"کتنے بچوں کا قتل کیا ہے؟"

کالم نگار  |  مسرت قیوم

ماحول اور فضا کا اثر تو ہوتا ہے اور جب سر زمین ہو پاک تو باتوں کی چاشنی کا مزا دو آتشہ ہو جاتا ہے۔ ’’پاکستان اور امریکہ ایک دوسرے کی تشویش دور کرینگے‘‘ حالات کا تقاضا بھی ہے۔ پچھلی تاریخ اتنی نرم‘ مہربان نہیں کہ ذہن محو کر دے ۔ 

گزشتہ وقت تمام تر سفاکیت‘ بر بریت کے ساتھ دلوں کو جھنجھوڑتا ہے بلکہ زیادہ دُکھ کہ ہم میں سے کِسی نے سبق نہیں سیکھا۔ موقع تو کوئی اور تھا پر سوال بیحد دلچسپ‘ چبُھتا ہوا۔ ’’شگاگو‘‘ کا شہر ’’جمعتہ المبار ک‘‘ کے مقدس نام پر رچائے جانے والے شاپنگ میلہ کا بائیکاٹ کرتے شہری مشہور ’’ٹریڈ مارکس‘‘ کے شو رومز کے سامنے جا کھڑے ہوئے‘ ہاتھوں میں اُٹھائے بینرز پر تحریر تھا۔ ’’ٹرمپ‘‘ غلط پالیسیاں ختم کرو‘ سیاہ فاموں اور مسلمانوں کی زندگی بھی اہم ہے جو سوال ’’کالم‘‘ کی بنیاد بنا ’’اے شگاگو پولیس آج تم نے کتنے بچوں کا قتل کیا ہے۔‘‘غلط پالیسیوں کا خمیازہ ہی تو ہم بھگت رہے ہیں۔
ہم کیا پوری دنیا کا امن‘ استحکام دائو پر لگا ہوا ہے۔ جِس دن امریکی احتجاج کر رہے تھے اُس دن مصر کی مسجد میں ہلاکتوں کی تعداد ’’305‘‘ ہوچکی تھی۔ دنیا بھر میں بڑھتا ہوا ظلم‘ تشدد دیکھتے ہوئے ہم سوال میں تھوڑی ترمیم کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ ’’اے امریکہ تم نے آج تک کتنے انسانوں‘ بچوں کا قتل کیا ہے‘‘ نائجیریا کی مسجد میں دھماکہ’’50‘‘ سے زائد قیمتی جانیں نگل گیا‘ روہنگیا کے مسلمان دوہری مصیبت کا شکار‘ ایک اپنی حکومت کے ظلم‘ دوسرا ’’مسلم اُمہ‘‘ کی غفلت‘ بے حسی بھوک‘ ننگ سے زیادہ مہلک زہر ثابت ہورہی ہے‘ طاقتور ترین ممالک کی ’’باندی‘‘ اقوام متحدہ مہاجر بچوں کی حالت کو تشویشناک قرار دے چکی۔ ’’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘‘ کی رپورٹ آگئی کہ روہنگیا دیہات کھلے آسمان تلے قید خانے ہیں ’’شام‘‘ کے نہ بوڑھے محفوظ ہیں نہ بچے‘ خونی طیارے آتے ہیں‘ ایک ہی ہلہ میں درجنوں شیر خوار‘ جوان بچے مار کر اپنے اڈوں پر صحیح سلامت اُتر جاتے ہیں کیونکہ اُن کا راستہ روکنے والا کوئی نہیں‘ بمباروں کوکمک اسلامی اُمہ کی دولت‘ افرادی قوت جو پہنچا رہی ہے ۔
ایک امریکی تھنک ٹینک کے مطابق ’’2050‘‘ تک یورپ میں مسلمانوں کی تعداد دگنا ہو جائیگی‘ تارکین وطن کی آمد مکمل طور پر بند بھی کردیں تب بھی ’’30 یورپی ممالک‘‘ میں مسلمان آبادی کا 7.4 فیصد ہو جائینگے۔ اس رپورٹ میں ہمارے لئے خوشی کی کوئی خبر نہیں کیونکہ مستقبل بھی اُتنا ہی تاریک ہے جتنا لمحہ موجود کا‘ ہاں اگر ہم متحد‘ متفق ہوجائیں تو اِس رپورٹ پر گھروں پر چراغاں کرنا چاہئے ۔
ایسی صورت میں یہ خبر یقیناً مٹھائی بانٹنے کا جواز فراہم کرتی ہے تو دوسری طرف سروے کرنے والوں کو زیادہ خوش ہونا چاہئے کہ اُنکی مددگار کمک میں معتدبہ اضافہ ہونے جارہا ہے۔ امریکہ تو ایک طرف‘ اِسکے اتحادی‘ پروردہ ممالک میں ’’انڈیا‘‘ پہلے نمبر پر ہے ۔ پوری ’’مقبوضہ وادی‘‘ زندہ قبرستان بنی ویرانی‘ وحشت کا منظر پیش کررہی ہے‘ غیر انسانی‘ بے رحمانہ سلوک کی انتہا۔ اب کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ’’شہدائ‘‘ کے اجسام شناخت نہیں کئے جا سکے۔ ایسا صرف مُردہ ذہنیت کے حامل افراد ہی کر سکتے ہیں اس لئے ’’انڈیا‘‘ کو کچھ بھی سمجھانا بیکار ہے حیرت تو اُن پر ہے جو عالمی امن کے پرچم بردار بن کر ملکوں ملکوں گھومتے ہیں‘ نام سلامتی‘ آزادی‘ جمہوریت کا لیتے ہیں مگر ہر دورے کا اختتام ’’اربوں ڈالرز‘‘ مالیت کے جنگی ہتھیاروں کی خریداری کے معاہدوں پر ہوتا ہے ۔
