پاک فوج سے دوری کیوں؟

پاکستان بنے۷۰ سال کا عرصہ بیت چکا ہے ۔ ہم تاریخ کے انتہائی مشکل ادوار سے گزر کر مسلم ممالک کی واحد ایٹمی قوت بنے ۔ دشمن روز اول سے ہمارے وجود کے مٹا نے کے درپے ہیے ان کا اکھنڈ بھارت کا خواب تشنہ تکمیل ہیے ۔دشمنوں کی سازشو ں ، فریب کاریوں ریشہ دوانیوں کے با وجود اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان دفاعی اعتبار سے مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے۔ جنگ دہشتگردی میں افواج پاک نے جس عزم و ہمت کے ساتھ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اکثر محاذ پر دشمنوںکو ہزیمت سے دوچار کیا ۔ وہ پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا عالمی سطح پر ادراک ہے۔ اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ انسان کی سب سے قیمتی متاع، جان ہے ۔ اور اس کی قربانی جس مقصد کے لیے دی جاتی ہے وہ اس سے بھی بلند ،دفاع وطن ہے۔مادر وطن کو جب بھی ضرورت پیش آئی ہے اس دھرتی کے فرزندون نے نذرانہ پیش کر کی ناموس وطن کی لاج رکھی۔ آپ اپنے شہیدوں کے نام لے لے کر ان کے کارناموں پر سینہ تان کر کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنی دھرتی کی خاطر جان دے کر ارض وطن کو محفوظ بنایا ۔یہ بہادر، نڈراور جری موت سے کبھی خائف نہیں ہوئے ۔ 

؎ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں
ہمارے شہدا میں ہر جانباز پیکر عزم ووفا تھا ۔ باصلاحیت اور با کردار تھا ۔ جذبہ حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اس کے لیے ذرات وطن اس کے ایمان کا جزو تھا ۔ وہ زندگی کے انمول سانس ناموس وطن پر لٹانے کو تیار تھا کیونکہ
؎آیا ہے تو جہاں میں مثٓال شرار دیکھ
دم دے نہ جائے ہستی نا پائدار دیکھ
وہ ناپائدار ہستی کو مٹاکر شہادت کی ابدی نعمتوں کا متمنی تھا ۔کیپٹن اسفندیار شہید حسن ابدال کیڈٹ کالج میں میرٹ حاصل کرتے ہوئے ڈاکٹر بننے کی بجائے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کی فضاء میں جا اترا ۔ اعزازی تلوار حاصل کرنے کے بعد تمام کورسز میں شاندار کارکردگی سمیٹتے ہوئے پشاور دہشت گردوں پر غضب بن کر ٹوٹا اور ارض وطن پر نثار ہوا ۔ آپ جس شہید کی داستان جانفروشی پڑھیں گے آ پ کا سینہ تفاخر سے چوڑا اور گردن بلند ہو جائے گی۔ یہ کون لوگ ہیں یہ ہمارے ہی بیٹے ، ہمارے ہی رشتہ دار ، ہمارے ہے محا فظ اور ہماری امیدوں کے پاسبان ہیں ۔
حیرت کی بات ہے کہ ہماری سیاسی اشرافیے کے فرزند تو یورپی ممالک ، مشرقی وسطئی اور امریکہ میں کاروبارمیں اربوںاور کھربوں میں کھیلں حد یہ ہے کہ یہاں کی دولت کو منی لانڈرنگ کے ذریعے لوٹ کر لے جائیں ۔ اپنے ملک میں کاروبار پر بھی نہ لگائیں اور جب زبان کھولیں تو فوج پر تنقید کرتے رکیں نہیں ۔ یہ احسان فراموشی ، نا عاقبت اندیشی اور وطن سے غداری کے مترادف ہے۔ آپ ان شہدا کے ورثاء ، لواحقین اور عزیز و اقارب کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہیں۔ جنہوں نے سیاہ چین کے بلند و بالا پہاڑوں کو اپنے خون سے رنگین کیا جنہوں نے مغربی محاذ پر نت نئی قربانیوں سے آ پ کو دولت ارض پاک لوٹنے کا موقع دیا ۔ چالیس پچاس ہزار تنخواہ لینے والا کپتان ٓاپ کا محافظ ہے ۔ ذرا گن کر تو بتائیں کتنے شرفاء کے فرزند ان ارجمند فوج کا رخ کرتے ہیں ۔ قربانی دنیا تو درکنار فوج میں بھرتی ہونا بھی ان کے خیالوں میں نہیں بستا۔ صرف زبان درازی ان کے حصے میں ہے۔
جمہوریت کا ڈھنڈورا صبح شام پیٹا جاتا ہے لیکن اسکی تعریف تو عوام کی حکومت، عوام کی خاطر، اور عوام کے ذریعے ہوتی ہے۔ لوگ پاکستانی جمہوریت میں صرف پیسہ بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ورنہ یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل بے روزگاری کے گرداب میں پھسنے ہوئے ہیں۔ تربت میں ۲۰ نوجوانوںکا بے دردی سے قتل جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے متلاشی روزگار دیار غیر جانے کے سہانے خواب تربت میں موت نے چھین لیے ۔ سعودی عرب میں ایک ہزار ریال پر کام کرنے والے مزدور مسجد نبوی میں ظالم حکمرانوں کو بد دعائیں دیتے ہیں ۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ماشل لاء کسی لحاظ سے بھی پاکستانی عوام کا مقدر نہیں ہے۔ ڈکٹیٹروں نے بھی سیاسی جتھہ ساتھ ملا کر ملک کا ستیا ناس کیا۔ پاک دھرتی پر مکے لہرانے والا ڈکٹیٹرآج پائون رکھنے کے قابل نہیں ۔یہ ایسا سبق ہے جو ہرڈکٹیٹر کے سامنے ہونا چاہیے لیکن سیاسی ڈکٹیٹر بھی تو صرف اپنی اولاد اپنے خاندان او ر بددیانت سیاسی اشرافیہ کے مفاد کو مد نظر نہ رکھیں ۔ کہاں گئے شہنشاہ ایران صدام حسین او ر کرنل قذافی
؎ مٹے نامیوں کے نشاںکیسے کیسے
اگر عادل حکمران اپنی رعایا کی فلاح و بہبود کی فکر کرے ، معاشرے میں انصاف قائم رکھے ۔ہر طبقہ فکر کے بارے میں پا لیسیاں بنائے تو کبھی بھی کسی طبقے میں رنجشیں جنم نہیں لیتیں ۔ حضرت عمر ؓ ایک دفعہ اونٹوں کی منڈی میں چکر لگا ررہے تھے وہاں بڑے فربہ اونٹ نظر آئے پوچھا یہ کس کی ملکیت ہے جواب ملا آپ کے بیٹے کے ہیں ۔ فوراً بیٹے کو طلب کیا اور اس سے پوچھا آپ نے یہ کہاں رکھے ہوئے تھے تو انہوں نے بتایا گورنر مصر کے پاس تھے ، انہوں نے پوچھا کیا کسی اور کے اونٹ بھی وہاں کی چراگاہوں میں چرتے تھے انہوں نے نفی میں جواب دیا ۔پھرپوچھا کتنا ان کے اونٹون کے خریدنے پر خرچ ہوا ۔ فاروق اعظم ؓ نے حکم دیا خرچ کی ہوئی رقم وصول کر کے باقی بیت ا لمال میں جمع کر ا دو اس پر سب مومنیں کا حق ہے یہ تھا عدل فاروقی ؓ۔ آج حکمرانوں کی لوٹی ہوئی دولت کی نشانیاں عرب وعجم میں لندن فلیٹس اور دوسرے محل کی صرت میں نظر آتی ہے۔
؎ متاع بے بہا ہے درد و سوزآرذو مندی
مقام بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی