کچھ ’’دھرنے‘‘ کے بارے میں!

کالم نگار  |  سید روح الامین
کچھ ’’دھرنے‘‘ کے بارے میں!

یہ بات تو واضح ہے کہ حلف نامے میں تبدیلی غلطی سے نہیں ہوئی بلکہ جان بوجھ کر کی گئی۔ ختم نبوت جوکہ قرآن مجید اور احادیث نبویؐ سے بھی ثابت ہے۔ پھر اسے کیوں چھیڑا گیا؟ کیا غیرمسلموں کو خوش کرنا تھا؟ یا کوئی اور وجہ یہ تو حکومت ہی بتا سکتی ہے۔ بہرحال جب اس کے خلاف واویلا ہوا تو اُسے تبدیل کرکے اصل صورت میں بحال بھی کر دیا گیا۔ اب دھرنے کا جواز کیا تھا؟ اگر مقصد صرف وزیر قانون کو ہٹانا تھا تو اور بھی کئی طریقے تھے۔ ختم نبوت تو بلاشبہ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ قرآن پاک میں حکم ربی ہے ’’محمدؐ مردوں میں کسی کے باپ نہیں مگر وہ اللہ کے رسول اور آخری نبیؐ ہیں‘‘ حضورؐ نے خود کئی مرتبہ ارشاد فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔ اگر مطالبہ صرف وزیر قانون کو ہٹانا تھا تو حکومت کی چونکہ غلطی بھی اپنی تھی تو ضد کرنے کی بجائے یہ مطالبہ مان لیا جاتا۔ 19روز عوام کو مصائب برداشت کرنے پڑے پھر تشدد بھی ہوا۔ کئی افراد شہید بھی ہوئے۔ زخمی بھی ہوئے۔ پولیس والے بھی مسلمان تھے بہرحال ان کی ڈیوٹی تھی۔ کیا دھرنے کے مقاصد صرف مذہبی تھے یا سیاسی بھی؟ پیر افضل قادری نے دھرنے میں واضح کہا کہ اگلے انتخابات میں ہماری تحریک الیکشن میں بھرپور حصہ لے گی۔ علامہ خادم حسین رضوی نے تمام سیاسی پارٹیوں بشمول عدلیہ کے لئے انتہائی گندی زبان استعمال کی یہ ایک انتہائی تکلیف دہ بات ہے۔ اسلام مسلم سے ہے جس کے معنی سلامتی امن کے ہیں۔ خاتم النبینؐ نے کبھی بھی حیات مبارکہ میں کسی کو گالی نہیں دی۔ کسی کی عزت نفس کو مجروح نہیں کیا۔ طائف والوں نے اتنے پتھر برسائے کہ نعلین مبارک بھی خون مقدس سے بھر گئے۔ جبرائیلؑ نے کہاکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اگر آپ فرمائیں ان کو برباد کر دیں فرمایا یہ نہیں جانتے کہ میں کون ہوں۔ آپؐ کا ارشاد ہے کہ ’’مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس کے ساتھ لڑنا جھگڑنا کفر ہے‘‘۔ ’’ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں‘‘ لگتا ہے کہ دھرنے کے پیش نظر سیاسی مقاصد کی اہمیت زیادہ تھی اور اگلے الیکشن کے لئے راہ ہموار کی جا رہی تھی۔ 19روز مسلسل حکومت کی ناکامی کے بعد وزیراعظم نے جنرل باجوہ سے ملاقات کی۔ دھرنے کو ختم کرانا مقصود تھا۔ جنرل باجوہ نے افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کرنے کی تجویز دی جو انتہائی مستحسن اور قابل تعریف تھی۔ بہرحال فوراً TV چینلز بھی کھول دئیے گئے وزیر کو ہٹا دیا گیا۔ حکومت کے لئے یہ سب کچھ شرمندگی کا باعث تھا۔ فوج کے بارے متفرق اور متضاد بیانات سامنے آئے۔ جسٹس قاضی امین نے دھرنا ختم کرانے میں فوج کے کردار کو سراہا۔ دھرنے میں فوج نے خونریزی سے ملک کو بچایا ہے تو یہ خوش آئند بات ہے۔ دھرنا طول پکڑتا خانہ جنگی کا منظر دیکھنے کو ملتا‘ سینکڑوں نعشیں گرتیں کیا یہ مناسب تھا ؟ انسانی جان سے قیمتی کچھ بھی نہیں ہے۔

ہمارے ہاں آئے روز بلاجواز دھرنے دئیے جاتے ہیں۔ دوسروں کے لئے مشکلات پیدا کی جاتی ہیں۔ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جو حکومت یا سیاسی پارٹی آئینی کام نہیں کرتی‘ لوٹ مار ہی اس کا واحد مقصد ہو ‘ عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے ان میں اضافہ کرتی ہو‘ ہمارے ازلی دشمن انڈیا کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہو۔ قیام پاکستان کے مقاصد کو بروئے کار لانے کی بجائے ان سے انحراف کرتی ہو‘ ایسی سیاسی پارٹی کو الیکشن میں نظر انداز کر دیں۔ ان کی جھوٹی باتوں اور دلاسوں میں وقتی طور پر نہ آئیں۔ موجودہ حکومت کے یہ پانچ سال بھی افراتفری کی نذر ہو گئے۔ عوامی مسائل جوں کے توں ہیں۔بہرحال حالیہ دھرنے کا مقصد اگر صرف مسئلہ ختم نبوت کو اجاگر کرنا ہوتا۔ دھرنے میں اخلاقی قدروں کی پاسداری ہوتی۔ مناسب الفاظ استعمال ہوتے تو اسے زیادہ عزت ملتی۔ اب اگلے الیکشن میں دھرنے کے ’’ثمرات‘‘ سامنے آتے ہیں یا نہیں یہ وقت بتائے گا۔