نقل کیلئے بھی جہاں عقل کی ضرورت ہوتی ہے وہاں اپنے عوام کی محبت‘ تعاون صرف اُسی صورت حاصل ہوتا ہے جب ریاست اپنے شہریوں کے حقوق کی محافظت کا حق ادا کررہی ہو۔ اپنی عوام کے تحفظ‘ سلامتی‘ معاش کی بہترین نگہبان ہو یہاں تو معاملہ ہی بالکل اُلٹ ہے۔ ’’آزادی‘‘ جو برسوں سے ہر طاقتور کا نعرہ ہے‘ کمزوروں کیلئے مگر کبھی بھی تصویر بدلتی نہیں دیکھی۔ بھارتی فوج نے دنیا کو ڈرامہ دکھانے کیلئے کرکٹ میلہ سجایا مگر انسانی سروں کے مینار پر کھڑے تماشے نے دن کی روشنی میں حق سچ کی آوازیں بلند کر کے جھنڈے لہرا دیئے‘ کِسی کے گھر کا کھانا کھاتے ہوئے میزبان کے منہ پر اُسکے دشمن کی تعریف بہت بڑی شکست ہوتی ہے بلکہ شکست فاش۔ آزادی کا مطالبہ کرتے نوجوان سامنے آکھڑے ہوئے۔ شدید خفت کو مٹانے کا صحیح راستہ تھا کہ ’’72 سالوں‘‘ سے قابض علاقے آئینی حق مان کر کشمیریوں کے حوالے کر دیئے جاتے مگر شاید سرحد کے اُس طرف کا دستور‘ منشور خون کی سیاہی سے لکھا ہوا ہے کہ دریا بہانے سے باز ہی نہیں آرہا۔
اُس طرف بھی اور اِس طرف بھی‘ رات کے اندھیرے اور سخت سردی میں تلاشی کے نام پر پورے شہر کے لوگوں کو (وہ بھی آدھی رات کو) سوتے ہوئے اُٹھا کر کھلے میدان میں گھنٹوں بٹھا دیتے ہیں اور کبھی آپریشن کی آڑ میں ’’4-3‘‘ اکٹھے معصوم بچے شہید کر ڈالتے ہیں۔ ایک دہائی سے زیادہ وقت بِیت چُکا‘ ہم مسلسل نشانہ ستم بنے ہوئے ہیں ۔ جنگ کا عملاً اعلان نہیں ہوا مگر کیفیت‘ حالات جنگ جیسے ہیں‘ کوئی دن نہیں جاتا جب ہمارا کوئی شہر ظلم کا شکار نہ ہو‘ درجن بھر افراد ایک ہی گھنائونی واردات میں ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پشاور اور کوئٹہ سفاکیت کے برپا کردہ خصوصی میدان بنا دیئے گئے ہیں‘ وزیرستان کی سڑکیں خاص طور پر دشمن کی زد میں ہیں۔
آج پاکستان اندوہناک سانحات کو برداشت کر رہا ہے اُس میں ہم خود سے شامل نہیں ہوئے‘ ہم ایک منظم کھیل کا جبری طور پر حصہ بنائے گئے تھے۔ ’’پاکستان ایبٹ آباد میں اسامہ کی موجودگی سے لا علم تھا‘‘ یہ بیان پاکستانی حکومتی عہدیدار کا ہے نہ ہی کِسی اپوزیشن لیڈر کا‘ لمحہ موجود میں دنیا کی طاقتور ریاست کے دو مرتبہ صدر رہنے والے شخص ’’اوبامہ‘‘ کا ہے ۔ قارئین سوچئے تب کے حالات‘ منظر‘ بیانات‘ دھمکیاں‘ وہی مناظر عراق‘ شام پر فوج کشی سے قبل والے مگر سبق نہیں سیکھا‘ نہ ختم ہونے والی دھمکیاں۔ دنیا پاگل پن پر مبنی فیصلوں کی بناء پر پہلے ہی بھڑکتا آتش فشاں بنی ہوئی تھی کہ ایک اور عاجلانہ فیصلہ نے پوری دنیا کو مزید آگ لگا دی۔ مقبوضہ بیت المقدس میں سفارتخانہ منتقل کرنے کا اعلان۔
اقوام متحدہ کی متفقہ پاس کردہ قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی۔ گزشتہ تجزیہ گواہ ہے لکھا تھا کہ کچھ ایسے فیصلوں پر عملدرآمد کروایا جانیوالا ہے جو کہ ’’اُمہ‘‘ کیلئے دشوار مگر ’’عالمی کھیل‘‘ کے پلان کیمطابق ہونگے اس لئے ’’ٹرمپ‘‘ کوکامیاب کروایا گیا۔ اُسکی حرکات‘ افعال نارمل انسانوں جیسی نہیں‘ دنیا بھر میں مذاق اُڑایا گیا مقصد ’’طاقتور قوت‘‘ کو الزام سے بچانا اور یہی تاثر دیا جانا تھا کہ ہم تو پہلے ہی ’’اِس‘‘ کیخلاف تھے جبکہ ہماری رائے میں ’’صدر ٹرمپ‘‘ ایک عقلمند‘ ہوش مند آدمی ہیں۔ دنیا ’’اِن‘‘ کے ساتھ ڈائیلاگ کر کے مزید بحرانوں سے بچ سکتی ہے مگر یہاں تو معاملہ ہی بگڑ گیا۔ اِس میں بھی خیر کا پہلو ڈھونڈ لیں۔ اِسی بہانے ’’اسلامی اُمہ‘‘ متحد تو ہوجائے گی شاید۔