کیلئے گمنام پتا والی بستی کی سیر

آپ کو ایک بڑے جدید شہر کے ایک ایسے پتے پہ لے چلتا ہوں جو گمنام ہے جس کے بارے میں آپ لوگ شاید نہیں جانتے۔ چلئے چلتے ہیں، گاڑی سے اتریئے‘ اب آپ سڑک پر ہیں۔ چلتے لوگ، بھاگتی گاڑیاں، کئی منزلہ عمارتیں، شاپنگ مال اور بڑی چمچماتی دکانیں اور غضب کی ہلچل ہے۔ اپنے پیروں کو تکلیف دیجئے، آگے بڑھئے، تھوڑا اور۔ سیدھا چلتے رہیے۔ بس اب دائیں یا بائیں کسی بھی اُور مڑ جائیے۔ کیا ہوا؟ راستہ ختم؟ ارے نہیں نہیں راستہ تو یہاں سے شروع ہوتا ہے۔ دھیان سے دیکھئے‘ دو عمارتوں کے بیچ کچھ سرنگ سا دِکھ رہا ہے؟ بس صحیح راستے پہ ہیں۔ رکیئے مت، چلتے جائیے۔ یاد رہے آگے کا راستہ صرف پیروں سے نہیں، آنکھ، ناک سے لے کر دماغ تک سب کو چوکنا رہنا ہے۔ ذرا سی چُوک کا نقصان ہو سکتا ہے، جسم اور جیب دونوں کا۔ اب چوڑی سڑکیں تنگ گلیوں میں بدل چکی ہیں۔ شہر کی چمک کسی گھپ اندھیرے میں کھو چکی ہے اور اپارٹمنٹس کے باہر رکھے گملے اب کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ تھوڑی اور آگے جائیے۔ گلی اب نالی بن چکی ہے اور نالی ہی آگے کا راستہ ہے۔ چاہیں تو پینٹ کے ساتھ بھنوئیں بھی اوپر اٹھا سکتے ہیں۔ ناک پر رومال ڈال سکتے ہیں پر آنکھیں کھلی رکھیں۔ اُن پر پردہ نہیں ڈال سکتے کیونکہ یہ سپنا نہیں سچ ہے۔ ایسا بھی ایک پتا ہے‘ ارے نہیں نہیں ابھی پہنچے نہیں ہیں تھوڑا اور چلئے، آگے جاکر دائیں مڑنا ہے۔ پر دھیان رہے، موڑ اور گھر کے دروازے ایک جیسے ہیں، بس ایک فٹ ہی چوڑے۔ کیا ہوا؟ کسی کے گھر میں تو نہیں گھس گئے؟ کوئی نہیں، بھول بھلیاں جیسا کچھ نہیں ہے، بس ایک ہی کمرہ ہے۔ شاید آپ کے سٹڈی روم جتنا بڑا ہوگا۔ اسی ایک کمرے میں پانچ لوگوں کا خاندان رہتا ہے۔ کچن، بیڈروم سے لے کر باتھ روم تک سب یہیں ہے۔ کتنے طریقے سے ایک کے اوپر ایک دال آٹے کے کنستر رکھے ہیں۔ کپڑے کی کوئی الگ الماری نہیں ہے۔ بس دروازے کے پیچھے دو گٹھڑ بناکر رکھ دیئے ہیں۔ اب دیوار پر دیکھئے۔ اُدھر، ہاں آپ کے پیچھے، وہیں کچن کے شیلف پر‘ تھالی سے لے کر کڑچھی تک سب وہیں پر ٹنگے ہیں‘ جو بغل میں دو فٹ کی دیوار ہوتی ہے ناں، ہاں ہاں بس وہی‘ وہی باتھ روم ہے۔ کیا ہوا؟ بیڈ نہیں دِکھ رہا؟ ارے وہ جو کونے میں ڈھیر رکھا ہے وہی بیڈ ہے۔ سونے کے وقت میں کھول لیا جاتا ہے۔ کیا ہوا؟ آپ کو نیچر کال آرہی ہے؟ ارے جلدی کریئے باہر آجائیے۔ اب کال ریسیو کرنا تو آدھا کلومیٹر دور چل کر پھر لمبی لائن میں لگنے کے بعد ہی ممکن ہے۔ چلیں اُس کو ہولڈ پر ڈالئے، آگے بڑھتے ہیں۔ آگے سے دائیں مڑ جائیے۔ اگر دایاں بایاں کچھ سمجھ نہیں آیا تو کوئی بات نہیں ہے۔ ارے نہیں فون مت نکالئے یہاں گوگل ابھی تک نہیں آیا ہے۔ سامنے دیکھئے کچھ لوگ دِکھ رہے ہوں گے، کچھ دھواں سا اٹھ رہا ہوگا۔ ہاں ہاں وہیں جہاں سے چلم کی مہک آرہی ہے، تاش کے پتے سجے ہیں اور پلاسٹک کے گلاسوں میں گاڑھے سنگترے رنگ کا پانی رکھا ہوا ہے۔ اُن سے پوچھئے، یہاں کے واسکو ڈے گاما وہی ہیں، آگے کا راستہ انہیں بخوبی معلوم ہے۔ ان کے بتائے راستے سے آگے بڑھیئے۔ اب گلی اور بھی تنگ ہوچکی ہوگی‘ دونوں طرف چولہے جل رہے ہوں گے، شاید پانی اُبل رہا ہوگا یا اس میں چاول بھی پڑچکا ہوگا۔ پلاسٹک‘ گتے اور کچرے سے چولہے میں آگ پھونکنے کی کوشش کررہی بڈھی مائی دِکھ رہی ہوگی۔ آگے بڑھتے جائیے، کوئی ایک چھوٹا بچہ بنا کپڑوں کے گھوم رہا ہوگا۔ نہیں نہیں پولیس کو فون کرنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ بچہ کھویا نہیں ہے۔ یہ اُس کا اپنا علاقہ ہے، اِن گلیوں سے اُس کا اپنے ماں باپ سے کہیں زیادہ واسطہ ہے۔ اب سیدھے چلتے جائیے، ایسے ہی نظاروں سے دوچار ہوتے جائیں گے۔ گھبرائیے مت، آپ کا پتا آگے ہی ہے۔ اِس شہر میں کئی پتے آج بھی ایسے ہیں جہاں ڈاک کی ڈلیوری نہیں ہوتی۔ ایسی جگہیں جگہ جگہ آباد ہیں مگر ہمارے ہاں بھی بیس کروڑ عوام کے درد کا راگ الاپنے والے ہمارے لیڈروں کو اِن جیسی اندھیری گلیوں سے کیا سروکار؟ اِن جیسی کالی بستیوں کے باسی جو انہی تاریکیوں میں پیدا ہوتے ہیں، زندہ رہتے ہیں اور مرجاتے ہیں، کیا اصل میں یہی وہ لوگ نہیں ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ’’وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے‘‘؟ لیکن مفاد بھری نیتوں والے لیڈر اِن تاریک لوگوں کی غربت کی تاریکی کو بھی اپنے حق میں بتاکر اپنی سیاست چمکاتے رہتے ہیں۔ اگلے اقتدار کی چمک دیکھنے کے لئے بڑے شہروں میں سیاسی طاقتوں کے مظاہروں کا چلن عام ہے۔ اپنی سیاسی طاقت دکھانے کے لئے جلسہ گاہ کو جن لوگوں سے بھرا جاتا ہے اُن میں بیشتر ایسے ہوتے ہیں جو ایسی ہی کالی بستیوں سے لائے گئے ہوتے ہیں اور جلسہ ختم ہونے کے بعد انہی بستیوں میں واپس چلے جاتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو کرپشن، ناانصافی اور دھاندلی کے خلاف لیڈروں کی خوشنودی کے لئے زور زور سے تالیاں بجاتے ہیں اور نعرے لگاتے ہیں جس پر سیاست دان اچھل اچھل کر اپنے مخالفین کو للکارتے ہیں اور عوام کے ٹھاٹھیں مارتے اس سمندر کو اپنے ساتھ بتاتے ہیں جبکہ یہی سیاست دان اُن عوام کے ساتھ نہیں ہوتے۔ اگر سیاست دان عوام کے ساتھ ہوتے تو ملک میں ایسی کوئی بستی نہ ہوتی جہاں کے دن بھی تاریک ہوں، جس میں سے گزرتے ہوئے یہ بھی نہ پتہ چلے کہ گلی ہے یا کسی کی رہائش کی جگہ۔ باربار اقتدار کا مزہ اٹھانے کے باوجود 70 برسوں سے زیادتیوں اور ناانصافیوں کا گلہ کرنے والے یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کے اپنے جدید شہر میں ایسی کتنی بستیاں ہیں جہاں کے لوگ گمنام پتا کے رہائشی ہیں، جہاں ڈاک کا لفافہ بھی کھوجانے کے خوف سے جانے سے انکار کردیتا ہے۔ کبھی ایسا ہوکہ ہمارے لیڈروں کو اِن گمنام پتوں والی بستیوں کی سیر کرائی جائے اور کچھ دیر کے لئے اِن سیاست دانوں کو گمنام پتا کا رہائشی بنا دیا جائے۔ کیا کبھی ایسا ہوگا؟ کیا کبھی پینڈولم دوسری طرف بھی جائے گا؟ 

زندگی تیرے تعاقب میں ہم
اتنا چلتے ہیں کہ مر جاتے ہیں