مملکت بحرین اور پیام ہم نوا

کالم نگار  |  عائشہ مسعو د ملک
مملکت بحرین اور پیام ہم نوا

ہمارے دارالحکومت میں صبح ذرا دیر سے طلوع ہوتی ہے حتیٰ کہ گائوں دیہاتوں کے مرغوں اور اسلام آباد کے مرغوں میں بھی فرق ہے۔ یہاں کے مرغے صبح دس بجے کے بعد اذانیں دینا شروع کرتے ہیں لہٰذا پچھلے ہفتے جب میں علی الصبح ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہوئی تو شہر بھر پر سرد مہری کی گھنی چادر بھی تھی اور خاموشی بھی تھی۔ ایئرپورٹ کی رسمی کارروائیوں کے بعد لائونج میں کافی کا مگ ہاتھ میں لے کر مجھے اپنی قومی ایئر لائن کی تباہی کا صدمہ ہوتا رہا جو کسی زمانے میں دنیا کی بہترین ایئر لائن تھی اور ہمیں ابھی تک وہ خوبصورت ایئرہوسٹس اور سمارٹ سٹاف کی تصویریں پرکشش لگتی ہیں اس سٹاف کی تصویروں میں بھی ان کا پرونیشنلزم چمکتا دمکتا دکھائی دیتا تھا مگر پھر سفارش اور اقربا پروری کے کلچر نے اداروں میں ایسے ایسے لوگ بھرتی کروا دیے جو فالتو سامان کی طرح کے تھے اور کئی دیگر وجوہات کے ساتھ اداروں کی تباہی کا باعث بھی بنے… فلائیٹ کا وقت ہو چکا تھا ہم جہاز میں براجمان ہو گئے اور اب یہ بتاتے چلیں کہ یہ سفر مملکت بحرین کی طرف کا تھا جہاں عالمی مشاعرہ منعقد ہو رہا تھا۔ 

یہ دوسرا عالمی مشاعرہ تھا جو ’’لائنس کلب آف رفاع‘‘ کے زیرانتظام تھا کلب کے خورشید علیگ سرگرم اور پرعزم شخصیت ہیں۔ مسلمانان برصغیر پاک و ہند کے محسن اعظم سر سید کے علی گڑھ کی نسبت سے ’’علیگ‘‘ لکھتے ہیں اور اچھے شاعر بھی ہیں ہم نے چونکہ دوبئی سے چار گھنٹے کے وقفہ کے بعد بحرین کی فلائٹ پکڑنا تھی لہٰذا سفر کی طوالت کا وہ لوگ بخوبی انداز کر سکتے ہیں جنہیں دنیا بھر میں سفر کرنا ہوتا ہے۔ بظاہر چھ گھنٹے کا سفر بھی چوبیس گھنٹوں پر محیط ہو جاتا ہے۔ ہم بحرین اترے تو شام ہو چکی تھی۔ ایئرپورٹ سے نکلے تو خورشید علیگ بحرین کے مقامی شاعر فیضی اعظمی کے ساتھ نظر آئے چونکہ مملکت بحرین ایک جزیرہ پر موجود ہے لہٰذا صاف ستھری عمارات اور سڑکوں کے آس پاس سے جھانکتے سمندر کا نیلا پانی اس ملک کی خوبصورتی کو بڑھانے کا باعث ہے۔ ہم نے ہوٹل پہنچنے تک ’’ونڈو شاپنگ‘‘ کی طرح بحرین کا نظارہ کیا۔ خورشید علیگ راستے میں اہم عمارات کے بارے میں معلومات بھی فراہم کرتے رہے اور ساتھ ساتھ فیضی اعظمی کی تعریفیں بھی کرتے رہے۔ ہوٹل پہنچ کر انہوں نے یہ تاکید کردی کہ ہم لابی میں بیٹھے ہوئے ہیں اور آپکے پاس بیس منٹ ہیں کہ کمرے میں سامان رکھ کر اور فریش ہو کر لابی میں آ جائیں کیونکہ ہمیں افروز برلاس کے دولت کدے پر چائے کے ٹائم پر پہنچنا تھا جبکہ اب ڈنر کا وقت ہوا جا رہا تھا۔ ہم نے بھی بھاگم بھاگ سامان کمرے میں پہنچایا اور ’’خاتونی خصوصیات‘‘ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بیس منٹ سے پہلے لابی میں پہنچ کر دکھایا، ہماری اس ادا کو خورشید علیگ نے حیرت کے ساتھ سراہا اور ہم سب افروز برلاس کے گھر کی طرف چل پڑے۔ اب لفظ ’’برلاس‘‘ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے نامور لیجنڈشاعر مرتضیٰ برلاس سے کوئی نہ کوئی ناطہ ضرور ہوگا۔ تو یہ اندازہ درست ہے کیونکہ افروز برلاس مرتضیٰ برلاس کے قریبی عزیز ہیں۔ ٹریفک کے رش کے باوجود خورشید علیگ نے فل سپیڈ سے گاڑی چلاتے ہوئے ہمیں ہمارے میزبانوں تک پہنچایا۔ خورشید علیگ پر بزرگی کے آثار ویسے بھی نہیں ہیں ماشاء اللہ اچھے دکھائی دیتے ہیں مگر ڈرائیونگ وہ نوجوانوں کی طرح کی کرتے ہیں مگر اس میں احتیاط کا عنصر شامل تھا لہٰذا انہیں تجربہ کار اور باصلاحیت ڈرائیور تسلیم کیا جا سکتا ہے اور یہ خصوصیت ان کے اچھے منتظم ہونے کے علاوہ تھی۔ افروز عالم کی بیگم اور بیٹی سے ملاقات بھی بہت اچھی رہی اور سب نے مزے دار ہائی ٹی کو بھی انجوائے کیا۔ خاص طور پر چنوں کی ڈش سب کی پسندیدہ قرار پائی یا پھر شاید بھوک کا عنصر بھی شامل تھا۔ اس دعوت کے بعد رات گئے ہم ہوٹل میں پہنچے تو کمرے میں جا کر گلے کی خرابی کے باعث نیند بھی دیر سے آئی اس پر خورشید صاحب کی بات بھی یاد رکھی کہ صبح دس بجے سے پہلے ناشتہ کیلئے پہنچ جائیں تو ناشتہ ملے گا اگلے دن دوپہر کو دو خوبصورت خواتین ہمیں گھمانے پھرانے لے گئیں اور یہ میزبانی کلب کے صدر سنجے گپتا کی طرف سے تھی ہم نے خواتین کے ساتھ تیز رفتار دورہ کیا اور یوں اس لئے تھا کیونکہ شام سات بجے ہمیں اس تقریب میں شرکت کرنا تھی جس کی وجہ سے ہم بحرین میں آئے تھے اور طبیعت کی خرابی میں ضروری تھا کہ کچھ دیر آرام ہی کر لیا جائے۔ شام سات بجے ہم خوبصورت ہوٹل کے اس ہال کی طرف روانہ ہوئے جہاں تقریب منعقد ہونا تھی۔
بحرین میں ان دو دنوں میں ٹریفک کا رش تھا کیونکہ جیولری کی نمائش جاری تھی اور آس پاس سے بہت سارے لوگ آئے ہوئے تھے لہٰذا ہمیں ذرا جلدی ہال تک پہنچایا گیا۔ اور اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ہال کے ساتھ منسلک چھوٹے ہال میں چائے اور دیگر لوازمات کے ساتھ مختلف لوگوں سے گپ شپ کا موقع بھی مل گیا جن میں بحرین کی ممتاز تنظیم ’’ثقافہ‘‘ کے منتظمین بھی شامل تھے۔ چائے کے دوران ہال میں کثیر تعداد میں سامعین جمع ہو چکے تھے۔ لہٰذا شعراء کو سٹیج پر بلایا گیا اور مشاعرہ سے پہلے ابتدائی مرحلے میں ’’لائنس کلب آف رفاع‘‘ کی سالانہ کارکردگی اور ایوارڈز اور شیلڈز دینے کا سلسلہ تھا اور اس کے بعد خورشید علیگ کے شعری مجموعہ ’’آنکھوں میں سمندر‘‘ کی مختصر تقریب رونمائی کے بعد مشاعرہ کا آغاز تھا پہلے حصے کی نقابت وینا جبکہ مشاعرے کی نظامت منصور عثمانی نے کی اور دونوں ’’ناظم‘‘ ہی بہترین تھے کیونکہ تقریب کو احسن طریقے سے آگے بڑھانے کی ذمہ داری کسی ناظم پر ہی ہوا کرتی ہے۔ سامعین اور کلب کے ممبران کو مشاعرے کے شروع ہونے کا انتظار تھا۔ تقریب میں اطلاعات کے محکمے کی خاتون منسٹر بھی موجود تھیں جنہوں نے کلب کے ممبران کو شیلڈز اور ایوارڈ دینے تک شرکت کی اور اس فلاحی آرگنائزیشن کے چیرٹی کے کاموں کو سراہا۔ مشاعرہ شروع ہوا تو مقامی شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔ ان میں احمد عدیل بھی تھے جو کہ کراچی آرٹس کونسل کے ہردلعزیز ڈائریکٹر ندیم کے عزیز تھے۔ باہر کے ممالک میں ملکوں کی سیاست سے ہٹ کر رنگ برنگے پھولوں کا ایسا گلدستہ دکھائی دیا کرتا ہے جو خلوص کی ناٹ گرہ سے بندھا ہوتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے اب ملکوں کی سیاست سے ہٹ کر صحافت‘ ادب اور ثقافت کو دیکھنا پڑے گا تاکہ غاصبانہ رویے ختم ہو سکیں۔
مشاعرہ مصور عثمانی کی نظامت اور اسلم بدر کی صدارت میں شروع ہوا۔ مقامی شعراء میں فیضی الحلمی‘ کپل مہترا‘ خورشید علیگ احمد عادل کے بعد سعودی عرب سے محمد سلیم حسرت‘ سید باقر علیگ‘ کویت سے افروز عالم‘ ہندوستان سے ڈاکٹر سروش‘ لتا حیا کے ساتھ لاہور سے ندیم بھابھہ اور اسلام آباد سے آنے والوں نے کلام پڑھا۔ سامعین نہایت سخن شناس تھے۔ اچھے کلام پر خوب داد دیتے تھے۔ صبح تین بجے تک مشاعرہ جاری رہا۔
تقریب میں مختلف تنظیموں خاص طور پر ’’ثقافہ‘‘ کی شرکت نے ہی تقریب کی خوبصورتی اور یکجہتی میں اضافہ کیا۔ ’’لائنس کلب آف رفاع‘‘ مملکت بحرین میں منعقد ہونے والی اس تقریب کا عنوان ’’پیام ہم نوا‘‘ بھی تھا۔ دراصل ’’پیغام‘‘ اور ’’پیام‘‘ میں ہی فرق محسوس ہوتا ہے۔ پیغام سخت الفاظ میں دیا جا سکتا ہے جبکہ لفظ ’’پیام‘‘ کے ساتھ محبت کا احساس جڑا محسوس ہوتا ہے اور اگر یہ پیام ہم نوائی لئے ہوئے ہو تو اس کی چاشنی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس تقریب میں بھی ہم نوائی کا پیام موجود تھا۔ کوئی بھی تقریب برپا کی جائے اس میں منتظمین کی محنت شامل ہوتی ہے۔ کلب کے صدر اور پھر خورشید علیگ کی محنتوں کا نتیجہ تھا کہ اتنا کامیاب مشاعرہ منعقد ہو سکا۔
تقریب کے اختتام پر ہم ہوٹل واپس آئے اور کچھ دیر میں ہی ایمرجنسی میں ڈاکٹر سے دوا بھی لینا پڑی کیونکہ گلے کی خرابی اب گلے پڑ چکی تھی۔ اگلے دن شام کو واپسی پر طاہر عظیم کی رفاقت میں ائرپورٹ تک کا سفر کیا۔ ہم نے طاہر عظیم جیسے اچھے شاعر اور ’’لائنس کلب آف رفاع‘‘ کی یادوں کو سمیٹ کر اپنے ملک واپسی کا رخ کیا۔ مملکت بحرین چھوٹا سا خوبصورت ملک ہے۔ خدا تعالیٰ وہاں کے امن و سکون کو ہمیشہ برقرار رکھے۔ (آمین)