انسانیت کو مل گئی معراج آپ ؐ سے

ربیع الاول کے بابرکت ماہ کی 11تاریخ کو ایک تعلیمی مشن کے سلسلہ میں تحصیل جنڈ کے صدر مقام پر ملک حفیظ اللہ کی میزبانی میں چند گھنٹے گزارنے کا اتفاق ہوا۔ طاہر درانی اور کپتان(ر) عمر فاروق بھی ہمرا ہ تھے میزبان ہمیں دوپہر کے کھانے کے لیے مقامی ریستو ران میں لے گئے آرڈر بھی دے دیا کپتان (ر)عمر فاروق نے پیر آف چورہ شریف کے متعلق کچھ پوچھنا چاہا تو میزبان ملک حفیظ اللہ نے فون پر بات کی اور ہمارے متعلق بتایا اور دوسری طرف سے پیر سیدسعادت علی شاہ آف چورہ شریف فر ما رہے تھے کہ آپ فی الفور یہاں تشریف لائیں اور لنگر کا اہتمام یہاں ہوگاحکم حاکم مرگ مفاجات کے مصداق چورہ شریف پہنچے پیر سید سعادت علی کے سینکڑوں مریدین لنگر سے استفادہ کر رہے تھے او ر اسی رات بارہ ربیع الاول کے حوالہ سے خصوصی عبادات و ذکر و اذکار کا بھی اہتمام تھا جن میں ملک بھر سے دور دراز علاقوں سے مریدین قافلوں کی صورت میں تشریف لا رہے تھے پیر سید سعادت علی نیک سیرت باوقارعلمی شخصیت ہیں اور روائتی پیروں فقیروں کی بجائے اصلی خانقائی نظام کے قائل ہیں اور توحید و رسالت کے حوالہ سے ان سے جو ایمان افروز گفتگو ہوئی ہے امید ہے کہ قارئین اس سے ضرور استفادہ کریں گے۔ بارہ ربیع الاول کے بابرکت دن کے حوالہ سے یوں فرمایا۔ 

؎ انسانیت کو مل گئی معراج آ پ ؐ سے
وجہ فروغ عظمت انسان حضور ؐ ہیں
رسول اکرم ؐ کی پیدائش سے پہلے ہر طرف جہالت اور گمراہی پھیلی ہوئی تھی عرب کے لوگ ایک خدا کے بجائے بتوں، چاند ،سورج اور ستاروں کی عبادت کرتے تھے ایسے میں ربیع الاول کا چاند طلوع ہوا اور 12ربیع الاول بروز پیر آپ ؐپیدا ہوئے آپ ؐ کی پیدائش سے عرب والوں کو روشنی اور ہدایت کا ایک بہترین نمونہ ملا آپ ؐ کے والد محترم تو آ پؐ کی پیدائش سے چھ ماہ پہلے ہی وفات پا چکے تھے ۔ آ پ ؐ کے دادا نے آ پؐ کا نام محمد ؐرکھا جس وقت کچھ بڑے ہوئے تو عرب کے دستور کے مطابق حضرت حلیمہ سعدیہؓ نے آپؐ کی پرور ش فرمائی آپ ؐبچپن ہی سے عام بچوں سے بہت مختلف تھے اور کوئی خراب عادت آ پ ؐ میں نہ تھی ۔
؎زندگی کے ہمیں آداب سیکھانے والے
آدمی سے ہمیں انسان بنانے والے
ابن آدم کو دیا تو نے مساوات کا درس
فرق طبقات و قبائل کو مٹانے والے
