شہرہ آفاق قصہ(2)

لہذا اس نے اپنے ماں جائے کی محبت اور اپنے عشق کو بچانے کے لیے کشت و خوں کے بجائے یہ فیصلہ کیا کہ بھائی کی منت سماجت کر کے اسے اس بات پر راضی کر لے گی کہ وہ بخوشی اسے مرزا کے ساتھ بیاہ دے۔ یہ سوچ کر اس نے مرزا کے جاگنے سے پہلے ہی تیر کمان وہاں سے ہٹا دیا۔جونہی مرزا کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ صاحباں کے بھائی اس کے سر پر پہنچ چکے تھے۔وہ مقابے کے لیے اٹھا مگر ہتھیار نہ پا کر سخت پریشان ہوا۔ صاحباں بھائیوں کے قدموں میں گر کر رحم کی بھیک مانگنے لگی مگر اس کے ایک بھائی نے مرزا کو قتل کر دیا جبکہ صاحباں نے ایک روایت کے مطابق صدمے کے باعث خود کشی کر لی۔ایک دوسری روایت کے مطابق بھائیوں نے اس کو بھی موقع پر قتل کر دیا تھا۔پیلو کا یہ منظوم قصہ آر۔سی ٹیمپل نے اپنی کتاب ـ’’ The Legend of Punjab ‘‘ میں شامل کیا ہے۔جبکہ پیلو کے بعد حافظ برخوردار نے بھی اس قصے کو تحریر کیا ہے۔حافظ برخوردار پیلو کا شاگرد تھا۔پیلو کی تحریر کردہ قصے کی تدوین ڈاکٹر فقیر محمد فقیر نے 1989 اور ڈاکٹر اختر جعفری نے 1991 میں کی۔یہ قصہ برصغیر پاک و ہند میں فلمایا بھی جا چکا ہے۔

نہ اساں بھیرے آوناں ، نہ آون دی نیت
تلوں ٹرن کیڑیاں ، اُتوں چوئے مسیت
پیلو نے پچانوے برس کی عمر میں 1675 میں دنیائے فانی کر خیر آباد کہا۔ضلع چکوال کے شمال میں 18 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں مہرو پیلو میں آج بھی ان کا مزار مرجع خلائق عام ہے۔ دھنی لہندی اور پوٹھوہاری زبان پر مشتمل یہ منظوم قصہ عالمگیر شہرت کا حامل ہے مرزا صاحباں کے چند اشعار پیش خدمت ہیں۔
چڑھدے مرزا خان نوں جٹ ونجھل دیندا مت
بُٹھ رناں دی دوستی کھُری جناں دی مت
ہس کے لاندیاں یاریاں رو کے دیندیاں دس
پئے پٹاون یار دے سینے دے کے لت
(ختم شد)