نبوت سے قبل آ پ ؐ نے اپنی عمر پورے چالیس سال اپنی قوم کے سامنے گزاری آپ ؐ کی زندگی کے شب و روز پورے عرب کے سامنے تھے ۔آپ ؐ کی چالیس سالہ زندگی صداقت ، دیانت اور خدمت خلق کی ایک مسلسل کہانی ہے ۔ آ پ ؐ کے بڑے بڑے دشمن کو بھی آ پ ؐکی ذات اقد س میں عظمت و بڑ ائی ہی نظر آئی۔ اسی لیے ہر خاص و عام آ پؐ کو صادق اور امین کے لقب سے پکارتے تھے۔ آ پؐ کی ذات اقدس ہی ایک جامع اور کامل ہستی ہے ۔آپؐ دنیا کے انسانوں کی اصلاح او ر تربیت کے لیے تشریف لائے اور تعلیمات کی سچائی کا کمال ہے کہ آپؐ کی ایک ایک حرکات اور آ پ ؐ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ ہمارے لیے علم و ہدایت کا سرچشمہ ہے آپؐ کی تعلیمات کا مقصد یہ ہے کہ عمل و اخلاق کی اصلاح کی جائے اور اچھے کام مثلاً تقویٰ ، احسان ، درگزر ، عز م واستقلال اور عزت کی عملی تعبیر پیش کی جائے تاکہ انسانی کردارکی تعمیر ہو سکے آپ ؐ کی ایک ایک ہدایت پر عمل کر کے ہم کامیاب زندگی اور آخرت کی سرخ روئی کا سامان بنا سکتے ہیں اور قیامت کے دن خدا کے سامنے بھی سرخ رو ہو سکتے ہیں ۔ پیر سید سعادت علی سیرت رسول ؐ کے حوالہ سے نہایت لطیف پیرائے میں اپنی گفتگوجاری رکھے ہوئے تھے کہنے لگے کہ یہ 12 ربیع الاول ہی کا مبارک دن تھا جب فاران کی چوٹیوں سے وہ سورج طلوع ہوا جس نے ظلمت کی ہر سیاہی مٹا دی ۔
؎ وہ اٹھا خاک بطحا سے سعادت کا امیں ہو کر
علمبردار حق ہو کر سپہ سالار دین ہو کر
بارہ ربیع الاول وہ دن ہے میرے سرکار کے ظہور کا دن، رحمت الٰہی کے نزول کا دن ، مساوات انسانی کے قیام کا دن، آپ ؐ ہی تو تھے جنہوں نے امتیازی نسل کو ختم کیا ، آپ ؐ تو تھے جنہوں نے عورت کو نہ صرف زندہ رہنے کا حق دیا بلکہ عزت و احترام کی مسند ٹھایا۔ محسن انسانیت ، صاحب التاج والمعراج ہمارے پیارے آقاؐ ہی تھے جنہوں نے انسانوں میں رنگ و نسل کے امتیاز کو ختم کیا انہوں نے صاف کہا کہ کالے کو گورے پر اور کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں، آپؐ نے غلاموں کے ساتھ بھائیوں کا سلوک کیا اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے بدلہ نہ لیا ، نہ کسی کا دل توڑا اور دوستوں کے لیے رئوف الرحیم اور دشمنوں کے لیے کریم و رحیم ، انتقام کے بدلے احسان فرماتے یہی انسانیت کی معراج ہے ، آپؐ وہ تھے کہ آپؐ کا نور ، نورخورشید سے افضل ، آپ ؐ کا علم علم یقین ، آپؐ کا مذہب تمام مذاہب سے بلند ، آپؐ کا عمل خدا کا حکم ، آپؐ کی تعلیما ت انسانیت کی سر بلندی الغرض قصہ مختصر ''بعد از خدا بزرگ تو ہی قصہ مختصر''
پیر سید سعادت علی نے اپنے آستانہ کے قریب ہی مذہبی و عصری علوم کے فروغ کے لیے مجوزہ جگہ دکھائی جہاں پہ مستقبل قریب میں تشنگان علم اپنی علمی پیاس بجھا سکیں گے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں شرک و بدعات سے محفوظ رکھے اور کالی کملی والے کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل ہی سے دنیا و آخرت کی کامیابی ہے ۔